چین اور روس کا چاند پر مشترکہ خلائی اسٹیشن بنانےکا فیصلہ

شیئر کریں:

چین اور روس نے چاند پر مشترکہ خلائی اسٹیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دونوں ملک چاند پر مشترکہ خلائی اسٹیشن بنانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔
روس خلا میں برتری کی دوڑ میں امریکا کا مقابلہ کرنا کرنے کے لیے اپنی خلائی
طاقت کو جدید اور مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے اور اس منصوبے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔

خیال رہے کہ روس نے 1961 میں سوویت دور میں پہلی بار خلا میں کسی انسان کو بھیجا تھا
تاہم آنے والے دور میں وہ چاند اور مریخ کے منصوبوں کے حوالے سے امریکا اور چین سے پیچھے رہ گیا ہے۔
روسی خلائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں چینی
خلائی ایجنسی کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوگئے ہیں۔
ایک بیان کے مطابق میمورنڈم کے تحت چاند کی سطح یا مدار میں قائم خلائی
اسٹیشن تجرباتی اور تحقیقی سہولیات کی فراہمی کے لیے تیار کیا جائے گا۔

یہ خلائی اسٹیشن خلائی تحقیق میں دلچسپی رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی دستیاب ہوگا۔
خلائی اسٹیشن کب تیار ہوگا اور اور اس پر کب کام شروع کیا جائے گا اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ چین نے اپنے خلائی پروگرام پر گذشتہ چند سالوں سے بہت زیادہ توجہ دے رہا ہے
اور چین امریکا کے بعد خلائی پروگرام میں سرمایہ کاری کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے
جو روس اور جاپان سے بھی زیادہ عسکری اور سویلین مشن خلا میں بھیج رہا ہے۔


شیئر کریں: