بائی پولر ڈس آڈر

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

میں اس دوپہر کیفے بے نام کے باہر بچھی کرسیوں میں سے ایک پہ بیٹھا عدیلہ کا انتظار کررہا تھا- اسے پورٹ قاسم کے قریب گلشن حدید سے آنا تھا انتظار قیامت ہوتا ہے۔ اسے کاٹنے کے لیے میں سگریٹ پہ سگریٹ پھونکے جارہا تھا۔
مجھ سے قریب قریب بیس فٹ دور ایک شخص آکر کرسی پہ بیٹھ گیا اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، اس نے آس پاس دیکھے بغیر کتاب کھولی اور پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ میں تھری پوائنٹ فائیو نگیٹو کے عدسوں والی عینک کے باوجود بھی اس کتاب کا ٹائٹل پڑھنے سے قاصر تھا۔
اس شخص کے سر کے بال کالے اور سفید بالوں کا سنگم تھے اور سلیقے سے پیچھے کی طرف کنگھی کیے ہوئے تھے۔ آنکھوں پر موٹے عدسوں کی عینک تھی جو اس بات کی چغلی کھاتی تھی کہ اس کی قریب کی نظر کافی کمزور ہے۔ اس کے چہرے پہ شیو بڑھی ہوئی اور شیو بھی کالے اور سفید بالوں کا سنگم تھی۔ پتلی سی ناک ، باریک ہونٹ اور چھوٹی چھوٹی آنکھیں جن کے گرد سیاہ حلقے پڑے تھے اور بھوئیں کمان کی طرح کھنچی ہوئی تھیں۔ رنگ گندمی تھا اور ہونٹ شاید سگریٹ نوشی کی وجہ سے گہرے سیاہی مائل تھے۔ نیوی آسمانی ہلکے نیلے رنگ کی شرٹ اور کالے رنگ کی جینیز پہنے ہوئے تھے اور پیروں میں اس نے قینچی سوفٹی ڈالی ہوئی تھی اور سامنے جیب میں ایک پوائنٹر اس نے لگا رکھا تھا۔ میں زرا غور سے دیکھا تو بائیں ہاتھ میں اسے سیاہ یاقوت والی چاندی کی انگوٹھی ڈالی ہوئی تھی اور پتلی سی چاندی کی کڑی اس کی دائیں کلائی میں پڑی ہوئی تھی جس کا کچھ حصّہ اس کی شرٹ کے بند بازو میں چھپا ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے سائیڈ کی جیب سے گولڈ فلیک کی ڈبی اور ایک لائٹر نکالا، ڈبی سے ایک سگریٹ اس نے لائٹر سے سلگائی اور دائیں ہاتھ سے سگریٹ کو لبوں تک لے گیا اور اس نے دھوئیں کو کچھ دیر اندر کھینچا اور اچانک سے اس نے کتاب سے نظر ہٹائی اور منہ آسمان کی طرف کیا اور اپنے ہونٹوں کو گول دائرے کی طرح سیکڑا اور گچھوں کی شکل میں دھواں چھوڑنے لگا، اور گول دائروں میں دھوئیں کے گچھوں کو دیکھ کر میں نے اس کے چہرے پہ مسکراہٹ دیکھی ، اس دوران اس کے ہونٹ مسکان کے سبب کھینچ سے گئے تھے اور آنکھوں میں شرارت نظر آرہی تھی۔ تھوڑی دیربعد اس نے نظریں پھر کتاب پر جمادیں اور انہماک سے پڑھنے لگا۔

“صاحب، چائے ۔۔۔۔۔۔”، ایک آواز نے مجھے چونکا دیا، میں نے نظریں پھیریں تو کیفے بے نام کا ویٹر چینک اور ایک کپ لیے میرے سر پہ کھڑا تھا۔ میں دو چائے چینک میں منگواتا ہوں اور چینک سے تھوڑی تھوڑی چائے پرچ میں انڈیلتا ہوں اور زور سے چسکی لیکر پیتا ہوں اور کوئی مجھے کیا لقب دے گا، اس کی میں نے کبھی پرواہ نہیں کی تھی۔

میں نے آدھی سگریٹ کو پیر تلے کچل کر بجھا دیا اور تھوڑی سی چائے چینک سے پرچ میں انڈیل کر چسکیاں لگانے میں مصروف ہوگیا۔ اتنے میں کیفے بے نام کے مالک نے کیفے کے اندر چل رہے ڈیک کی آواز تیز کردی اور مجھ تک راحت فتح علی خان کی آواز آنے لگی

تیری میری، میری تیری
پریم کہانی ہے مشکل
دو لفظوں میں یہ بیاں نہ ہو پائے

میں اس گیت کے سحر میں ڈوبنے لگا تھا – میں نے نظریں سامنے اٹھائیں تو دو سو قدموں کے فاصلے پر پاسپورٹ آفس صدر کے سامنے کئی ایک نوجوان مرد عورتیں تیزی سے سڑک پار کرکے دوسری جانب جاتے دکھائی دیے اور ساتھ ہی ایک ساتھ کئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو میں نے وہاں سے متضاد سمتوں میں آتے جاتے دیکھا۔ پاسپورٹ آفس کے ساتھ دوسری گلی میں نکڑ پہ بنی وائن شاپ کے سامنے بیوڑا ماسٹروں کو کھڑا دیکھا اور میں یہ منظر دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرانے لگا اور مجھے وہ وقت یاد آگیا جب وہاں سے ہاف بوتل لیکر وہیں سے ریگل چوک کی صرف جاتا اور وہاں فٹ پاتھ پر بنے ایک پرانے نیوز اسٹال والے بابا کے کیبن میں بیٹھ کر اس تلخ آب کو چند گھونٹ میں اپنے معدے میں اتار لیتا جس کی کاٹ سے مجھے لگتا جیسے کوئی میرے معدے کو چھری سے کاٹ رہا ہو۔ بابا مجھے یہ سہولت حشیش کے روز کے چار سگریٹ کی فراہمی کے عوض فراہم کرتا تھا اور بابا کو پتا تھا کہ میں دوپہر کے ایک بدنام ترین اخبار کا کرائمرپورٹر تھا اور اس لیے کوئی چھلڑ کیبن میں گھسنے کی جرآت نہیں کرتا تھا۔ کبھی کبھی تو علاقے کے ایس ایچ او اپنے کسی ماتحت کو ہاف ووڈکا اور نمکو کی بڑی مقدار دے کر بھیجا کرتا تھا جسے آتا دیکھ کر بابا کا سینہ فخر سے پھول جاتا۔ وہ اپنے اسٹال کے قریب پولیس وین کو رکتا دیکھ کر آس پاس دکانوں اور چند ایک ٹھیوں پر بیٹھے لوگوں پہ فخریہ نظر ڈالتا اور چند ایک کی آنکھوں میں جھلکتی نفرت اور حسد اس کا سینہ اور پھول سا جاتا اور اس کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگتی تھیں۔ جب میں سرور کی انتہا کو پہنچتا تو برنس روڈ پہ گولا کباب کھانے کے لیے روانہ ہوتا اور میری چال میں تھوڑی لڑکھڑاہٹ ہوتی جسے دیکھ کر لوگ مجھے راستا دیتے جاتے، کچھ بڑبڑاتے، سالا بیوڑا۔۔۔۔۔ میں یہ سب سن کر نظر انداز کردیتا۔ ایک مرتبہ علاقے میں شاید نیا ایس ایچ او آیا تھا، اس نے وین میں سے مجھے لڑکھڑاتے دیکھا تو اپنے ماتحت کو اشارہ کیا، وہ تیر کی طرح سیدھا میرے پاس آیا، کہنے لگا،صاحب تمہارے کو بلاتا ہے رپورٹر صاحب!، نیا آیا ہے کیا سالا! ، میں نے پوچھا تو اس نے ہنسی دبائی اور کہنے لگا، ہاں، میں وین کی طرف گیا، اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور پھر کہنے لگا کہ “تم نے شرات پی رکھی ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور اپنی پتلون کی جیب سے اپنا پریس کارڈ اسے نکال کر دکھایا اور ساتھ ہی کہا میں محض صحافی ہی نہیں، ادیب بھی ہوں، پھر اپنی کتابوں کا نام لیا، ایک نام سن کر وہ چونکا، اوہ! وہ آپ نے لکھی ہے؟(وہ تم سے آپ پہ آگیا) اور ساتھ ہی کہنے لگا، آپ نے کہاں جانا ہے، میں چھوڑ دیتا ہوں۔” میں نہ کہی اور چل دیا۔ دو قدم چلا ہوں گا، پیچھے سے آواز آئی، ادیب ہیں آپ تو چھوڑ رہا ہوں وگرنہ نرے صحافی ہوتے تو اندر کردیتا۔۔۔۔۔۔ میں نے گردن موڑ کر جواب دیا کہ جب کرتے تو دیکھا جاتا، اب تو میں تمہارا معترف ہوں پولیس والے ہوکر ادب سے پیار کرتے ہو۔ میں بھی منٹو اور موپساں کی طرح کہانیوں کا انجام چونکانے دینے والا لکھتا ہوں۔ پیچھے سے بھرپور قہقہے کی آواز آئی مگر میں چلتا رہا تھا اور جاکر گولا کباب والے کی دکان میں گھس گیا تھا اور پیٹ کے جہنم کی آگ بجھانے لگا تھا۔ آج اس بات کو دس سال گزر گئے تھے اور میں سوائے گولڈ لیف کی سگریٹ پھونکنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا اور یہ سب کیسے ہوا تھا،وہ کہانی پھر سہی۔ میں سڑک سڑک کے چائے پیے جارہا تھا اور اتنے میں میری نظر پھر اس شخص پہ پڑی جو اب دائیں ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے ہوئے بائیں ہاتھ سے کتاب میز پہ رکھے پڑھے جارہا تھا اور درمیان درمیان میں کپ اپنے ہونٹوں تک لیجاتا، چائے کی گھونٹ بھرتا اور پھر منہمک ہوجاتا۔

اتنے میں میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی، اسکرین پہ عدیلہ کا نمبر جگمگا رہا تھا، میں نے اسکرین پہ یس کا آپشن کلک کیا اور فون کانوں سے لگایا تو دوسری طرف عدیلہ مجھے بتارہی تھی کہ وہ راستے میں ہے ٹریفک کا رش زیادہ ہے اور اسے آدھا گھنٹہ اور لگے گا۔ میں نے اوکے کہا اور فون کال بند ہوگئی۔

عدیلہ اور میں مل کر ایک نجی ٹی وی چینل کے لیے ایک ڈرامے کا اسکرپٹ مل جل کر لکھ رہے تھے اور میں اس باب میں قدرے نووارد تھا۔ عدیلہ نے اسکرپٹ رائٹنگ کا باقاعدہ کورس کیا تھا اور وہ اس ملک کی پاپولر خواتین ادب کی ایک مشہور لکھاری کی شاگرد تھی جس کے ناولوں کی دھوم پاکستان کی مڈل کلاس عورتوں میں آج کل خوب دھوم مچی ہوئی تھی-اسے نظریہ پاکستان کی چدکی کرنے والے جعلی اشفاق حسین بابے عصر حاضر کی بانو قدسیہ کہتے تھے جو کہیں تو انسان کامل سے ملوادیا کرتی تھی اور کہیں ذات کو بے نشاں بناکر کروڑوں روپے تو ناولوں کی رائلٹی کی مد میں بنا چکی تھی اور اسے یہ خمار تھا کہ اس کے ناولوں کی شہرت راجا گدھ سے کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔ شروع شروع میں عدیلہ اسے پوجاکرتی تھی لیکن جب اس کے لکھے ک‏ئی ایک اسکرپٹ پہ اس نے ہاتھ صاف کیا اور ایسے ہی کئی اور کے ساتھ ہوا تو عدیلہ اس سے متنفر ہونے لگی تھی- ایک مرتبہ اس معروف ادیبہ نے اپنے گھر میں اس سے “وصل” کی خواہش کا اظہار کیا تو عدیلہ ایسی رسی تڑا کر بھاگی کہ پھر کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ اس سے قبل میں نے جب اس کی محبوب اور مرشد ادیبہ کے خلاف کچھ نامعقول جملے بول ڈالے تھے تو عدیلہ نے مجھ سے ملنا چھوڑ دیا تھا لیکن جب اس کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا تو اس نے مجھے رابطہ کیا اور مسلم سوسائٹی کراچی میں “گلوریا جینیز” میں ایک ٹیبل کے گرد بیٹھ کر مجھے ساری رام کہانی سنائی تھی اور مجھے اپنے ساتھ اسکرپٹ رائٹنگ کا کام کرنے کو کہا۔ ان دنوں میرا ہاتھ کافی تنگ تھا تو میں نے بھی حامی بھرلی تھی۔ اس دوران عدیلہ نے مجھے بتایا کہ وہ شدید ڈپریشن اور بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہے اور بعض اوقات اس پہ شدید اداسی اور جذباتیت کے حملے ہوتے ہیں اور اس دوران وہ اتنی ڈاؤن ہوتی ہے اس کی قوت ارادی صفر ہوتی ہے اور اس حالت میں مزاحمت بھی ختم ہوجاتی ہے تو ایسی حالت میں وہ اگر ہو تو اس کا استحصال کی کوشش نہ کی جائے۔ اس نے بہت اچھا کیا تھا جو مجھے بتادیا تھا وگرنہ ہوسکتا تھا کہ میں اس کی اس حالت میں اس کی زبان سے نکلے جملوں کو سچ سمجھ بیٹھتا اور جذبات کی رو میں بہک جاتا۔ میں نے شدید ڈپریشن اور بائی پولر ڈس آڈر کے مریض کبھی نہیں دیکھے تھے لیکن عدیلہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے میں نے اس حالت کی شدت میں مبتلا کئی ایک لوگ دیکھے جن کے ساتھ کمزور لمحوں میں ان کے انتہائی قریب لوگوں نے قیامت ڈھا دی تھی اور میں نے آدمی کے وحشی پن کے ان لمحوں کی داستانیں سنیں جو میں مخموریت کی بلندیوں پہ بھی جاکر سوچ نہیں سکتا تھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ کیسے جب وہ ایف ایس سی طالبہ تھی تو اس کے ریپ کی اٹیمپٹ اس کے استاد نے کی تھی اور جب اس نے یہ بات اپنے ابا کو بتائی تھی تو الٹا اس کے ابا نے اسے اسے اتنا مارا کہ اس کے کان کا ایک پردہ پھٹ گیا تھا تب سے دائیں کان سے اسے کم سنائی دیتا تھا اور تب سے وہ ڈپریشن کا شکار ہوئی تھی اور دھیرے دھیرے بائی پولر ڈس آڈر کا شکار ہوگئی تھی- اس کے ساتھ یہ سب کچھ اس وقت ہوا تھا جب اس کے والدین ابھی کراچی شفٹ نہیں ہوئے تھے اور پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے مڑل میں رہتے تھے جو ملتان کے قریب تھا۔ جب وہ نارمل رہتی تو اسے ایسے آدمی سے شدید نفرت اور ڈر لگتا جو اس سے اظہار محبت کرتا اور یہ حرکت اسے جنون میں مبتلا کردیا کرتی تھی اور اس پہ بعض اوقات مرگی کے دورے پڑنے لگتے تھے۔ مجھے اس نے تفصیل سے اپنا کیس بتایا تھا اور میں کافی محتاط رہا کرتا تھا۔ میں اسے اپنے فلیٹ پہ نہیں بلایا کرتا تھا ہمیشہ کھلی فضا میں اکثر اسی کیفے بے نام پر بلایا کرتا تھا اور اس نے کئی بار مجھے اپنے گھر آنے کی دعوت دی جسے میں نے ریجکٹ کردیا تھا۔ میں اور گہرے دوست بن گئے تھے لیکن میں اس سے کبھی اپنے دل کی دنیا کی بات نہیں کیا کرتا تھا اور وہ بہت ذہین تھی، وہ میری لکھی کہانیوں میں سے زندہ اور حقیقی کرداروں کو ڈھونڈ نکالا کرتی تھی لیکن میں کبھی مان کر ہی نہیں دیتا تھا۔ میرے اندر ایک عادت تھی میں جو عورت مجھے اپنے بدن اور حرکات و سکنات کے انداز سے بھاتی اسے کنکھیوں سے دیکھا کرتا تھا اور وقفے وقفے سے ایسا کرتا تھا، وہ میری اس حرکت کو بھانپ لیا کرتی تھی اور کہتی کہ ہر عورت ڈپریس نہیں ہوتی اور نہ وہ بائی پولر ڈس آڈر کا شکار، ٹھیک طرح سے بھرپور نظر ڈالو، حسن کو سراہایا جانا نارمل عورتوں کو پسند ہوتا ہے بشرطیکہ ابتذال نہ ہو۔ میں ہڑبڑا جاتا؛ کھسیانا ہوجاتا اور وہ کھلکھلا ہنس پڑتی۔ اس کی آنکھیں چمکنے لگتیں اور میں اسے شاداں و فرحت دیکھکر بہت خوش ہوا کرتا تھا۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک سے ایک آواز نے مجھے خیالوں کی دنیا سے نکالیا:

“کہاں گم ہیں جناب!”

“عدیلہ،تم ،،،،،، کب پہنچیں۔۔۔۔۔۔۔۔

جناب میں تو دو منٹ پہلے کیب سے اتری اور پاس آکر تمہیں آواز دی تو موصوف نے کوئی جواب نہ دیا اور آنکھیں بند کیے نجانے کون سی سوچوں میں گم تھے۔ اب زرا زور سے بولی ہوں تو جناب کو ہوش آیا ہے۔

میں نے اپنی کرسی خالی چھوڑی اور اسے بٹھایا اور خود گھوم کر میز کی طرف دوسری طرف پڑی کرسی پہ بیٹھ گیا۔ اس نے اپنا بیگ کھولا اور اس میں اسکرپٹ نکال لیا اور اسے میز پہ رکھ کر کھول لیا۔

ڈرامے کا عنوان تھا “محمد حسین بھگت سنگھ “۔۔۔۔۔۔۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ایک ایسا سوشلسٹ کرانتی کاری تھا جو اپنے کمیونسٹ خیالات کے سبب اس ملک کے آشوب ترین دنوں میں بھی مارے جانے سے بچ جاتا ہے لیکن وہ ایک ایسے دور میں مارا جاتا ہے جب کمیونزم زوال کا شکار ہوچکا تھا اور پورا سماج مذہبی منافرت اور مذہبی شناختوں کے نام پر دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے اور اسے اس کے خاندان کی مذہبی شناخت کے سبب آٹھ محرم کو ایک چوک میں چائے کے ہوٹل میں بیٹھے مار دیا جاتا ہے۔ وہ ناستک ہوتا ہے مگر محرم کی مجالس اور جلوس کو اپنی ثقافت گردانتا ہے اور واقعہ کربلا کا سورما اپنے نظریات کے مطابق حریت فکر کا بہت بڑا استعارا نظر آتا ہے حالانکہ وہ ایرانی مذہبی پیشوائیت اور اپنے خاندان اور برادری کے ہاں انتہائی عزت پانے والے ملاؤں کو بلعم باعور سمجھ کر تنقید کرتا تھا۔اور جب وہ مارا جاتا تھا تو اس کی لاش پہ مقامی ملاں خوب سیاست چمکاتے ہیں اور اس سیاسی قبیلے کے کامریڈ محرم میں اس کے کالی قمیص اور سفید شلوار پہننے اور جلوس میں ماتم و زنجیر زنی کو رجعت پرستی قرار دیکر اس کے لیے تعزیتی ریفرنس کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں اور وہ مذہبی دہشت گرد تنظیموں کے لونڈوں کے سماجی طبقاتی پس منظر کو لیکر ان کی دہشت گردی کے لیے مارکس واد زبان میں ہمدردی ڈھونڈ لیتے ہیں۔ یہ اسکرپٹ لکھنےکا خیال ہمیں انچولی میں ایک ایسے ہی ملتے جلتے کردار کی ٹارگٹ کلنگ سے آیا تھا اور ایک تھیڑ گروپ نے اسے پرفارم کرنے کا وعدہ کرلیا تھا اور ہمیں ایک سوشلسٹ گروپ نے اس اسکرپٹ لکھنے کے لیے اڈوانس رقم بھی دے ڈالی تھی۔ آج ہم اس کے ڈرافٹ کی حتمی قرآت کرنے والے تھے۔ہم اپنے کام میں مصروف ہوگئے ، ہمارے دونوں کے سر اسکرپٹ پہ جھکے ہوئے تھے اور ہم گرد و نواح سے بالکل بے خبر ہوگئے تھے کہ اچانک عدیلہ کا سر اسکرپٹ کے کھلے صفحات پہ گر پڑا اور دونوں اطراف سے صفحات خون سے بھر گئے۔ میں وحشیانہ انداز میں کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ مجھے سے سو قدم دور بیٹھا کرسی سے نیچے خون میں لت پت پڑا تھا اور ادھر عدیلہ کا سر اسکرپٹ پر دھرا تھا اور کی کنپٹی پہ بڑا سوراخ ہوگیا تھا۔ آس پاس کوئی نہ تھا۔ اور میں نے ایک موٹر سائیکل پر دو نوجوانوں کو انتہائی تیزی سے سڑک پر جاتے دیکھا، پیچھے بیٹھا ہوا لڑکا پستول ہوا میں لہرا رہا تھا اس نے کچھ راؤنڈ ہوا میں فائر بھی کیے تھے۔ اور دیکھتے دیکھتے ہی وہ غائب ہوگئے۔ میں نے پاگلوں کی طرح عدیلہ کے دونوں کندھے پکڑ کر ہلائے اور میں چیخنے چلانے لگا تھا اور اس کے جسم میں کوئی حرکت نہ تھی۔ میں بھاگ کر سامنے گرے نوجوان کی طرف لپکا، اس کے گرد خون کا تالاب بن گیا تھا اور اس کے سر ،جبڑے اور پیٹ و کمر میں سوراخ تھے اور قریب ہی خون میں بھری وہ کتاب پڑی تھی جو وہ نوجوان وہاں آکر بیٹھنے کے بعد پڑھ رہا تھا، کتاب کے عنوان پر میری نظر پڑی تو ٹائٹل خون کے اندر بھرا نظر آرہا تھا اور اس پہ لکھا ہوا تھا:

انقلاب: دنیا بھر کے محنت کشوں متحد ہوجاؤ
کھونے کے لیے فقط زنجیریں،پانے کے لیے سارا جہان

پس نوشت: “مذہبی شدت پسندوں کی فائرنگ سے مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان سمیت دو افراد ہلاک، تنظیم الفرقان نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے فرقے کی عورت کے فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ مخصوص فرقے سے تعلق رکھنے والوں کی عبادت گاہوں،اجتماعات میں شرکت یا آس پاس ہونے سے احتیاط کریں۔


شیئر کریں: