لڑکیوں کی باشعور بنانے کی مہم پر حملہ، بیٹی کا سر اور استاد کا دست شفقت کیوں قلم کیا گیا؟

شیئر کریں:

لڑکیوں کے تعلیم کے خلاف انتہاپسندانہ سوچ قبائلی علاقوں سے پنجاب میں پہنچ گئی۔
ایک وقت تھا جب طالبان زدہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی تھی۔

باالخصوص افغان بارڈر کے ساتھ اور خیبرپختوانخوا کے قبائل میں خواتین کو چاردیواری میں قید کرکے رکھا جاتا تھا۔
خواتین کو بنیادی حقوق تک حاصل نہیں تھے۔
ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔
وزیرستان سے ایسے بھی واقعات سامنے آئے جہاں رقص کرنے پر لڑکیوں کا قتل عام کردیا جاتا۔

اب یہی سوچ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پروان چڑھ رہی ہے۔
پنجاب تعلیم اور شرح خواندگی کے اعتبار سے پاکستان کا زرخیر ترین صوبہ ہے۔
لیکن رواں ہفتے ڈسکہ میں شرپسندوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے لگائے گئے
مجسمے پر حملہ کرکے خواتین اور ان حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو پیغام دیا ہے
کہ پنجاب میں بھی خواتین تعلیم اور بینیادی حقوق کے لیے آزاد نہیں۔
ماجرہ کچھ یوں ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر ڈسکہ میں بچیوں کی
تعلیم کو فروغ دینے کے لیے کالج کے سامنے مجسمہ لگایا گیا تھا۔
مجسمہ ڈسکہ میں لڑکیوں کے ڈگری کالج کے سامنے نصب کیا گیا تھا۔
گزشتہ دنوں شرپسند عناصر نے مجسمے کو توڑ دیا۔

مجسمے میں ایسا کیا تھا جو اسے توڑا گیا؟

لڑکیوں کے کالج کے باہر لگائے گئے مجسمے کا مقصد لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔
شرپسندوں کی طرف سے توڑا گیا مجسمہ ایک طالبہ اور استاد کا تھا۔
مجسمے میں ایک استاد بچی کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔
شرپسندوں نے حملہ کرکے استاد کا ہاتھ اور بچی کے مجسمے کا سر توڑ دیا۔

مجسمے پر کتنی لاگت آئی تھی؟

ڈسکہ میں نصب کردہ مجسمہ مقامی شہری نے اپنی مدد آپ کے تحت لگایا تھا۔
یہ مجسمہ ڈسکہ میں خاصی اہمیت رکھتا تھا۔
استاد اور طالبہ کا مجسمہ نہ صرف مقامی سطح پر مشہور تھا بلکہ کئی قومی اخبارات میں اس پر کالم بھی لکھے گئے۔
ڈسکہ کی شہری کی طرف سے تعلیم کے فروغ کے لیے لگائے گئے اس مجسمے پر 28 لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی۔

مقامی مجسمے پر شرپسندوں کے حملے ناراض

ڈسکہ کے مقامی لوگ اس مجسمے پر شرپسندوں کے حملے پر شدید ناراض نظرآتے ہیں۔
شہریوں نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خبروالے کی مقامی شہریوں اور کالج کی طالبات سے اس سلسلہ میں بات ہوئی۔
طالبات کا کہنا ہے کہ مجسمے کا مقصد تعلیم کا فروغ تھا۔

شرپسندوں کو شاید لڑکی کے سر پر استاد کے ہاتھ سے مسلہ تھا۔
استاد اور شاگرد کا ایک باپ بیٹی کا رشتہ ہے۔
طالبات کا کہنا ہے شرپسندوں کے اس عمل سے کوئی ہمیں تعلیم حاصل سے کرنے نہیں روک سکتا۔
قبائلی علاقوں کی طرح پنجاب کے بھی کئی علاقوں میں خواتین کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی
یوم حیا منانے والی جماعت نے بھی اپنے علاقوں میں خواتین کو حقوق سے محروم رکھا ہو اتھا

شرپسندی کے واقعہ پر وزیرتعلیم اور انسانی حقوق کی وزیر خاموش

ڈسکہ میں شرپسندوں کے اس حملے پر جہاں مقامی آبادی میں تشویش پائی جارہی ہے وہیں
اس سارے واقعہ پر وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود اور وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کوئی ردعمل نہیں آیا۔
صحافی برادری نے اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا لیکن متعلقہ دونوں وزرا سیاست میں مصروف نظر آئے۔
سینیٹ انتخابات میں شکست کے بعد دونوں وزرا شفقت محمود اور شیریں مزاری پریس کانفرنس میں حکومتی وفد کے ساتھ موجود تھے۔ لیکن اس اہم مسلے پر نہ تو وفاقی وزرا کی طرف سے کوئی ٹویٹ یا بیان سامنے آیا اور نہ ہی پنجاب حکومت نے ابھی تک کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اس معاملے پر شہریوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت میں آنے سے پہلے ایسے واقعات پر بھرپور آواز اٹھاتی تھی
لیکن حکومت میں آنے کے بعد عمران حکومت کی ترجیحات بھی ماضی کے حکمرانوں جیسی ہوگئی ہیں۔
شہریوں کے بنیادی حکومت کی بجائے وزرا صرف سیاسی معاملات پر توجہ دے ہیں۔

سوشل میڈیا صارفین اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں نالاں

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں شرپسندوں کے اس عمل سے شدید ناراض ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے عالمی دن کے عین چند دن پہلے اس قسم کا حملہ خواتی کو پیغام دینا ہے کہ وہ آج بھی معاشرے میں آزاد نہیں۔

خواتین رہنماوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو خواتین کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
ایسے سرپسند جو عورتوں کی آزادی کے خلاف غیرقانونی اقدامات کرتے ہیں انہیں سخت سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔
ادھر سوشل میڈیا صارفین بھی سرپسندوں کے حملے سے ناراض دیکھائی دیتے ہیں۔

ٹویٹر صارف ارسلان نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ڈسکہ میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے نصب مجسمہ تک توڑ دیا گیا۔
اب پوچھتے ہو عورتوں کو کون سے حقوق چاہیں؟

ایک اور ٹویٹر صارف سجیدہ اختر نے کہا کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں تلوار کے ساتھ ارتغرل غازی کا مجسمہ شان و شوکت سے کھڑا ہے اور ایک استاد اور طالبہ کا خوبصورت مجسمہ توڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے ہمارا معاشرہ کس طرف جارہا ہے۔

صارفین کا کہنا ہے کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس طرح کا کوئی حملہ ہرگز قبول نہیں


شیئر کریں: