نیلے پانیوں پر قبضہ کی جنگ، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

شیئر کریں:

آج بات کرنی ہے گہرے نیلے پانیوں پر حکمرانی کی۔
تاریخ دان کہتے ہیں جو سمندر پر راج کرتا ہے وہی دنیا کے تخت حکمرانی پر براجمان رہتا ہے۔ رومن ہوں،
گریک یا پھر مسلمان، دنیا پر جتنی عظیم افواج نے راج کیا سب کی بحری طاقت نے اہم کردار ادا کیا۔
مسلمان اپنی بحری طاقت کے زور پر ہی مغربی دنیا تک جاپہنچے
لیکن اب گزشتہ سات دہائیوں سے امریکا ان گہرے پانیوں پر راج کرتا رہا۔ امریکی بحریہ دنیا کی طاقتور
ترین بحریہ تصور کی جانے لگی۔ امریکا نے اپنی دیگر افواج کی نسبت بحریہ پر خصوصی توجہ دی
یہی وجہ ہے کہ امریکی سیلز کے کمانڈو ہر اہم آپریشن میں پیش پیش رہے۔

عراق افغانستان یا پھر پاکستان میں اسامہ بن لادن کا خاتمے کا آپریشن ہو ہر جگہ امریکی سیلز کو نمایاں طور پر دیکھا گیا۔
امریکا کی بحریہ کے طاقتور ہونے کی بڑی وجہ اس کے سمندروں سے باقی دنیا کا الگ ہونا ہے۔ دیگر دنیا سے رابطے اور ان پر اپنا اثر و رسوخ رکھنے کے لیے امریکا کے لیے طاقتور ترین بحریہ انتہائی ناگزیر رہی۔ اسی لیے تو امریکا کی بحریہ بری اور فضائی افواج سے زیادہ طاقتور دیکھائی دیتی ہے۔
امریکا کے پاس دیو ہیکل بحری بیڑے موجود ہیں جو درجنوں کی تعداد میں جنگی جہاز، ہیلی کاپٹر اور فوجیوں کی کثیر تعداد ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اب حالات بدل چکے ہیں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک بھی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔
نیلے پانیوں پر امریکی بالادستی کو اب ایشیا کے ڈریگن نے چلینج کردیا ہے۔ امریکا کی سب سے بڑی اور طاقتور بحریہ ہونا اب ماضی کا قصہ بن چکا۔ اس کا اعتراف خود امریکا کے اداروں نے کیا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ چین نے بحری محاذ میں امریکا سے برتری حاصل کرلی ہے۔ چین کے پاس اس وقت 360 لڑاکا بحری بیڑے ہیں اور امریکا کے پاس بحری فلیٹس کی تعداد 297 ہے۔
امریکی خفیہ ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی پیپلز لیبریشن آرمی اگلے چار سالوں میں 400 سے زائد لڑاکا فلیٹس بنالے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین نے ایسے لڑاکا فلیٹس بنا لیے ہیں جو ٹیکنالوجی اور طاقت میں امریکی بحری بیڑوں پر برتری رکھتے ہیں۔
مگر یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے پاس اس وقت 3 لاکھ 30 ہزار نیوی کے جوان موجود ہیں۔ اس کے برخلاف چین کے پاس صرف 2 لاکھ 50ہزار نیوی کے جوان ہیں۔
امریکی نیوی کے پاس 6 ہزار میزائل اور چین کی نیوی کے پاس 1ہزار میزائلز موجود ہیں۔ امریکی رپورٹ کے مطابق چین امریکی میزائل اور فوجیوں کی عددی برتری بھی بہت جلد ختم کردے گا۔
چین اپنے دفاعی بجٹ میں 7 فیصد کے قریب اضافہ کر چکا جس سے چین کے عزائم کا بخوبی پتہ چلایا جا سکتا ہے۔
اب بھی ٹیکنالوجی کے اعتبار سے امریکی نیوی بعض محاذ پر چین سے آگے ہے جیسے میزائل ٹیکنالوجی، جدید ایئر کرافٹ کیرئرز وغیرہ وغیرہ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2049 تک پیپلز لیبریشن آرمی دنیا کی سب سے طاقت ور ترین فوج بننے کی منصوبہ کررہی ہے جو چین کو دنیا کی سپرپاور بنا دے گی۔
چین نے معاشی ترقی کے بعد اب دفاعی میدان میں بھی جامع پالیسی مرتب کی ہے ۔ ساوتھ چائنا سی میں چین پہلے ہی مغرب اور ان کے اتحادیوں کو کڑا وقت دے رہا ہے۔
چین کو کاونٹر کرنے کے لیے امریکا اور اس کے دیگر تین اتحادیوں نے کوارڈ کے نام سے ایک نیا اتحاد بنایا ہے۔
انڈوپیسفیک کی ٹرمنالوجی بھی متعارف کروائی ہے جس میں بھارت کو بحرالکاہل، اسٹریلیا اور امریکا سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف چین کا کاونٹر ہے۔
ایسی صورت حال میں پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع انتہائی اہم ہے۔
چین کا سی پیک پاکستانی ساحل سے ملے جس کا براہ راست فائدہ گوادر اور کراچی ہو گا۔

حال ہی میں اسی ساحل پر دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی امن مشقیں ہوئیں جن کی میزبانی پاکستان نے کی۔
ان مشقوں میں دنیا کے چھیالیس ممالک کی نیوی نے حصہ لیا۔ ان مشقوں سے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ پاکستان کے نیلے پانیوں کی دنیا کی نظر میں کیا اہمیت ہے۔ مشرق وسطی اور چین کا راستہ انہی پانیوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
آنے والے وقت میں پاکستان بین الاقوامی سیاست میں اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر رہا ہے۔
افغان امن عمل ہو، سی پیک سے بین الاقوامی تجارت ہو یا پھر ایران، امریکا اور عرب کے درمیان ثالثی پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر ہی ہیں۔
سب سے بڑھ کر معروف دانشور نوم چومسکی نے حالیہ بیان میں امریکا کو پاکستان کی اہمیت سے باور کروایا ہے۔ انہوں نے کہا تھا پاکستان سے اگر کوئی بھی ملک جنگ کا سوچتا ہے تو اس کا مطلب مکمل تباہی و بربادی ہے۔
اب دنیا کی نظر پاکستان کے مستقبل کے کرادار کی طرف ہے اور پاکستان کی ترقی کا راستہ بھی انہی نیلے بانیوں سے ہو کر گزر رہا ہے۔


شیئر کریں: