پاکستان کے میڈیا میں انقلاب، جیو نیوز میں ہفتہ وار 2 چھٹیاں دی جانے لگیں

شیئر کریں:

پاکستان کے میڈیا میں ورکرز کا استحصال کیا جانے معمول بن چکا ہے محض دو سال کے اندر ہزاروں
صحافیوں اور معاونین کو بے دخل کیا جا چکا جو بچ گئے ان کی تنخواہوں پر تلوار چلادی گئی

گھٹن کے ماحول میں‌تازہ ہوا کا جھونکا

گھٹن کے اس ماحول میں جیو نیوز کی انتظامیہ نے پاکستان کے میڈیا میں انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے ملازمین
کو ہفتہ میں دو چھٹیوں دینی شروع کر دی ہیں۔ صحافیوں کے لیے پہلے ہی سے مشہور تھا کہ انہیں اپنی
بیٹیاں نہ دی جائیں کیونکہ ان کے پاس وقت ہوتا ہے اور نہ ہی پیسا۔ اس مفروضے کو جیونیوز کی انتظامیہ
نے غلط ثابت کرنے کے لیے ملازمین کو ایک ساتھ ہر ہفتہ دو چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا۔

پہلے مرحلے میں اس سہولت سے صرف نیوز سے وابستہ صحافی استفادہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کو
مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔ بین الاقوامی میڈیا اور اداروں میں ملازمین سے ہفتہ وار پانچ دن ہی کام لیا
جاتا ہے۔

جیسا کہ آپ سب ہی جانتے ہیں پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں الیکٹرانک میڈیا کا آغاز جنگ گروپ
کے چینل جیو نیوز سے 2002 میں آغاز ہوا۔ آج بھی ملک بھر کی مارکیٹ میں جیو نیوز کی اولین ٹیم
سے وابستہ افراد ہی سرفہرست دیکھائی دیتے ہیں۔

ناچ نا جانے آنگن ٹیڑھا

جیو نیوز کو دیکھ کر ہر سگریٹ، تعلیم ، گھی، کیمیکل اور باالخصوص پراپرٹی کے شعبہ سے وابستہ
افراد نے چینلز کھولنے شروع کیے۔ سب ہی کی دلی خواہش رہی کہ انہیں بھی جیو نیوز کی طرح عوام
میں پزیرائی ملے۔ خواہش اور سوچ پر تو کوئی پہرہ نہیں لگایا جا سکتا لیکن خواہشات کی تکمیل
کے لیے عملی میدان میں آپ کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔ پیسے کے ساتھ ساتھ اچھی ٹیم بھی رکھنی پڑتی ہے
ایڈمن اور ایچ آر سے نیوز روم نہیں چلائے جاتے۔

ہر ہی چینل مالک کے گھر اور دفتر میں سامنے جیو نیوز لگا رہتا ہے اس پر بریک ہونے والی خبر خواہ وہ
اس کی اتنی اہمیت ہو یا نہ ہو اسے اپنی اسکرین پر نہ پاکے سیخ پا ہونا مالکان کا معمول ہے۔

کہتے ہیں نا کہ نقالی کے لیے بھی عقل کی ضرورت پڑا کرتی ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ جیونیوز کے پیچھے
جنگ گروپ کی دھائیوں کی محنت ہے۔ صحافت کوئی کھیل نہیں جو محض دیکھنے اور نقل کرنے سے
سمجھ آجائے اس کے لیے دانش اور ٹیم چاہیے ہوتی ہے۔

ٹیم کو سہولتیں فراہم کرتے ہوئے اچھے برے وقتوں میں ان کے پیچھے بھی کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ برے وقت میں
ایک ٹیلی فون کال پر رپورٹرز یا اینکرز کو ملازمت سے برطرف نہیں کرتے بلکہ ان کی پہلے سے زیادہ
حفاظت کی جاتی ہے۔

آخر میں بس یہی دیگر چینلز مالکان بھی اگر بڑا بننا چاہتے ہیں تو بڑے چینل کی اچھی باتوں کی بھی نقالی
کے بجائے ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے ملازمین کو کچھ راحت فراہم کریں۔ ملازمین جتنے پرسکون ہوں گے
ادارہ بھی اتنا ہی ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے گا۔


شیئر کریں: