عالمی برینڈز گندگی پھیلانے میں سرفہرست، کوکا کولا، پیپسی اور نیسلے ماحولیات کو خراب کرنے لگے

شیئر کریں:

دنیا کے بڑے برینڈز انسانی بقا کے لیے بڑا خطرہ بن گئے۔
کولاکولا، پیپسی اور نیسلے دنیا بھر میں پلاسٹک سے ماحول آلودہ کرنے کا سب بڑا سبب بن گئے۔
دنیا بھر سے کچرا ختم کرنے والی تنظیم ویسٹ پکر کی رپورٹ کے
مطابق یہ برینڈز مسلسل تیسرے سال دنیا بھر میں پلاسٹک سے کچرا پھیلانے میں پہلے نمبر رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2020 میں دنیا کے 55 ممالک سے پلاسٹک کے ٹکرے اٹھائے گئے۔
ماحول کو آلودہ کرنے والے 3لاکھ 50 ہزار کے قریب پلاسٹک
کے نمونے اٹھانے میں دنیا بھر سے 1500 سے زائد رضا کاروں نے حصہ لیا۔
اکٹھے کیے گئے پلاسٹک نمونوں میں سب سے زیادہ کوکاکولا کی پلاسٹک بوتلیں شامل تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 55 ممالک میں سے 51 ممالک کے دریاوں، جھیلوں، پارکوں اور
دیگر قدرتی مقامات پر سب سے زیادہ کوکاکولا برینڈ کا پلاسٹک ملا ہے جو ماحول کو بری طرح تباہ کر رہا ہے۔

ماحولیات پر کام کرنے والی عالمی تنظیم بی ایف ایف پی کے مطابق
دنیا میں پلاسٹک کا استعمال ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔
بڑے بڑے برینڈز Single Use مطلب صرف ایک بار استعمال ہونے والی پلاسٹک پیکنگ کر رہی ہیں۔
پلاسٹک کے اس قسم کے استعمال سے زمین پر آلودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ماحولیات پر کام کرنے والی تنظیم نے آگاہ کیا ہے کہ جتنا پلاسٹک ہم آج استعمال کر رہے ہیں
2030 میں ہم اس سے دوگنا پلاسٹک استعمال کرکے اپنے ماحول کو آلودہ کرنا شروع کردیں گے۔

پلاسٹک کا یہی استعمال اگلے بیس سال سے چار گنا زیادہ ہوجائے گا جس سے قدرتی ماحول مکمل طور پر تباہ ہوجائے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے کئی برینڈز ابھی بھی پلاسٹک کا استعمال مسلسل بڑھا رہے ہیں۔
کئی بیوریج کمپنیاں ری سائیکل پلاسٹک استعمال کر رہی ہیں
حلانکہ ری سائیکل پلاسٹک ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کا حل نہیں۔

پلاسٹک کی وجہ سے نہ صرف زمین پر آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے
بلکہ سمندروں میں آلودگی بھی بڑ رہی ہے جس کا براہ راست اثر آبی مخلوق پر ہورہا ہے۔
ماحولیات پر کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دنیا کے دور
دراز علاقوں میں بھی پلاسٹک ملنا شروع ہوگیا ہے حلانکہ ان علاقوں میں انسان کا وجود تک نہیں۔
ماحولیات پر کام کرنےوالی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ بڑے برینڈز کو بھی زمہ داری لینا ہوگی۔
پلاسٹک کے متبادل ذرائع کو استعمال کرکے ماحولیاتی آلودگی کو کم کیا جاسکتا ہے۔


شیئر کریں: