اسلامی مزاحمت کا ستارہ ” انیس نقاش”

شیئر کریں:

تحریر ڈاکٹر صابر ابو مریم

تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ ایسے لوگوں کو ہمیشہ یاد رکھا گیا ہے کہ جنہوں نے کم تعداد اور کم وسائل
کے باوجود حق کی خاطر جد وجہد جاری رکھی ہے ۔ انبیائے کرام اور برگزیدہ بندوں کی ایک طویل
فہرست طول تاریخ میں موجو دہے کہ جس میں واضح طور پر نشانیاں ملتی ہیں کہ حق کا پرچم سربلند
رکھنے کے لئے مصائب اور مشکلات کے باوجود جد وجہد جاری رکھی گئے ۔ جیسا کہ در بالا مضمون کا
عنوان انیس نقاش کے نام پر ہے اور یہ دنیائے مزاحمت کی تاریخ میں ایک ایسا چمکتا ہوں ستارہ ہے کہ جو ظاہری طور پر گذشتہ دنوں دار فانی سے کوچ کرتے ہوئے آسمانی ستاروں میں جا پہنچا ہے ۔ انیس نقاش کو ویسے تو شاید عام فہم لوگ نہ جانتے ہوں لیکن دنیائے مزاحمت میں انیش نقاش کا نام ایک ایسا روشن نام ہے جو اپنے نقوش مزاحمت کی تاریخ پر چھوڑ گیا ہے ۔ اس مقالہ کو لکھنے کا مقصد یہی ہے کہ انیس نقاش کی یاد کے ساتھ ساتھ حقیقت میں جو کچھ انہوں نے فلسطین و دنیا کی دیگر مظلوم اقوام کے حق میں جد وجہد کے ذریعہ کیا ہے اس کی آشنائی بھی حاصل ہو ۔ انیس نقاش بھی ایسے ہی افراد میں شامل ہیں کہ جو حالیہ دنوں دنیا بھر میں جاری کورونا وائرس کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ۔

انیس نقاش سنہ1951ء میں پیدا ہوئے او ر سنہ2021ء میں ستر سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئے ۔ نقاش کا تعلق لبنان کے دارلحکومت بیروت سے تھا ۔ نقاش نے ابتدائی زندگی میں ہی الجیریا میں انہوں نے فرانس کے نوآبادیاتی نظام کے خلاف ہونے والی جد وجہد میں حصہ لیا ۔ نقاش نے سنہ1964ء میں فلسطین میں فتح موومنٹ میں شمولیت اختیار کی ۔ نقاش نے اس زمانہ میں تحریک آزادی فلسطین کے لئے لبنانی اور فلسطینی جوانوں ی تربیت کی تاکہ وہ مزاحمتی تحریک میں شامل ہو کر تحریک آزادی فلسطین میں اپنا کردار ادا کریں ۔ حتیٰ انیس نقاش ان افراد میں شامل ہیں کہ جنہوں نے جنوبی لبنان کے علاقوں میں فلسطینی و لبنانی نوجوانوں کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے اور اسرائیلی مظالم کے خلاف جد وجہد کو تیز کیا ۔ جب سنہ1978ء میں اسرائیل کی غاصب افواج نے لبنان پر چڑھائی کی تو انیش نقاش جنوبی لبنان میں مزاحمت کی مدد کرنے کے لئے ڈٹ گئے اور صہیون جارحیت کا ڈٹ کرمقابلہ کرنے میں مزاحمتی گروہوں کے ہمراہ رہے ۔

انیس نقاش نے اپنی زندگی کے انہی ایام میں جنوبی لبنان کے علاقوں کفر شعبا اور بنت جبیل میں دو مختلف مزاحمتی گروہوں کو تشکیل دیا جنہوں نے نہ صرف جنوبی لبنان پر اسرائیلی فوجی چڑھائی کے خلاف مزاحمت کی بلکہ آگے چل کر لبنان کی مزاحمتی تحریک کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا ۔ انیس نقاش اپنے زمانے کے ایک با فہم فرد سمجھے جاتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جب سنہ1979ء میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب آیا تو انیس نقاش نے امام خمینی کے اس اقدام کی حمایت کی اور امام خمینی کے ہمراہ ہو گئے ۔ انیس نقاش فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد باہمی رابطوں اور بہترین تعلقات کے قیام کے محرکین میں سے ایک اہم محرک تھے ۔ انیس نقاش لبنانی مجاہد جو کہ فلسطینی سرزمین پر فلسطینیوں کے ساتھ بھی موجود رہتے تھے اور بعد ازاں امریکہ اور اسرائیل نے ان کو ایک دہشت گردانہ حملہ میں شہید کیا ، یعنی عماد مغنیہ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے تھے ۔

انیس نقاش حقیقت میں ایک مجاہد باعمل تھے ۔ نقاش کا شمار عرب دنیا کے مایہ ناز محقق اور عظیم مفکر ین میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں صہیونی دشمن کے مقابلہ میں بہت سی تحقیقات اور حکمت عملیاں وضع کیں جس سے صہیونی دشمن کے ساتھ تصادم میں مزاحمتی تحریکوں کو بڑی کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔ انیس نقاش نے اپنی زندگی کے متعدد سالوں کو ایک آزادی پسند اور حریت پسند یا پھر فریڈم فائیٹر کہا جائے تو درست ہو گا، اسی تناظر میں زندگی بسر کر دی ۔ مسئلہ فلسطین انیس نقاش کے دل و دماغ میں رہتا تھا ۔ انہوں نے دنیا بھر میں حریت پسندوں اور بالخصوص فلسطینی کاز کے لئے سرگرم رہنے کے لئے لوگوں کو متحرک کیا ۔ اپنی تحریروں اور تجزیات میں صہیونی دشمن کی آئندہ حکمت عملیوں اور شیطانی چالوں کی پیشن گوئیاں کیں جو کہ اکثر درست ثابت ہوتی رہیں اور اس تحقیق اور تجزیات سے فلسطین کے اندر اور فلسطین سے باہر اسلامی مزاحمت کے گروہوں نے بھرپور استفادہ کیا ۔ انیس نقاش نے لبنان میں اسرائیل مخالف مزاحمت کے ساتھ ساتھ مختلف مقامی اور بین الاقوامی فورمز پر سیاسی اور فوجی مقاصد کا بہادری سے دفاع کیا ۔ انہوں نے اپنے تحقیقی مقالہ جات اور تجزیات سمیت حکمت عملی کی دستاویز میں ہمیشہ عالمی سامراج بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی شیطانی چالوں کو آشکار کرنے کے لئے انتھک محنت کی اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ امریکی و اسرائیلی منصوبوں اور حکمت عملی کی شدید مخالفت کی ۔ چاہے وہ معاملہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا ہو یا پھر شام میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی جانے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کا ہو ۔ اسی طرح جب مسئلہ فلسطین کا ہو تو وہ ا س بات پر قائل تھے کہ امریکہ اور اسرائیل کبھی بھی مسئلہ فلسطین کا حل نہیں ہیں بلکہ اصل مسئلہ کی جڑ ہی امریکہ اور اسرائیل ہیں ۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی خاطر ایک طویل جد وجہد کی اور ستر سال کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے ۔ اگرچہ انیس نقاش دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن ان کی جدوجہد اور کاوشوں کے نشان آج بھی مزاحمت کے راستہ پر چلنے والوں کے لئے مشعل کا کام انجام دے رہے ہیں ۔

خلاصہ یہی ہے کہ دنیائے مزاحمت میں انیس نقاش جیسے روشن ستارے کہ جنہوں نے اپنی زندگی مظلوم اقوام کے حقوق کے دفاع کی خاطر گذار دی اور دنیا سے اس حال میں رخصت ہوئے کہ آنے والوں کے لئے ایک راہ عمل فراہم کر گئے ۔ مقالہ کے اختتام پر پاکستانی عوام کے جذبات کا اظہار اس لئے بھی ضروریی سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے عوام فلسطین کاز کے ساتھ سنگین حساسیت کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں اور ہر ایسے شخص کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ جو مظلوم اقوام فلسطین وکشمیر و دیگر کے ساتھ ہوں ان کو خراج تحسین و عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ انیس نقاش بھی ایسے ہی افراد میں سے ہیں کہ جن کوان کی عظیم خدمات کی بنیاد پر پاکستان کے عوام بھی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

لکھاری سیکریٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان ہیں


شیئر کریں: