لاڑکانہ میں ایڈز متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد میں اضافہ

شیئر کریں:

لاڑکانہ سے شہزاد علی خان کی خصوصی رپورٹ

بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب لاڑکانہ میں ایڈز بے قابو، ایچ آئی وی ایڈز متاثرہ حاملہ خواتین کی تعداد میں اضافہ، عطائی لیڈی ڈاکٹرز چانڈکا سول اسپتال لاڑکانہ کے اندر سے اپنی کلینکس چلانے لگ گئیں، بھاری معاوضے لے کر اسپتال انتظامیہ خاموش تماشائی، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام بھی ڈیڈھ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ایچ آئی وی مریضوں کی اسکریننگ مکمل کرنے میں ناکام، عالمی ادارہ صحت بھی سندھ حکومت، لاڑکانہ اسپتال انتظامیہ، اور سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی مجموعی کارکردگی پر نالان، پول کھلنے کا خطرہ متعلقہ اداروں کے افسران صحافیوں کو ایچ آئی وی متاثرین کے مکمل اعداد و شمار دینے سے گریزان، ڈبلیو ایچ او وفد کو بھی صحافیوں سے ملنے سے روک دیا

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب لاڑکانہ کی تحصیل رتودیرو میں اپریل 2019 میں دنیا کا سب سے بڑا ایچ آئی وی آئوٹ بریک سامنے آیا تھا جسے پہلے پہل سندھ حکومت اور ایڈز کنٹرول پروگرام ماننے سے انکار کرتے رہے تاہم بے پناہ کیسز سامنے آنے کے باعث سندھ حکومت نے رتودیرو تحصیل کی مکمل آبادی کی اسکریننگ کا فیصلہ کیا، تاہم ڈیڈ سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی اسکریننگ کا عمل مکمل نہیں کیا جاسکا ہے، ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق سندھ میں کراچی کے بعد سب سے زیادہ ایچ آئی وی ایڈز متاثرین کی تعداد لاڑکانہ میں ہے تاہم آج تک اسکریننگ مکمل نہ ہونے باعث سینکڑوں کیسز غیر رجسٹرڈ ہیں،

ذرائع سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق لاڑکانہ ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر اور رتودیرو ٹریٹمنٹ سینٹر پر رجسٹرڈ حاملہ خواتین کی تعداد بھی سینکڑوں میں جا پہنچی ہے جن کا علاج کیا جارہا ہے، تاہم معاشرتی رویوں کے باعث سینکڑوں خواتین ایسی ہیں جو کہ ابھی تک مرض چھپانے کو ترجیح دیتی ہیں اور کسی مستند گائیناکالوجسٹ سے علاج اور ڈلیوری کروانے کی بجائے دیہی علاقوں سمیت گرد و نواح کے شہروں میں موجود عطائی لیڈی ڈاکٹرز اور دائیوں سے ڈلیوری کروا رہی ہیں جس کے باعث مرض ایک مخصوص خطے سے دیگر علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے تاہم نا تو سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے موبائل اسکریننگ کی جارہی ہے اور نا ہی ایچ آئی وی متاثرہ حاملہ خواتین کو رجسٹرڈ ہونے کے باوجود پابند کیا جاتا ہے کہ وہ صرف ایچ آئی وی ٹریٹمنٹ سینٹر پر خاص ایس او پیز کے ساتھ ڈلیوری کروائیں دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ماضی میں عطائی ڈاکٹروں کی سیل کردہ ڈیڈھ سو سے زائد کلینکس بھی ذرائع کے مطابق بھاری معاوضے ادا کرنے کے بعد دوبارہ فعال ہوچکی ہیں اور تمام غیر محظوظ میڈیکل پریکٹسس معمول کے مطابق چل رہی ہیں،

رتودیرو میں آئوٹ بریک کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے رتودیرو ٹریٹمنٹ سینٹر کے افتتاح پر متاثرین کی مدد کیلیے ایک ارب روپئے کے انڈومینٹ فنڈ کا اعلان کیا تھا جبکہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کو سندھ حکومت الگ سے سالانہ 60 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ دیتی ہے جبکہ عالمی ادارے بھی ٹیسٹنگ اسٹرپس، انفراسٹرکچر، مشینری اور تربیت کی مد میں گزشتہ 19 ماہ میں کروڑوں روپئے کی امداد سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کو دے چکے ہیں تاہم حکومت اور عالمی اداروں کی مکمل مالخ معاونت کے با وجود سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام نہ صرف ایچ آئی وی متاثرین کو مکمل علاج فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے بلکہ اسکریننگ کا عمل بند ہونے متاثرین کے خاندانوں کی کائونسلنگ نہ ہونے کے باعث نہ صرف سینکڑوں کیسز غیر رجسٹرڈ ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کی بھی معاشرے کے منفی اور حقارت آمیز رویوں کا سامنا ہے،

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ذرائع کے مطابق حاملہ ایچ آئی وی رجسٹرڈ خواتین کی تعداد سینکڑوں تک جا پہنچی ہے تاہم کارو کاری جیسی روایات کے خوف سے کئی خواتین اور خاندان اپنے مرض کو چھپاتے ہیں اور یہ تعین ہی نہیں کیا جاتا کہ عورتوں میں وائرس ٹرانسمیشن کا ذریع کیا ہے، جبکہ ایسی خواتین گائیناکالوجسٹس سے علاج اور ڈلیوری کروانے کی بجائے دائیوں اور عطائی لیڈی ڈاکٹرز کی کلینکس پر جاتی ہیں جبکہ ذرائع کے مطابق متعدد عطائی لیڈی ڈاکٹرز کی کلینکس چانڈکا سول اسپتال میں قائم رہائیشی کوارٹرز میں چل رہی ہیں جس پر اسپتال انتظامیہ خاموش تماشائی ہے جبکہ کراچی کے بعد سندھ میں سب سے زیادہ ایچ آئی وی متاثرہ کیسز لاڑکانہ ضلع میں ہیں ماہرین کے مطابق اگر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو آئیندہ 5 سالوں میں ایچ آئی وی کے سب سے زیادہ کیسز لاڑکانہ میں ہونگے،

دوسری جانب اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ایڈوائیزر اور ایچ آئی وی کے علاج کی ماہر ڈاکٹر جومانہ ہرمز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ چند روز قبل لاڑکانہ اور رتودیرو میں قائم 4 ٹریٹمنٹ سینٹرز کا دورہ کیا تاہم ڈاکٹر جومانہ ہرمز کے دورے سے دو قبل سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ ڈاریکٹر ڈاکٹر ثاقب شیخ لاڑکانہ پہنچے اور سینٹرز کی صفائی ستھرائی سمیت تمام انتظامات کی نگرانی خود کرتے رہے، جبکہ اسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ ڈاکٹر ارشاد کاظمی اور سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے میڈیا کو ڈبلیو ایچ او وفد کے دورے سے بے خبر رکھا گیا تاہم ذرائع سے اطلاع ملنے پر کوریج کیلیے پہنچے والے صحافیوں نہ صرف وزٹ کی کوریج کرنے سے روکا گیا بلکہ ڈاکٹر جومانہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کیجانب سے انہیں میڈیا سے باتچیت کرنے سے روکا گیا تھا جبکہ وہ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام اور چانڈکا اسپتال انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی پر بھی نالاں نظر آئیں، تاہم خواتین کے ٹریٹمنٹ سینٹر پر زیر علاج کیسز میں حاملہ خواتین پیدا ہونے والے بچوں میں وائرس منتقل نہ ہونے پر ڈاکٹر انیلا اسران کی کاوشوں سراہا ۔ذرائع کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ پیپلزپارٹی کا گڑھ ہونے کے باعث سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام میڈیا کو ایڈز متاثرین کے نہ تو سہی اعداد و شمار جاری کرتا ہے اور نہ ہی اپنے اقدامات اور آپریشنز سے آگاہی دیتا ہے،

ایچ آئی وی سینٹر انچارج ڈاکٹر عرفان شیخ، ڈاکٹر انیلا اسران سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ ہم کسی بھی طرح کی معلومات کا تبادلہ نہیں کر سکتے تاہم اس سارے معاملے پر سندھ ایڈز کنٹرول، یونیسیف، یو این، محکمہ صحت، اور یو این ڈی ایف پی کے جانب سے بنائے صحافیوں کے معلوماتی آفیشل گروپ میں متعلقہ معاملے پر سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ ڈاریکٹر ڈاکٹر ثاقب شیخ سے متعدد بار معقف مانگا گیا جبکہ متعلقہ اداروں اور صحافیوں کے کوآرڈینیشن میں اہم کردار ادا کرنے والی عالمی ادارہ سے منسلق ڈاکٹر فہمیدہ کی جانب سے متعلقہ ادارے کو کہنے کے باوجود بھی کوئی معقف سامنے نہیں آیا تاہم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی واضع ہدایات ہیں کے ایچ آئی وی متاثرین کو انکے گھروں سے سینٹر تک آنے کیلیے بھی ٹرانسپورٹ تک کی سہولت فراہم کی جائے متاثرہ فیملی کے نیوٹریشن کے مسائل سمیت روزگار کے مسائل کو بھی حل کیا جائے اور تمام متاثرین کو میڈیکل ٹیسٹس سمیت مکمل علاج کی فراہمی بلکل مفت فراہمی کو یعقینی بنایا جائے لیکن متعلقہ ادارے ان ہدایات پر عملدرآمد کروانے میں ناکام دیکھائی دیتے ہیں ۔


شیئر کریں: