ڈاکٹر لال خان اور پاکستان پیپلزپارٹی

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی

انیس فروری دو ہزار اکیس کو ڈاکٹر تنویر یثرب گوندل عرف کامریڈ لال خان کی برسی تھی ۔ اس موقعہ پر ویب رسالے “جدوجہد” کی جانب سے ایک ویبنار انعقاد ہوا جس میں لال خان کی اہلیہ، ان کی بہن اور ان کی جدوجہد کے پرانے اور نئے ساتھیوں نے ان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا- سوشل میڈیا پہ بھی بائیں بازو کے اکثر لوگوں نے کامریڈ لال خان کی خدمات کو سراہا۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ پی پی پی کے کئی ایک جیالوں نے کامریڈ ڈاکٹر لال خان پر بے جا تنقید کی اور چند ایک کی زبان بھی قابل ستائش نہیں کہی جاسکتی۔ ایک بات تو طے ہے کامریڈ لال خان ایسا آدمی نہیں تھا جس کے پاؤں موقعہ پرستی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہوں ۔ بائیں بازو کی ٹراٹسکائٹ روایت کا پیرو تھا اور اس فکر سے مکمل طور پر ایمانداری سے وابستہ تھا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے کچھ جیالوں نے ڈاکٹر لال خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے:

“کل ہم نے جب اِس ضمن میں کچھ باتیں تحریر کیں تو کچھ نادان دوست لٹھ لے کر چڑھ دوڑے. اُنکے بقول ہمیں پیپلز پارٹی تو قبول ہے مگر جن نظریات کے تحت پارٹی وجود میں آئی وہ قابلِ قبول نہیں ہیں. تو اُن نادان دوستوں کو پہلے تو پیپلز پارٹی کا بُنیادی نظریہ سمجھنے کی ضرورت ہے. پاکستان پیپلز پارٹی اپنے جنم سے لے کر آج تک کبھی بھی مار دو کاٹ دو کے نظریے کی قائل نہیں رہی. پیپلز پارٹی اِس بات کو بخوبی سمجھتی ہے کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے, اِس نیو لبرل دور میں انارکسٹ بننا ممکن نہیں ہے.. یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مفاہمت کی راہ اختیار کرتے ہوِئے جمہوری راستہ چُنا ہے. پیپلز پارٹی کا نظریہ کوئی خونی انقلاب نہیں ہے کہ جس کے لال خان اور اُن جیسے دوسرے رفقاء دلدادہ ہیں بلکہ پیپلز پارٹی جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے. یہی وجہ ہے کہ بُھٹو صاحب نے ایوب آمریت کے خلاف بندوق اُٹھانے کے بجائے سیاسی پارٹی بنائی اور جمہوری عمل میں شریک ہو کر اُسے شکستِ فاش دی. بُھٹو صاحب کے بعد بی بی شہید نے بھی اُنکے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے یہی جمہوری اور بہترین نظریہ و راستہ چُنا”

“اِن افراد کا پسندیدہ شکار نئے آنے والے, محدود مطالعہ کے حامل کم فہم اور بھولے بھالے نوجوان ہوتے ہیں. یہ لوگ اِن نوجوانوں کے آگے سوشلزم کے گیت گاتے ہیں.. اُنہیں اِس بات کا یقین دِلاتے ہیں کہ دُنیا کے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف سوشلزم میں مضمر ہے. پھر اِن معصوموں کی پیٹھ تھپک کر اِنہیں باور کروایا جاتا ہے کہ بیٹا تُم عن اُسی پارٹی کا حصہ ہو کہ جسکی بُنیاد سوشلزم پر رکھی گئی ہے..آہستہ آہستہ پھر یہ لوگ اِن نوجوانوں کو خونی انقلاب کی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیتے ہیں.. انکے دماغوں میں جان بوجھ کر یہ خلل پیدا کیا جاتا ہے یہ سیاسی لوگ جو سیاست کر رہے ہیں اِسکی کوئی حقیقت نہیں بلکہ اصل تبدیلی تو خونی انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے”..

ایک ہمارے نہایت محترم دوست نے لکھا،

Bhutto sahib had tried hard to include as many NSF and other leftists in the 1970 elections. Same come over but others were more concerned about their Moscow and Beijing Group structures.
They, like other bourgeoisie elites, sit in nice drawing rooms trashing PPP to indirectly benefit the establishment.

بھٹو صاحب نے بہت زیادہ کوشش کی این ایس ایف اور دوسرے لیفٹ والوں کو 1970ء کے انتخابات میں شامل کرلیں۔ کچھ آئے اور زیادہ تر اپنے ماسکو اور بیجنگ سٹرکچرز بارے فکر مند رہے۔
وہ دوسرے بورژوا اشرافیہ کی طرح ڈرائنگ رومز میں بیٹھے رہے اور پی پی پی کو ختم کرنے کی سازش کرتے رہے اور انھوں نے بلواسطہ اسٹبلشمنٹ کو فائدہ پہنچایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلا تبصرہ انتہائی بچگانہ، سستی جذباتیت اور گہرے خیالات سے خالی ہے۔ یہ بالغ سیاسی شعور کی علامت نہیں ہے۔ پی پی پی میں جو پی پی پی کی بنیادی اور تاسیسی دستاویز سے جڑے ہوئے ہیں اور پی پی پی کے کسی نظریاتی کارکن کا یہ جواب نہیں ہوسکتا- آپ جب اپنے مخالف کا محاکمہ کرتے ہیں تو آپ کو اس کے نظریات کو مسخ کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ کیا ڈاکٹر لال خان انارکسٹ تھے؟ کیا وہ خونی انقلاب کے حامل تھے؟ کیا وہ مار دو کاٹ دو نظریے کے قائل تھے؟” نیولبرل دور میں انارکسٹ بن کر رہنا ممکن نہیں ہے” کیا ڈاکٹر لال خان نیولبرل دور میں انارکسٹ بننے کا پرچار کررہے تھے؟ کیا وہ بندوق کی گولی سے انقلاب لانے کا پرچار کررہے تھے؟

“پیپلز پارٹی کا نظریہ کوئی خونی انقلاب نہیں ہے کہ جس کے لال خان اور اُن جیسے دوسرے رفقاء دلدادہ ہیں ”

ایسی انتہائی کمزور تنقید تو نیو لبرل پیٹی بورژوازی بھی نہیں کرتی جو ہمارے اس نادان دوست نے کی ہے۔ ڈاکٹر لال خان اور ان کے رفقاء جب پاکستان آئے تو انہوں نے پاکستان میں پاکستان پیپلزپارٹی کے بارے میں جو بنیادی تجزیہ کیا وہ یہ تھا

“پاکستان پیپلزپارٹی ساٹھ کی دہائی کے آخری عشرے میں پیدا ہونے والی ورکنگ کلاس کی انقلابی تحریک سے جنم لینے والی روایت سے جنم لینے والی محنت کش طبقات کی پارٹی ہے جس کی بنیاد اس کی تاسیسی دستاویز ہے اور ان کا تجزیہ یہ تھا کہ پی پی پی جب تک اپنے بنیادی نظریات کی طرف دوبارہ رجوع نہیں کرے گی نہ تو پاکستان کے محنت کش طبقات کی نجات ہوگی اور نہ ہی پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب آئے گا۔ ڈاکٹر لال خان انٹرنیشنل سطح پر فورتھ انٹرنیشنل سے ٹوٹ کر بننے والی ٹراٹسکائٹ عالمی مارکسسٹ تنظیم انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹیندنسی ( عالمی مارکسی رجحان) سے وابستہ تھے جس کا سب سے بڑا ہتھیار محنت کش طبقات کی روایتی ٹریڈ یونین، طلبا تنظیموں ، سیاسی جماعتوں میں انٹرازم کرکے ان کو انقلابی سوشلسٹ روایت کی طرف لیجانا تھا۔ یہ محنت کش طبقات کی روایتی تنظیموں کی قیادت کے دائیں طرف رجحان کو اندر سے دباؤ ڈال کر بدلنا تھا اور اسے بائیں طرف موڑنا تھا۔ انٹرازم کے ساتھ ساتھ طبقاتی گروپ کے نام سے کام کرنے والی تنظیم نے کامریڈ لال خان کی قیادت میں کام شروع کیا، ان کی ایڈیٹرشپ میں رسالہ “طبقاتی جدوجہد” بھی جاری ہوا جس کی پیشانی پر درج تھا”پاکستان پیپلزپارٹی میں سوشلزم کی آواز”۔”

نوے کی دہائی ميں جب آئی ایم ٹی نے طبقاتی جدوجہد کے نام سے کام شروع کیا تو پاکستان کا روایتی لیفٹ انتہائی انتشار کا شکار تھا۔ سوویت یونین کے زوال اور دیوار برلن کے ٹوٹ جانے ساتھ ہی کمیونسٹ بلاک کے خاتمے کے بعد پاکستان کے سیاسی میدان میں دو طرح کے رجحان غالب تھے:

ایک طرف دائیں بازو کا مذہبی رجحان تھا جو سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کو سیاسی جہادی اسلام کی جیت قرار دے رہا تھا اور “سوویت یونین ٹوٹتا دیکھا ہے، اب امریکہ ٹوٹتا دیکھیں” کے نعرے لگا رہا تھا اور دوسری جانب دائیں بازو کا نیولبرل رجحان تھا جو سوشلسٹ اکنامی پر لبرل و نیولبرل اکنامی کی حتمی فتح کے گیت گارہا تھا اور سوشل ڈیموکریسی پہ لبرل و نیولبرل ڈیموکریسی کی فتح کے گیت الاپ رہا تھا۔ یہ دونوں گروہ اس بات پہ متفق تھے کہ پاکستان کی پولیٹکل اکنامی کو سرمایہ دارانہ نظام کی انتہا پرست شکل نیو لبرل مارکیٹ اکنامی ہونا چاہئیے اور یہ پاکستان میں منصوبہ بند معشیت کے سخت مخالف تھے یہ اور بات ہے کہ دائیں بازو کے مذہبی رجعت پرست اسے مذہبی اصطلاحوں میں رنگ کر بیان کرتے اور پاکستانی نیولبرل اسے جدید سرمایہ دارانہ اصطلاحوں میں بیان کیا کرتے(آج تک یہ وتیرہ جاری و ساری ہے)

پاکستان جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے ہی مارکیٹ ماڈل والے سرمائے داری نظام کی پیروی کی طرف چل پڑا تھا۔ امریکی سامراجی بلاک کی مداح سرائی کرنے میں پاکستان کے لبرل و نیو لبرل دانشور مصروف تھے۔ بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں نیشنل عوامی پارٹی کے اندر سے نکلنے والی سیاسی جماعتیں پشتون اور بلوچ نیشنلزم کے ساتھ سوشلزم کے تڑکے کو کب کا ختم کرچکی تھی اور ان جماعتوں میں لیفٹ اپوزیشن کب کی دم توڑ گئی تھی۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر بھی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے 90ء کی دہائی میں “عملیت پسند معاشی و سیاسی پالیسی” کے نام پر امریکہ میں ریگن ازم اور برطانیہ میں تھیچر ازم جو نیولبرل سرمایہ داری کے ماڈل کا دوسرا نام تھا کی طرف نیم دروں نیم بروں قدم بڑھایا(یہ اس وقت کی آئی جے آئی اور بعد ازاں نواز لیگ کی طرح کا انتہائی بے رحم اور انستھیزیا کے بغیر سرجری کرنے جیسا عمل نہیں تھا)

پاکستان پیپلزپارٹی میں 80ء کی دہائی کے آخر میں ایک بحث نے اس وقت جنم لیا تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو علاج کی غرض سے لندن گئیں اور وہاں اس زمانے میں لبرل سرمایہ دارانہ نظام میں ایک اور ٹرن آرہا تھا جسے نیولبرل ازم کے نام سے تعبیر کیا جارہا تھا۔ یورپ کے تمام ممالک اس طرف شفٹ ہورہے تھے اور یورپ میں اس تبدیلی کی سب سے بڑی علمبردار مارگریٹ تھیچر تھیں جو برطانیہ کی وزیراعظم تھیں جبکہ امریکہ میں نیولبرل اکنامی کا علمبردار صدر ريگن تھا اور اسی مناسبت سے یورپ میں اسے تھیچرازم اور امریکہ میں اسے ریگن ازم کا نام بھی دیا جارہا تھا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو نے معشیت کی لبرلائزیشن اور ریاست کے معشیت میں کردار کو ریگولیٹری اداروں کی نگران باڈی تک محدود کرنے کے تصور سے اپنی پارٹی کو مطابقت میں لانے کے لیے پی پی پی کی تاسیسی دستاویز کو عملی طور پر تبدیل کرنے کا اشارہ یورپ میں قیام کے دوران اور امریکہ کے کئی بار دوروں کے دوران دیا اور جب وہ اپريل 1986ء میں وطن لوٹیں تو انھوں نے واضح طور پر پاکستانی معشیت کی لبرلائزیشن کے حوالے سے پارٹی کی پالیسی میں تبدیلی کے بیانات دینے شروع کردیے۔ بے نظیر بھٹو ابھی جلاوطن تھیں جب ان کے معشیت پر خیالات کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر بحث شروع ہوگئی تھی اور اختلافات بھی سامنے آنے لگے تھے۔ دوسری تبدیلی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اسی زمانے میں امریکہ کی طرف پارٹی کے رویے کے حوالے سے دینا شروع کی ۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی سرمایہ داری بلاک کے اراکین کو یہ باور کرایا کہ پاکستان پیپلزپارٹی امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی وہ عالمی سطح پر سرمایہ داری بلاک کے خلاف ہے۔ اس لچک سے پارٹی کے اندر ایک اور بحث بھی ساتھ ساتھ ہونے لگی کہ کیا اب سامراج اور سامراجیت کا زمانہ چلا گیا ہے اور کیا پاکستان پیپلزپارٹی کو پاکستان میں حکومت کرنے کے لیے امریکی اسٹبلشمنٹ سے لابنگ کرنے کی ضرورت بنتی ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر اس وقت لیفٹ کے نام پر دو رجحانات بن چکے تھے۔ ایک وہ لیفٹ رجحان وہ تھا جو پاکستان میں پرانے لیفٹ رجحانات کا حامل تھا اور اسے عمومی طور پر چین نواز اور ماسکو نواز لیفٹ کہا جاسکتا تھا- اس کے بچے کچھے نظریاتی کاڈر اس وقت پارٹی کے اندر موجود تھے جن میں سب سے بڑا نام شیخ رشید احمد بابائے سوشلزم کا تھا اور یہ چین نواز روایت سے پی پی پی میں داخل ہوئے تھے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں بابائے سوشلزم کی پاکستان پیپلزپارٹی کے شہری اور دیہی غریبوں، پیٹی بورژوازی سے تعلق رکھنے والے لیفٹ رجحان کے حامل وکلا، پروفیسرز اور دیہی و شہری غریب کارکنان میں جڑیں تھیں- یہ واضح طور پر پی پی پی کی شریک چئیرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تھیچر ازم اور ریگن ازم سے متاثر ہونے سے خوش نہ تھے اور یہ پی پی پی کے سوشلسٹ اکنامک پروگرام کے آدرش سے دست بردار ہونے اور اس کو غیر منصوبہ بند معشیت کی طرف لیجانے کے مخالف تھے۔ بابائے سوشلزم کا حلقہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے امریکہ کی طرف پالیسی لائن کی تبدیلی کو بھی اختلافی نظر سے دیکھ رہا تھا۔

پاکستان پیپلزپارٹی میں ایک رجحان اور بھی تھا جو بے نظیر بھٹو کے ساتھ ساتھ بيگم نصرت بھٹو کی جانب سے جنرل ضیاءالحق کی آمریت کے خلاف دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ملاکر ایم آر ڈی کی تشکیل کرنے کا بھی سخت مخالف تھا اور وہ پی پی پی کی جانب سے عدم تشدد پہ مبنی سیاسی پالیسی کی بھی شدید مخالفت کررہا تھا۔ اس رجحان کے حامل مرتضی بھٹو شہید کی مسلح جدوجہد کو تحسین کی نظر سے دیکھتی تھی اور یہ منصوبہ بند معشیت اور امریکی سامراجیت کی شدید مخالف تھی۔ یہ انتہا پسندی کی حد تک جانے والے لوگ تھے اور یہ بے نظیر بھٹو پہ عالمی سطح پر سامراجیت کے آگے سرنڈر کرنے اور ملکی سطح پر جاگیرداروں سے مل جانےکا الزام عائد کرتے تھے۔ اس گروہ کی قیادت پنجاب میں ڈاکٹر مبشر حسن کررہے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی میں لیفٹ کا نسبتا ایک نیا رجحان بھی تھا جس کی تعمیر کرنے والوں کا نمایاں کاڈر یورپ میں جلاوطن ہوجانے والے ان نوجوان جیالوں کا تھا جو وہاں جاکر نئے مارکس واد و سماج واد رجحانات سے واقف ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر لوگ ٹراٹسکائٹ رجحان کے حامل تھے۔ یہ اپنے آپ کو مارکس واد(مارکسسٹ) کہتے تھے۔ جب یہ لوگ پاکستان میں تھے تو ان کی زیادہ تر تعداد یونیورسٹیوں میں پڑھا کرتی تھی اور ان میں سے اکثر وبیشتر بھٹو کے ڈائی ہارڈ کاڈر تھے۔ بھٹو کی پھانسی کا ان پہ سخت اثر ہوا تھا اور یہ مارشل لا حکومت کومطلوب تھے اور مفرور تھے اور بڑی مشکلات سے یورپ جانے میں کامیاب ہوگئے تھے اور وہاں پہلی بار یہ ٹراٹسکی ازم سے روشناس ہوئے اور یہ فورتھ انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن کا حصّہ تھے اور اس کی ایک سپلٹ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مارکسزم کا بین الاقوامی رجحان/آئی ایم ٹی)کا حصّہ بنے ان میں بیلجیم جانے والوں میں ڈاکٹر لال خان بھی تھے – پاکستان اور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے جلاوطن ان لوگوں نے ایک طرف تو یورپ اور امریکہ میں پی پی پی کی تنظیموں میں اپنی شمولیت اختیار کی اور ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان میں بھی آئی ایم ٹی کو منظم کرنا شروع کردیا۔ آج سے قریب قریب 38 سال پہلے یہ لیفٹ کا وہ رجحان تھا جو خود کو پی پی پی میں سوشلزم کی آواز کہتا تھا اور اس کا رسالہ “جدوجہد” شایع ہونا شروع ہوا۔ اس رجحان نے پی پی پی کی قیادت کی جانب سے پارٹی کے بنیادی منشور میں شامل سوشلزم ہماری معشیت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہے کو سامنے رکھتےہوئے بے نظیر بھٹو کی جانب سے سوشلسٹ معشیت سے تھیچر ازم اور ریگن ازم کی طرف مڑجانے پر تنقید کی اور ایسے ہی امریکی سرمایہ دار بلاک کی طرف جھکاؤ کے خلاف بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس رجحان کا تجزیہ یہ تھا کہ پی پی پی کا منصوبہ بند سوشلسٹ معشیت سے انحراف اور سامراجی کیمپ میں شمولیت لامحالہ اسے ملک میں ویسا ہی سڑکچرل ایڈجسمنٹ اصلاحاتی پروگرام اپنانے اور سامراجی سرمایہ دارانہ جنگوں اور تصادم کا حصّہ بننا پڑے گا۔ اس سے محنت کش طبقہ اور کسان طبقات کو پی پی پی سے بے گانہ کردے گا۔ اس گروپ کا زور اس بات پہ تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو نہ تو پاکستان کے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں سے مصالحت کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے عالمی سامراجی سرمایہ داری قوتوں سے سے سمجھوتہ کرنا چاہیے۔

پاکستان پیپلزپارٹی میں جو پرانا لیفٹ کا باقی حصّہ تھا ایک تو اس نے نئے خون پر زیادہ توجہ مرکوز نہ کی، دوسرا اس کے سرکردہ رہنماء رفتہ رفتہ پاکستان پیپلزپارٹی کے فیصلہ ساز تنظیمی باڈیوں سے نکلتے چلے گئے۔ شیخ رشید احمد جو 1988ء میں بمشکل پورے پاکستان سے 17 ایم این ایز اور 25 کے قریب پنجاب میں ایم پی ایز کے ٹکٹ اپنے ساتھ جڑے لوگوں کو دلوانے میں کامیاب ہوئے تھے 1990ء اور 1993ء میں یہ تعداد کم ہوکر تین سے چار رہ گئی اور وہ بھی بعد ازاں آہستہ آہستہ پچھلی صفوں میں چلے گئے۔ اس دوران اس لیفٹ حصّے نے نہ تو پارٹی کے اندر بطور لیفٹ اپوزیشن اپنے آپ کو یونٹ سطح پر منظم کیا اور نہ ہی اس کے رجحان کا پروپیگنڈا کرنے کے لیے کوئی پرسپیکٹو سامنے آیا۔ نہ ہی کوئی ماہانہ پروپیگنڈا اخبار سامنے آیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو جب 1986ء میں وطن واپس آئیں اور پی پی پی مقبولیت کی حدوں کو چھونے لگیں تو اسی دوران ایم آر ڈی میں شامل بائیں بازو کی جماعتوں جن میں قومی محاذ آزادی، پاکستان نیشنل پارٹی(پی این پی)، مزدور کسان پارٹی(ایم کے پی)اور ان کے طلباء ونگز سے بہت سا کاڈر پی پی پی میں شامل ہوگیا۔ ان میں قومی محاذ آزادی پنجاب اور سندھ اور این ایس ایف (لطیف چودھری گروپ) کے کئی نامور نام شامل تھے۔ ان میں امیر حیدر کاظمی 88ء میں ایم این اے کراچی سے منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر بھی بنے۔ امیر حیدر کاظمی نے بھی کراچی ڈویژن میں خاص طور پر اردو اسپیکنگ اکثریت آبادی میں پی پی پی یں لیفٹ نظریات کی ترویج کا مشن سنبھالا۔ لیکن آخرکار ان میں سے اکثریت تو محض نرے لبرل ترقی پسند بن کر رہ گئے اور ویسے نام لینے کو یہ کبھی کبھار سوشلسٹ نعرے بازی کرلیتے تھے۔

ایسے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر سرائیکی خطے سے لیفٹ سے جڑا ایک اور عنصر بھی شامل ہوا جن کے ہاں بائیں بازو سے زیادہ سرائیکی قوم پرستانہ رجحان غالب تھا اور بعد ازاں اس نے بتدریج خود کو لیفٹ شناخت سے دور کرتے ہوئے قومی سوال پہ مارکس واد اپروچ کی بجائے قوم پرستانہ اپروچ اختیارکی- یہ عنصر بس پنجاب اور کے پی کے کے سرائیکی اکثریت کے علاقوں کو ملاکر الگ صوبہ بنانے پر زور دیتا تھا۔ اس نے سانجھ کے نام سے ایک تنظیم بنائی اور اس کے ہاں سے جو لٹریچر اور مواد سامنے آیا وہ زیادہ تر سرائیکی قوم پرستی سے متعلق تھا۔

مجموعی طور پر ان نظریاتی رجحانات سے ہٹ کر جو پاکستان پیپلزپارٹی کا عام منجھا ہوا سیاسی کارکن تھا، اس کی اکثریت نظریاتی محاذ پر جو پی پی پی کی قیادت کہہ رہی تھک یا کررہی تھی اس کی پیروی کی اور اس کے خلاف کوئی مزاحمت سرے سے نہ کی۔ زیادہ سے زیادہ یہ اکثریتی کارکن “بھٹو ازم منزل ہے- بے نظیر رہبر ہے” جیسے نعروں کے ساتھ سامنے آیا۔ اس منجھے ہوئے عام سیاسی کارکن کو ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے یہ شکایت پیدا ہونے لگی تھی کہ پارٹی کی مرکزی و صوبائی اور ضلعی تنظیموں میں اور پارٹی کی پارلیمانی قوت میں ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے کارکنوں کو بے دخل کیا جارہا ہے اور پارٹی کی تنظیمیں پارلیمانی اراکین اور ٹکٹ ہولڈرز کے قبضے میں جارہی تھیں اور بھٹو خاندان کی قیادت تک ان کی رسائی کا معاملہ مشکل تر ہوجارہا ہے۔ جنرل ضیآء الحق کے اخری دور میں پی پی پی کے ڈائی ہارڈ جیالوں نے “اینٹی پجارو گروپ” بنایا اور ورکرز بچاؤ تحریک بھی چلائی اور اس کا ایک نعرہ بہت مقبول بھی ہوا

ضیاء بھی مارے، تم بھی مارو
ہائے پجارو۔ ہائے پجارو۔

لیکن حقیقت حال یہ تھی کہ ایسے سیاسی کارکن نہ تو پی پی پی کے سرکاری تنظیمی اداروں میں جگہ بناسکے اور نہ ہی وہ رسائی کے مسئلے کو حل کرواسکے۔

ایسے میں یہ جو آئی ایم ٹی تھی اس نے جو جدوجہد کے نام سے شروع کیا اسے پی پی پی میں خود کو سوشلسٹ اور مارکسسٹ سمجھنے والے کارکنوں کی حمایت ملی، وہیں اس کے اندر کئی ایک نئے جوان مرد و خواتین شامل ہونا شروع ہوگئے۔

سوویت یونین کے زوال ، مشرقی یورپی کمیونسٹ بلاک کے ٹوٹ جانے ، پی پی پی میں پرانے لیفٹ کے بتدریج منظر نامے سے ہٹ جانے کے بعد ویسے تو پورے پاکستان میں لیفٹ کا اکثر حصّہ یا تو بدل کر لبرل ہوچکا تھا اور مارکس ازم پر اپنا یقین کھوبیٹھا تھا یا پھر اکثر کے پاس اس سوال کا جواب نہ تھا کہ اگر سوشلزم ناگزیر اور لازم و ملزوم تھا تو سوویت یونین، مشرقی کمیونسٹ بلاک کیسے ٹوٹ گئے اور وہاں پر بدترین سرمایہ داری کیسے آ گئی؟ چند ایک جنھیں دانشور سمجھا جاتا تھا اور وہ سوویت یونین ،مشرقی یورپی کمیونسٹ بلاک پہ کافی علم رکھنے والے سمجھے جاتے تھے انھوں نے ان سوالات کے جواب ایک سازشی مفروضے سے دیے کہ گورباچوف امریکی ایجنٹ تھا اور اس نے جان بوجھ کر سوویت یونین توڑ دیا۔ ایک اور نکتہ نظر جو زرا زیادہ سنجیدہ اور علمی تھا وہ یہ تھا کہ حکمران کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت کے بیوروکریٹک اشرافیہ میں بدل جانے کی وجہ سے سوشلسٹ ممالک سرمایہ دارانہ نظام کی طرف واپس چلے گئے۔ پاکستان میں تو سوویت یونین اور مشرقی کمیونسٹ ممالک بارے پروپیگنڈے سے ہٹ کر لیفٹ حلقوں میں سنجیدہ ریسرچ کی جتنی کمی تھی، اتنا برا حال مغربی یورپ اور امریکہ میں نہیں تھآ۔ ٹراٹسکائیٹ گروپوں نے اس حوالے سے بے تحاشا لٹریچر پیدا کیا تھا اگرچہ بعد ازاں ان گروپوں میں یہ سوال تنازعے کا سبب بن گیا تھا: آیا سوویت یونین اور مشرقی یورپی ممالک کی ریاستیں ورکرز سٹیٹ تھیں بھی کہ نہيں؟ ٹراٹسکائٹ میں ایک گروہ تو اسے ٹراٹسکی کی طرح مزدور ریاست مانتا رہا مگر جسے اسٹالنسٹ بیوروکریسی نے تباہ کیا۔ اور دوسرا گروہ وہ تھا جس کے خیال میں یہ ممالک اصل میں ریاستی سرمایہ دارانہ معشیت کے حامل تھے اور سٹیٹ کیپٹل ازم ان کی شناخت تھی نہ کہ سوشلزم۔ اس نظریہ کو تعمیر کرنے والا ٹونی کلف تھا۔ پاکستان میں اول اول سوویت یونین اور مشرقی کمیونسٹ ممالک کی ٹوٹ پھوٹ پہ مارکسسٹ توجیہ کے ساتھ جو گروپ نمایاں ہوا وہ یہی “دا سٹرگل ” تھا اور اس کا رسالہ اپنی اشاعتوں میں کئی مضامین میں اس بحث کو لیکر کالج، یونیورسٹیوں کے نوجوانوں اور پرانے لیفٹ کے نسبتا جوان عناصر میں لیکر آئے اور شاید “غدار ٹراٹسکی” کی بجائے “یکے از بانیاں سوویت انقلاب” کے طور پر ٹراٹسکی کا تعارف اسی گروپ نے کرایا۔ اور اس نے پاکستان کی سرکاری جامعات کے اندر سیاسی جراثیم کے حامل نوجوانوں کی سوویت یونین کے زوال کے حوالے سے علمی پیاس کو بجھانے میں دی سٹرگل کے لٹریچر اور رسالے نے ادا کیا۔

ڈاکٹر تنویر یثرب گوندل دی اسٹرگل میں دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی اور بین الاقوامی تناظر میں سرمایہ دارانہ نظام پر مارکس واد تنقید اور سوشلسٹ نظریات کے پرچار کے حوالے ٹھوس نظریات رکھنے والے اور انتہائی مربوط خیالات کے حامل ہونے کی شہرت پاتے چلے گئے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کا دانشورانہ سماجی مقام ہی انھیں اپنے ہم عصر مارکسسٹ دانشوروں میں ممتاز کررہا تھا۔ دی اسٹرگل نے 90ء کی دہائی میں پنجاب میں جہاں لاہور میں رائل پارک میں اپنا مرکزی دفتر قائم کرلیا، وہیں اس کے صوبائی یونٹس بھی چاروں صوبوں کے صدر مقام پر تشکیل پاگئے۔ ایک زمانے میں دی اسٹرگل کا تنظمی ڈھانچہ ہمیں پنجاب کے اکثر شہروں میں بہت تیزی سے پھیلتا نظر آیا- ایک زمانے میں اسٹرگل کے مضبوط یونٹ پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان میں اور سندھ میں اس کے یونٹ کراچی اور حیدرآباد ،میر پور خاص، بدین ، سکھر اور بلوچستان میں کوئٹہ میں اور ایسے ہی کے پی کے میں پشاور،مردان سمیت کئی شہروں میں اور دا اسٹرگل آزاد کشمیر میں بھی کافی بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے میں کامیاب رہی۔

سوال یہ جنم لیتا ہے کہ دی اسٹرگل کے نام سے پاکستان میں سامنے آنے والا یہ گروپ جن بڑے شہروں میں اپنی طرف نوجوانوں کی بڑی تعداد کو کھینچنے میں کامیاب رہا تھا، کیا ان نوجوانوں کی اکثریت اسے پاکستان پیپلزپارٹی سے ملی تھی؟ ابتدائی چند سالوں میں تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس گروپ کے اندر شامل ہونے والا نیا خون پی پی پی سے تعلق رکھتا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا دا اسٹرگل میں اکثر ایسے نوجوان شامل ہوئے جو پہلے پہل تو دائیں اور بائیں کی الف ب بھی نہیں جانتے تھے اور یہاں تک کہ پہلے وہ سیاسی بھی نہیں تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ مارکس وادی کامریڈ بن گئے اور انھوں نے دا اسٹرگل کو منظم کرنا شروع کردیا۔ دی اسٹرگل کے ابتدائی دنوں میں ہی ایک تقسیم پی پی پی میں انٹرازم کے سوال پہ ہوئی اور نتیجے میں فاروق طارق، شعیب بھٹی و خالد بھٹی وغیرہ اپنے آپ کو الگ کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی پی پی اب محنت کشوں اور کسانوں کی روایتی پارٹی نہیں رہی اور اس کے اندر انٹرازم کرنا ثمرآور نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر لال خان، رنگ اللہی اور دیگر نے اس رائے سے اختلاف کیا اور وہ انٹرازم کی پالیسی کارآمد خیال کرتے رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ڈاکٹر لال خان کی قیادت میں “طبقاتی جدوجہد” کے نام سے پہچانے والا گروپ بعد ازاں پی پی پی اور اس کی ذیلی تنظیموں میں ہی انٹرازم کرنے تک محدود نہیں رہا، اس نے قوم پرست جماعتوں اور ان کی ذیلی تنظیموں میں بھی اس نے انٹر ازم کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے خود اپنے مزدوروں اور نوجوانوں کے محاذ تشکیل دیے۔ ان میں پروگریسو یوتھ ، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفینس کمپئن اور نوجوان بے روزگار تحریک قابل ذکر ہیں اور پھر آزاد کشمیر میں تو جے کے ایل این ایس ایف کا انہوں نے اپنا گروپ بنا ڈالا۔ اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے سروسز سیکٹر ، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے اندر ٹریڈ یونینز میں انھوں نے اپنے کاڈر بھی پیدا کرلیے تھے۔ اس دوران چھوٹی موٹی سپلٹ ہوئیں لیکن مجموعی طور پر دا اسٹرگل نے اپنا وجود ایک بڑی مارکس واد تنظیم کے طور پر قائم رکھا۔ ایک موقعہ پر چودھری منظور جو اپنے اوپر بڑا مارکسسٹ لبادہ اوڑھے ہوئے تھے اور یہاں تک کہ قمر زماں کائرہ اور نذر محمد گوندل تک کو اپنا نظریاتی ساتھی بتلایا گیا اور چوہدری منظور تو 2008ء کی قومی اسمبلی میں مارکس کا بیج لگاکر اسمبلی میں گئے۔ لیکن جلد ہی چوہدری منظور نے اپنا راستا دا اسٹرگل سے 2008-2013 کی پی پی پی حکومت کے دوران الگ کیا۔ انھوں نے پھر انقلابی سوشلسٹ تنظیم بھی بنائی جو چل نہ سکی۔ اس دوران خود ڈاکٹر لال خان کی اپنی تنظیم کے کئی ایک منجھے ہوئے دانشور-ایکٹوسٹ میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا تھا کہ دی اسٹرگل پہ جو پی پی پی کی چھاپ ہے اس سے اسے باہر نکلنا چاہئیے اور پاکستان میں ایک انقلابی مارکسسٹ پارٹی کی تعمیر کے لیے تنظیم کی حکمت عملی میں تبدیلی لائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس بحث نے تنظیم میں شدت اختیار کی اور پھر ایک اور سپلٹ جو میں سمجھتا ہوں ماضی کی تمام سپلٹ سے کہیں زیادہ بڑی تھی سامنے آئی اور اس مرتبہ جو دھڑا الگ ہوا وہی انٹرنیشنل مارکسسٹ ٹینڈیسی کا پاکستان میں آفیشل سیکشن بھی قرار پایا۔ ریڈ ورکرز فرنٹ کے طور پر یہ تنظیم سامنے ہے۔

بڑی سپلٹ کے بعد ڈاکٹر لال خان خود بھی اور ان کی تنظیم بھی بڑی تیزی کے ساتھ خاص طور پر لاہور میں ایسے ترقی پسند گروپوں کی طرف بڑھی اور ان کے ساتھ اشتراک میں نظر آئی جن کو ڈاکٹر لال خان اور ان کے ساتھی این جی او لیفٹ/ لبرل لیفٹ/ نی لبرلز،سامراجی ایجنٹ اور بدترین موقعہ پرست، انقلابی مارکس ازم سے منحرف قرار دیا کرتے تھے اور وہ ڈاکٹر لال خان اور ان کے ساتھیوں کو فرقہ پرست اور تنگ نظر کہا کرتے تھے اور ان کی تنظیم کا رویہ پی پی پی کی طرف بڑی حد تک بے گانہ ہوچکا تھا۔ اور آپنی زندگی کے آخری دنوں میں وہ انہی ترقی پسند گروپوں کے ساتھ مل کر ایک فرنٹ بنانے کی طرف جارہے تھے جو بعد میں خدمت خلق موومنٹ کہلایا اور اس نام سے موجود ہے۔

اب سوال یہ جنم لیتا ہے کہ ڈاکٹر لال خان اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کو لبرل(دائیں طرف) جانے سے روکنے اور اسے زیادہ سے زیادہ بائیں طرف دھکیلنے کی جوکوشش کی اس میں وہ کہاں تک کامیاب رہے؟ کیا پاکستان پیپلزپارٹی میں اوپر سے نیچے تک اور نیجے سے اوپر لیفٹ اپوزیشن کی تعمیر ہوسکی اور کیا اس کی جدوجہد پی پی پی کی تنظیمی صورت حال میں بہتری لاسکی؟

اس وقت اگر آپ صرف سوشل میڈیا پہ پی پی پی کے ہمدرد رضاکارانہ انفرادی اور اجتماعی سوشل پیجز اور اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ہمیں کہیں لیفٹ اپوزیشن ، سوشلسٹ بایاں بازو رنگ کاری نظر نہیں آتی۔ بلکہ مجموعی طور پر پی پی پی کے ڈائی ہارڈ ورکرز اور عام جیالوں کا رویہ نہ تو پرانے لیفٹ کی باقیات کی طرف ہمدردانہ ہے اور نہ ہی ڈاکٹر لال خان کے طرح نیو لیفٹ کی گروپوں کی طرف دوستانہ ہس بلکہ کئی ایک جہتوں سے یہ انتہائی سخت اور جارحانہ ہے۔

اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی ذیلی تنظیمیں جو ہیں ان کی مرکزی، صوبائی اور ڈویژنل اور ضلعی قیادت اور ان کے ارد گرد سرگرم نظر آنے والے کارکن نظریاتی مباحث سے تو ویسے ہی دور ہیں ان کے ہاں نظریات کے نام پر جو بحث ہے وہ زیادہ سے زیادہ اپنی قیادت کی قربانیوں کے گرد گھومتی ہے یا پھر وہ نیو لبرل اکنامک ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے دوسری جماعتوں اور رجیم کے مقابلے میں اسی مارکیٹ ماڈل کے اندر رہتے ہوئے ریلیف دینے کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن سوال یہ جنم لیتا ہے کہ طبقاتی جدوجہد اور ڈاکٹر لال خان نے جو قریب قریب چار عشرے پی پی پی میں انٹرازم کیا، اس کے کم از کم بھی وہ نتائج کیوں نہیں نکلے جو اتنی بڑی جدوجہد کے بعد نکلنے جآہئیے تھے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے دانشوروں کی سوشلسٹ تنقید پر رائے
پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر اس وقت ایسے قابل دانشور موجود ہیں جو پاکستان پیپلزپارٹی کے آفیشل سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو نہیں ہیں لیکن وہ رضاکارانہ بنیادوں پر پاکستان پیپلزپارٹی کا دفاع کرتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ہیں جنھوں نے قدرے سنجیدگی اور علمی طرز پر پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور اب آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان میں معشیت کے میدان میں تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ان میں میرے بہت ہی عزیز ساتھی رانا شرافت علی ایڈوکیٹ کا یو ٹیوب چینل “دوسرا رخ” ہے، اس پہ ان کا ایک وی لاگ آیا جس کا عنوان ہے: سوشل ازم کے ملاں ۔۔۔۔۔

انھوں نے اپنے اس وی لاگ میں پی پی پی کی قیادت کی مبینہ نیولبرل اصلاح پسندی پر تنقید کرنے والے سوشلسٹ ناقدین کو سوشلزم کے ملاں قرار دیا اور ان پر یہ الزام لگایا کہ وہ کارل مارکس وغیرہ کی دو چار کتابیں رٹ کر اور کچھ سوشلسٹ اصطلاحوں کو رٹ کر بالکل ویسا ہی کردار اپنا لیتے ہیں جیسا کردار مذہبی ملاں کا ہوتا ہے۔ ان کا کہنہ یہ ہے کہ سوشلسٹ ناقدین یہ جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی کوئی انقلابی پارٹی تھی اور یہ خونی انقلاب کے زریعے سے سماج میں سوشلزم کا نفاذ چاہتی تھی۔( سوشلسٹ ناقدین پر یہ الزام پی پی پی کے ایک اور سینئر کارکن پروفیسر یوسف اعوان نے بھی لگایا اور ایسےہی کئی ایک نوجوان جن کو میں پاکستان پیپلزپارٹی میں لبرل قوم پرستی سے متاثرہ کہہ سکتا ہوں یہ الزام سوشلسٹوں پہ لگاتے ہیں بلکہ ایک نوجوان تو کمال کرتے ہوئے پی پی پی پہ تنقید کرنے والے سوشلسٹ ناقدین کو انارکسٹ قرار دے ڈالا اور اس نے ڈاکٹر لال خان کو بھی انارکسٹوں کی صف میں کھڑا کردیا۔

رانا شرافت علی اپنے وی لاگ میں کہتے ہیں کہ پی پی پی کی اصلاح پسندانہ نیولبرل معشیت کے ناقد سوشلسٹ ذوالفقار علی بھٹو پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ چونکہ جاگیردار تھے اس لیے انہوں نے جاگیرداروں کے مفادات کے لیے پارٹی کے اصل پروگرام کو پس پشت ڈال دیا جو سوشلسٹ نظام کا نفاذ تھا اور اس طرح سے انہوں نے محنت کش طبقات سے غداری کی۔ اور اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے وہ جاگیرداری کو ایک “ذہنی کیفیت” کا نام قرار دیتے ہیں اور بڑی لینڈ ہولڈنگ کے مالک کے لیے جاگیردار کی اصطلاح کو غلط قرار دے ڈالتے ہیں۔

کیونکہ میرا اس مضمون کا مقصد ڈاکٹر لال خان کی برسی کے موقعہ پر ڈاکٹر لال خان اور ان کے ساتھیوں پر پیپلزپارٹی پرتنقید کے جواب میں ان کو موقعہ پرست اور بالواسطہ طور پر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط کرنے جیسے الزام پہ بات کرنا ہے تو میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا لازمی ہے کہ کیا ڈاکٹر لال خان اور 89ء کے بعد ہمارے ہاں جو لیفٹ کی نئی روایت پیدا ہوئی وہ ذوالفقار علی بھٹو جاگیرداروں کا ایجنٹ کہتی تھی؟ کیا اس کا یہ تجزیہ تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جن معاشی پالیسیوں کو رائج کیا ان کے نتیجے میں جاگیرداری مضبوط ہوئی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان کے تمام لیفٹ و سوشلسٹ ناقدین یہ خیال کرتے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو جاگیرداری کو مضبوط کرنے کا سبب بنے تھے؟

جب میں طبقاتی جدوجہد کے گزشتہ 44 سال کے سالانہ کانگریسوں میں پیش کردہ انقلابی تناظر اور ڈاکٹر لال خان اور ان کے دیگر ساتھیوں کی پیپلزپارٹی پر تنقیدی مضامین کا جائزہ لیتا ہوں تو ان میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی معاشی پالیسیوں پر بہت کم تجزیہ و تنقید ملتی ہے اور جو تنقید ہے بھی وہ اس بات پہ نہیں ہےکہ بھٹو صاحب کی نیشنلائزیشن کا اصولی فیصلہ غلط تھا یا ان کی لیبر پالیسیز غلط تھیں یا زرعی اصلاعات کا فیصلہ غلط تھا بلکہ وہ نیشنلائزیشن پر بنیادی اعتراض یہ کرتے ہیں کہ جن شعبوں اور اداروں کو نیشنلائزڈ کیا گيا تھا ان کو پرانی نوکر شاہی کے ہاتھوں میں دینا غلط تھا بلکہ ورکرز پہ مشتمل بورڈ ہوتا اور ان کو ان کا کنٹرول دیا جاتا جبکہ تقسیم اور پرچون کا سیکٹر نجی شعبے میں ہی رہنے دیا جائے گا جبکہ ان کی نگرانی کے لیے مقامی نگران مزدور کمیٹیاں بنائی جاتیں۔(مجوزہ پارٹی منشور 2000 مطبوعہ اپریل 2000) ۔

میں بڑا حیران ہوا ہوں کہ رانا شرافت علی نے پرانے سوشلسٹ دانشوروں پہ یہ الزام مطلقا عائد کردیا کہ ان کی بھٹو کی سیاست کا تجزیہ کٹھ ملائیت پر مبنی تھا۔ میں اس سلسلے میں یہاں بطور ثبوت کے سوشلسٹ میگزین”پاکستان فورم” کی مثال پیش کرتا ہوں۔ اس رسالے میں بھٹو ، پی پی پی اور ان کی معاشی پالیسی پر درجنوں مضامین شایع ہوئے۔ یہ رسالہ نومبر 1977ء میں شایع ہونا شروع ہوا اور ضیاء الحق کے مارشل لا کے ابتدائی سالوں تک تواتر سے شایع ہوتا رہا۔ اس رسالے میں ڈاکٹر فیروز احمد کے جو مضامین اور لکھے اداریے شایع ہوئے ان کا مجموعہ چھپ چکا ہے۔ ڈاکٹر فیروز احمد کا ایک مضمون “عوام بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں” اس مضمون میں ڈاکٹر فیروز احمد جاگیردار طبقے کے بارے میں پی پی پی اور بھٹو کی حکومت کے رویے کا تفصیلی جائزہ لیا اور انھوں نے اس جائزے میں ایک تو یہ بات ثابت کی:

“یہ غلط فہمی دور ہوجانی چاہیے کہ بھٹو نے اپنی فیوڈل طاقت کے سہارے اقتدار کی سیڑھی پر ترقی کی ہے۔ اس کی فیوڈل طاقت کسی عام سندھی زمیندار سے زیادہ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے جاگیرداری کی بیساکھیوں کے سہارے نہیں بلکہ جاگیردارانہ نظام میں انتشار پیدا کرکے اقتدار حاصل کیا۔”(ص54)

“پاکستان میں جب کبھی نمائندہ حکومت غائب رہی ہے تو نوکر شاہی کے سیاسی و اقتصادی پاور میں اضافہ اور وڈیرہ شاہی کی طاقت میں کمی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وڈیرہ شاہی پارلیمانی جمہوریت کو اور درمیانہ طبقہ مختلف بہانوں سے فوجی حکومت اور “بنیادی جمہوریت” کو خوش آمدید کہتا ہے”
“جمہوری نظام میں جاگیردار طبقہ اپنے سماجی پاور کو جزوی سیاسی پاور میں منتقل کرکے اپنے مفادات پورے کرسکتا ہے لیکن درمیانے طبقے کے پاس ایسا سماجی پاور نہیں ہے جس کو وہ ووٹوں کے زریعے سیاسی پاور میں بدل سکے”

“بھٹو نے سندھ اور جنوبی و مغربی پنجاب کے جاگیرداروں کو ایک ایسی پارٹی فراہم کی جو بیک وقت مقبول بھی تھی اور جاگیرداروں کے لیے اقتدار کی سیڑھی کا کام بھی دے سکتی تھی، اس پارٹی کے دور اقتدار نے جاگیردار طبقے کو بہت فائدے پہنچائے لیکن جاگیرداری کو مستحکم نہیں کیا۔”
“ڈاکٹر فیروز احمد کے مضامیں” مطبوعہ 2009 ، پاکستان اسٹڈی سینٹر ،جامعہ کراچی
ڈاکٹر فیروز احمد نے بھٹو دور کی نیشنلائزیشن اور زرعی اصلاحات کا سماج واد سائنسی تجزیہ بھی کیا۔ ان کی ایک اور کتاب ہے جس میں انھوں نے عالمی مالیاتی سامراجی اداروں کے حوالے سے بھٹو دور حکومت کی پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اور مجھے ان کا بھٹو بارے یہ تجزیہ سب تجزیوں پہ بھاری لگتا ہے:

” ہمارا ملک پاکستان ہے ناکہ فرانس ، چین، ارجنٹینا۔۔۔ یہ بیسویں صدی کی آخری چوتھائی ہے نہ کہ انیسویں صدی کا وسط یا بیسویں صدی کی شروعات۔ ہمارے ٹھوس اور منفرد سماجی حالات ٹھوس اور منفرد حل کے متقاضی ہیں۔ ان حالات نے ایک ایسی منفرد سیاسی شخصیت کو جنم دیا جس نے جدید نوآبادیاتی پسماندہ ملک کے تمام تر تضادات کو اپنے اندر سموکر اور اندرونی طفیلیہ ڈھانچہ سے مکمل ٹکر لیے بغیر اس میں ایک ترقی پسند سدھار وادی (اصلاح پسند) پروگرام پر عمل کرنے کی کوشش کی تاکہ اس ملک میں اقتصادی ترقی ہو، سامراجیوں سے آزادی ملے اور غریب و مفلس عوام کے حالات زار میں کچھ کمی ہو۔ لیکن اس پروگرام پر عمل کرنے کے لیے اقتدار کو باقی رکھنا لازمی تھا۔ چنانچہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے اسے ایک طرف سامراجیوں، ذیلی سامراجیوں اور مقامی رجعت پسندوں کے ساتھ مفاہمت اور سمجھوتہ کرنا پڑا۔ دوسری طرف اندرونی مخالفت پہ غالب آنے کے لیے اسے ریاستی تشدد پر انحصار کرنا پڑا۔ ریاستی مشینری کو جدید تر بنانا بھٹو کی محض ایک مجبوری نہیں تھی۔ وہ ہیگل کا ایک بگڑا ہوا پیروکار ہے جو ریاست کو انسان کی سماجی تخلیق کا اعلی ترین مظہر سمجھتا ہے ۔ چنانچہ اس نے بونا پارٹ کی طرح خود کو ریاست بنانے کی کوشش کی اور روزانہ ایک چھوٹا موٹا دھڑن تختہ کرکے اپنے مخالفوں، سرکاری اہلکاروں اور اپنے ساتھیوں تک کو ہراساں کرتا رہا۔”

“پاکستان جیسے جدید نوآبادیاتی ملک میں جب تک انقلاب نہیں آتا اور مارکس واد انقلابی قیادت نہیں ابھرتی اس وقت تک ایک مستقل مزاج ترقی پسند لیڈر کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔”

“بھٹو کو مارکسی پیمانوں پہ ماپنے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس نے کبھی کمیونسٹ یا مارکسی ہونے کا دعوی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

(عوام بھٹو سے محبت کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر فیروز احمد )

پاکستان فورم ایک ایسا رسالہ تھا جس کے ادارتی بورڈ میں سبط حسن بھی شامل تھے اور یہ پرانے لیفٹ کے سکّہ بند مارکس واد اور سماج واد دانشوروں کا نمآئندہ رسالہ تھا- دیکھ سکتے ہیں کہ اس پرانے سوشلسٹ لیفٹ کا بھٹو بارے کیا تجزیہ تھا۔ اس نے بھٹوکے خلاف شہری درمیانے طبقے، سول و ملٹری نوکر شاہی کی سوچ اور محنت کش طبقات کی سوچ کا کس طرح سے حقیقت کے انتہائی قریب تجزیہ کیا جس کا بہت ہی سادہ اور کسی حد تک درست تجزیہ ہمارے دوست رانا شرافت ایڈوکیٹ نے کیا لیکن وہ پی پی پی کے ناقد سوشلسٹوں کو ملاؤں کا خطاب دیتے ہوئے جو تجزیہ سوشلسٹوں نے کیا اسے ان کا کریڈٹ نہ دے سکے۔ مجھے نجانے کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ رانا شرافت علی ایڈوکیٹ بھٹو پہ لبرل اور نیولبرل دانشوروں جن کو ہم کمرشل لبرل دانشور کہتے ہیں کی سوچ کو یا معاصر لبرل لیفٹ کے ایک سیکشن کی سوچ کو پرانے لیفٹ اور جدید مارکسی نقادوں جیسے ڈاکٹر لال خان ہے پر چسپاں کردیتے ہیں۔

کچھ باتیں رانا شرافت ایڈوکیٹ بنا کسی حوالے کے دے گئے مثال کے طور پر انھوں نے پی پی پی میں موجود سوشلسٹ عناصر پہ یہ الزام عائد کیا کہ انہوں نے اپنی عدالت لگائی اور ڈی سی کو سزائے موت سنائی۔ ایسا پی پی پی سے وابستہ کس سوشلسٹ نے کیا تھا۔ ہاں اس دوران کئی ایک کارخانوں اور فیکٹریوں پر مزدروں کے آزدخود قبضے اور زرعی جاگیروں پہ قبضوں کی اکا دکا مثالیں ضرور آئی تھیں جو بعد ازاں چھڑالیے گئے تھے۔

ڈاکٹر پروفیسر یوسف اعوان نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا پی پی پی کا تیسرا اصول “سوشلزم ہماری معشیت ” ہے۔ اس سے پی پی پی سوشلسٹ پارٹی نہیں بن جاتی ۔ حیران کن جواب ہے جبکہ پارٹی کی تاسیسی دستاویز نمبر 7 میں “پیداوار کے زرایع سوشلسٹ نکتہ نظر سے” کا عنوان اور اس کی تفصیل پی پی پی کو سوشلسٹ معشیت کی علمبردار پارٹی بتاتی ہے تو سوشلسٹ معشیت کے علاوہ اور کون سی چیز کسی سیاسی جماعت کو “سوشلسٹ پارٹی” مانتی ہے۔ اگر پی پی پی خود کو سوشلسٹ پارٹی نہیں سمجھتی تو یہ سوشلسٹ سیاسی جماعتوں کی عالمی چھاتہ تنظیم کی ممبر کیوں ہے اور اس کی سالانہ کانگریسوں میں شریک کیوں ہوتی ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی واقعی انقلابی سوشلسٹ یا انقلابی مارکسسٹ جماعت نہیں ہے یہ وہ بات ہے جسے پرانا اور نیا دونوں لیفٹ مانتا ہے۔ یہ جمہوری پارلیمانی سوشلسٹ پارٹی ضرور ہے۔ کیونکہ اتحاد عوام نامی دستاویز ہو یا ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی تقاریر ہوں ان کے مطابق پی پی پی کا تصور جمہوریت عوامی جمہوریت ہے جس میں محنت کش طبقات کی بالادستی ایک آدرش ہے۔

ظفر اجن سابق شوہر فہیمدہ ریاض جو ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے رکن رہے انھوں نے “بھٹو کی آواز” کے نام سے ذوالفقارعلی بھٹو کی تقاریر کے اقتباسات کا ایک مجموعہ شایع کیا ، اس مجموعے میں بھٹو صاحب کئی جگہوں پر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو جیل بھجوانے اور اور سرمایہ داروں کی صعنتوں کو قومی ملکیت میں لینے اور جاگیریں بے زمین کسانوں میں بانٹنے کا عہد دوہراتے ہیں تو اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ عوامی جمہوریت سے کیا مراد لیتے تھے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے دانشوروں کے سامنے کچھ بڑے سوالات ہیں جن کا جواب ان کو کھل کر دینےکی ضرورت ہے:

کیا پاکستان پیپلزپارٹی اپنی بنیادی تاسیسی دستاویز پر اب بھی یقین رکھتی ہے؟

کیا اس دستاویز میں جو پارٹی کا تیسرا اصول ” سوشلزم ہماری معشیت ہے (جسکے تحت وہ تمام صعنتوں، سروسز سیکٹر کی نیشنل لائزیشن کی قائل ہے) کیا اب بھی ان کا اصول ہے؟

اگر یہ پی پی پی کا اصول ہے تو اس نے 1988-1990، 1993-1997، اور 2008-2013 تک کسی ایک ادارے کو واپس نیشنلائز کیوں نہ کرپائی اور اس نے اپنے تینوں اداروں میں کئی درجن ادارے ڈی نیشنلائز کیے، کیوں؟

پی پی پی اگر سماجی خدمات کے شعبے کی نجکاری کی حامی نہیں ہے جیسے تعلیم اور صحت ہیں تو پھر اس نے صوبہ سندھ میں سندھ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن، سندھ ہیلتھ فاؤنڈیشن، سندھ سولر پاور کمپنی کے نام پر پرائیویٹ-پبلک پارٹنرشپ کیوں متعارف کرائی ہے؟

پی پی پی اگر عالمی مالیاتی ادارروں کو اپنی بنیادی دستاویز میں سامراجیت اور نوآبادیت کی تجدید نو کرنے والے ادارے ہیں تو وہ صحت، تعلیم، زراعت سمیت سروسز سیکٹر میں ان عالمی مالیاتی اداروں سے لیے قرضوں کے عمل کو بتدریج کم کرتے ہوئے ختم کیوں نہ کرپائی؟

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا سوشلسٹ معشیت اور نیولبرل معشیت کا باہم کوئی جوڑ ثابت ہوسکتا ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی میں سرمایہ داروں ، سٹے بازوں، دہاڑی داروں سمیت بورژوازی (بڑی سرمایہ داری) اور پیٹی بورژوازی اور زمیندار اشرافیہ کی کافی بڑی تعداد ہے جو اس وقت پارٹی کے قریب قریب ہر ایک اہم عہدے پر قابض ہے۔ اور جو نچلے متوسط طبقے کے کارکن پارٹی کی مرکزی یا صوبائی یا ریجنل تنظیمی عہدوں پر ہیں وہ پارٹی میں شامل حکمران طبقات کے مینجرز کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ پارٹی میں شفاف انتخابات کی روایت نہ ہونے اور محض نامزدگیوں کے سبب ہیں۔ کیا یہ صورت حال پارٹی کے عوامی جمہوریت کے نصب العین کے مطابق ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو پی پی پی کے اندر پارٹی کو اس کی بنیادی و تاسیسی دستاویز کے عین مطابق بنانے کے لیے کون سی لیفٹ اپوزیشن تعمیر ہوئی ہے؟

پاکستان پیپلزپارٹی کے سوشل میڈیا پر اس وقت جو نظریہ ساز و رجحان ساز دانشور ہیں ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جس کو پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے سب سے بڑے پالیسی ساز ادارے مرکزی کمیٹی (این سی) میں رکھا ہوا ہو اور وہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے سامنے پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیادی اور تاسیسی دستاویزات کے عین مطابق پالیسیوں کی تشکیل کا مقدمہ پیش کرسکے اور پاکستان پیپلزپارٹی میں نیچے سے اوپر تک جمہوری طریقے سے مشاورت کے فقدان پر سوال اٹھاسکے۔ کیا پاکستان پیپلزپارٹی میں محنت کش طبقات کی نمائندگی تنظیم میں اور سینٹ، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں میں ان کی آبادی کے تناسب سے ہے؟ پی پی پی سندھ حکومت میں لیبر، تعلیم، ثقافت، صعنت، ایکسائز و ٹیکس، زراعت کی وزراتوں اور اس سے متعلقہ محکموں میں مشیر اور سربراہوں کے عہدے کس قدر ورکنگ کلاس کے اندر سے ہیں؟

اور سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ پی پی پی کے تنظیمی اجلاسوں میں یہ سب سوال کس قدر زیر بحث آتے ہیں؟ اور ان پہ کتنی ورکنگ کمیٹیاں آج تک تک بنیں اور بنیں تو ان کی رپورٹس کہاں ہیں؟ اور ان پہ عمل درآمد بارے بریف نوٹس کہاں ہیں؟

پی پی پی کے دانشوروں اور عام سیاسی کارکنوں کو دوستانہ تنقید اور دشمنانہ تنقید میں فرق جان کر جینا ہوگا۔ ان کے فتوے نما بیانات اور جھڑکیاں اس پارٹی کو اور سیکڑ کر رکھ دیں گی ۔ میرا مخاطب وہ دانشور ہیں جو خود کو محنت کش طبقات کے ترجمان سمجھتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں پروفیسر تاج حیدر، این ڈی خان، اقبال یوسف، حیب اللہ شاکر، مولا بخش چانڈیو، حارث گزدر، مشتاق گزدر، رانا شرافت، پروفیسر یوسف اعوان، ضرار يوسف، سید طاہر عباس، مشتاق گاڈی، امام بخش، ملک سلیم، ریاض ملک جیسے عوامی دانشوروں کی انتہائی قدر و منزلت ہے۔ اور پی پی پی کے ان رضاکار دانشوروں سے یہ امید بھی ہے کہ کم از کم انتہائی سنجیدہ نظریاتی سوالات جیسے سوشلسٹ معشیت کا سوال ہے پر یہ سوئپنگ سٹیٹمنٹ دینے کی بجائے ٹھوس جواب کے ساتھ سامنے آئیں گے۔

میں پی پی پی کے نوجوان دانشورانہ رجحان رکھنے والے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ جیالے کارکنوں سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ “اینگری یوتھیا جیالہ” بنکر سامنے آنے کی بجائے سنجیدگی سے اپنے خیالات سامنے لیکر آئیں۔ اگر وہ “سرخوں کا طریقہ واردات” اور “نام نہاد سرخے” ایسے مضامین سپرد قلم کریں گے اور ڈاکٹر لال خان ہو یا کوئی اور ان کو “انارکسٹ، نراجیت، خونی انقلاب کا علمبردار” بتلائیں گے تو یہ اپنی ہی ہنسی اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے میں آپ کیسے یاسر ارشاد، آفتاب اقبال، کمیانہ، آدم پال، پارس جان، انعم پتافی، سرتاج احمد خان، ڈاکٹر ریاض احمد،سہیل اقبال رائے،فاروق سلہریا، سید عظیم، قیصر بنگالی جیسے سوشلسٹ ماہرین معشیت سے مکالمہ کرپائیں گے؟ کم از کم سرمایہ داری اور سوشلسٹ جن اقتصادی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں اور سماجی طبقات کی جو تعریفات ان کے رائج ہیں ان کی شد بد تو لازم ہیں کہ نہیں؟

اب جیسے ہمارے پیارے دوست شرافت رانا نے “فیوڈل” کی اصطلاح کو کہا کہ اس سے مراد “ذہنیت” ہے تو کیا یہ “مائینڈسیٹ/سائیکی” بنا کسی سماجی مادی صورت حال کے کسی کے ہاں جنم لے سکتی ہے جبکہ یہ بات کرتے ہوئے شرافت رانا یہ بات بھی نظرانداز کرگئے کہ سماجی طبقے /سوشل کلاس کی تعریف مارکسی ماہرین کے نزدیک اس طبقے کے سماج کے طریق پیداوار میں پیدائش پیداوار کے دوران پیدا ہونے والے رشتے سے متعین ہوتی ہے اور سماجی کردار بھی اسی رشتے اور تعلق سے متعین ہوتا ہے۔ جاگیردار کی سماجی پاور اس کی زمین پر ملکیت سے ہی نمودار ہوتی ہے جیسے سرمایہ دار کی سماجی طاقت سرمایہ پر کنٹرول سے اور پھر یہی سماجی پاور وہ سیاسی طاقت میں بدلتے ہیں اسی لیے مارکس کا معروف قول ہے کہ سیاست معشیت کا عکس ہوتی ہے ناکہ معشیت سیاست کا۔ ہمارے سماج کا غالب طریق پیداوار سرمایہ دارانہ طریق پیداوار ہے اور اسی وجہ سے ہماری ریاست اس سے جڑے مفادات کے حامل طبقات کے تحفظ میں سرگرداں رہتی ہے۔

ایک اور بات جس کا تذکرہ کرکے میں اپنے اس مضمون کو یہیں پہ ختم کردوں گا اور وہ یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ایک واضح فرق بہرحال موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ پارٹی مکمل طور پر نیولبرل اکنامی کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوئی اور یہ ریاست کے سماجی و فلاحی کردار کو بھی مکمل طور پر ختم کرنے کے حق میں نہیں ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ اس پارٹی کی ترکیب ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستانی ریاست کی وردی بے وردی نوکر شاہی، شہری درمیانے طبقے کی اکثریت پرت اور مقامی تجارتی اور مالیاتی سرمایہ دار سیکشنز کی اکثریت اس سے نفرت کرتی ہے۔ اس پارٹی کی واضح طور پر غریب اور متوسط طبقے کے دیہی علاقوں کے ووٹر اس پارٹی کی طرف ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کا (نیو) لبرل سیکشن کی اکثریت پی پی پی کو سمجھتی ہے کہ اس کے پاس گورننس کی صلاحیت نہیں ہے تو اس کا مطلب صاف صاف یہ ہوتا ہے کہ یہ ظالم ترین نجکاری اور کسان دشمن پالیسیاں کیوں تشکیل نہیں دیتی جیسے مسلم لیگ نواز کرتی رہی یا آج پی ٹی آئی کررہی ہے۔


شیئر کریں: