مہنگائی میں 20 فیصد اضافہ سبزی، گوشت اور دودھ دہی سب ہی مہنگی

Inflation
شیئر کریں:

مارچ کا پہلا ہفتہ بھی عوام پر بھاری ہی گزرا کھانے پینے کی اشیا مزید مہنگی ہونے سے غریبوں کے لیے
مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 20 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی۔

چکن، چاول، چینی، آلو، پیاز، گھی، دالوں، گوشت، دودھ سمیت کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 22
بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ رکارڈ کیا گیا۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران چکن کی اوسط قیمت میں ساڑھے تیرہ روپے فی کلو کا
اضافہ دیکھا گیا۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 64 پیسے، دال ماش کی 3 روپے 37 پیسے، آلو کی فی
کلو اوسط قیمت میں 1 روپے 40 پیسے اور کیلوں کی فی درجن قیمت میں 3 روپے 65 پیسے کا اضافہ رکارڈ
کیا گیا۔

رواں ہفتے کے دوران پیاز، انڈوں، چاول، تازہ دودھ، دہی، دال چنا، دال مسور، مٹن اور بیف کی قیمت بھی بڑھ گئی۔
کپڑا، صابن اور ایل پی جی بھی مہنگی ہو گئی۔

ہفتے کے دوران صرف 5 اشیا کی قیمت کم ہوئی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران کھانے پینے اور روز
مرہ استعمال کی 51 بنیادی اشیا میں سے 41 گزشتہ سال کے مقابلے میں 143 فیصد تک مہنگی فروخت
ہوئیں۔ سرخ مرچ گزشتہ سال کے مقابلے میں 143 فیصد مہنگی ہو چکی ہے۔ چکن کی قیمت 72 فیصد،
انڈوں کی 62 فیصد اور چینی کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہو گئی۔

بجلی گزشتہ سال کے مقابلے میں 86 فیصد، جوتے 33 فیصد، ماچس 30 فیصد، صابن 21 فیصد اور اور کپڑا
20 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مارچ کے پہلے ہفتے میں ہفت روزہ بنیاد پر
مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح 14.95 فیصد رہی تاہم خوراک زیادہ مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب
طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 20.07 فیصد تک پہنچ گئی۔


دوسری جانب مہنگائی کے باوجود پاکستان میں خوراک ضائع بھی بہت کی جارہی ہے


شیئر کریں: