سعودی عرب کا شاہی خاندان جوبائیڈن سے معافی کا طلب گار

شیئر کریں:

سعودی عرب کو ٹرمپ کی ٹوکری میں سارے انڈے ڈالنا مہنگا پڑ گیا۔
ٹرمپ کی وائٹ ہاوس سے رخصتی کے بعد سعودی عرب تنہائی کا شکار ہو گیا۔
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث شاہی خاندان سے امریکی صدر جوبائیڈن شدید ناراض ہیں۔
جوبائیڈن اپنی الیکشن مہم کے دوران بھی نہ صرف سعودی عرب میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے رہے ہیں بلکہ اس پر شدید ناراضی کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔
امریکی صدر بائیڈن کی سعودی عرب سے ناراضی ان کی خارجہ پالیسی میں بھی نظر آرہی ہے۔
نومنتخب امریکی صدر نے دنیا کے تمام بڑے ممالک سے فون پر رابطہ کیا لیکن سعودی عرب کو یکسر نظر انداز کردیا۔
سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل، انسانی حقوق کے کارکنوں کی قید اور شاہی خاندان کے جبر پر جوبائیڈن پہلے ہی سعودی عرب کو وارننگ جاری کرچکے ہیں۔

Jeo Biden , Khabarwalay.com

جوبائیڈن کا محمد بن سلمان سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھنے کا فیصلہ

جوبائیڈن کے صدر منتخب ہوتے ہی سعودی عرب نے بھی بھانپ لیا تھا
کہ اب اس کی دھونس اور زبردستی مزید نہیں چلے گی۔
سعودی عرب نے اپنا پینترا بدلتے ہوئے جوبائیڈن کے حلف اٹھانے سے پہلے
نہ صرف انسانی حقوق کے کئی کارکن رہا کر دیے بلکہ اپنے قوانین میں تبدیلی لانا بھی شروع کردی تھی۔
سعودی عرب کی یہ چال بھی کام نہ کرسکی۔
وائٹ ہاوس کے سینئر عہدے دار نے اس بات کی تصدیق کی ہے
جوبائیڈن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے شدید ناراض ہیں۔
جوبائیڈن نہ صرف محمد بن سلمان کے انسانی حقوق کی خلاف ٕ
ورزیوں میں ملوث ہونے سے آگاہ ہیں بلکہ ان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ بھی کرچکے ہیں۔
جوبائیڈن انتظامیہ نے یمن جنگ میں بھی سعودی پشت پناہی سے انکار کردیا ہے
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے بائیڈن انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے
کہ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھے گی۔
بائیڈن انتظامیہ میں محمد بن سلمان کی بجائے سعودی فرماروا
شاہ سلمان سے براہ راست تعلقات رکھنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔

سعودی عرب کے تعلقات بھی ناراضی کا سبب بنے

امریکا سعودی عرب کے چین اور روس تعلقات سے بھی ناراض ہے۔
امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور چین میزائل،
ایٹمی ہتھیاروں اور فائیو جی معاہدے کرچکے ہیں جس پر امریکی انتظامیہ میں غصہ پایا جارہا ہے۔

عرب ممالک بھی تنہائی کا شکار

ایک طرف مغرب سے تعلقات خراب ہیں تو دوسری طرف سعودی عرب خطے میں بھی تنہائی کا شکار ہے۔
عرب ممالک میں اس وقت افرتفری کی صورت حال ہے ہرملک صرف اپنے مستقبل کی فکر کر رہا ہے۔
امریکی انتظامیہ کے غصے کو دیکھتے ہوئے دیگر عرب ممالک بھی
صحرائی اونٹ سعودی عرب سے فاصلہ رکھنے لگے ہیں۔
سعودی عرب کی طرف سے سیاحت کی نئی پالیسی کے بعد متحدہ
عرب امارات اور سعودی عرب کے تعلقات میں کھچاو کی صورت حال ہے۔
یو اے ای نہیں چاہتا کہ سعودی عرب سیاحت شروع کرے اور اس سے متحدہ عرب امارات کی معیشت متاثر ہو۔

پاکستان سعودی عرب سے ناراض

سعودی عرب کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی خراب کرلیے ہیں۔
ٹرمپ دور حکومت میں سعودی شاہی خاندان نے پاکستان کے ساتھ ناروا سلوک رکھا۔
سعودی عرب نے بھارت کے کیمپ میں بیٹھ کر پاکستان پر بلاجواز معاشی اور سفارتی دباو ڈالے رکھا۔
ٹرمپ کے دور حکومت میں ہی تاریخ میں پہلی بار کسی بھی بھارتی آرمی چیف کو سعودی عرب کا دورہ کروایا گیا۔
بھارت سے بڑھتی قربتوں اور مسئلہ کشمیر پر واضع موقف
نہ دینے کی وجہ سے پاکستان میں سعودی عرب کے خلاف ناراضی شروع ہوئی۔
محمد بن سلمان یہ بھی بھول گئے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے ہر برے وقت میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔
مشرق وسطی کی نازک صورت حال میں پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب کو سیکیورٹی معاملات میں معاونت فراہم کی۔
اس مشکل صورت حال میں پاکستان نے دوست ملک چین سے قرض لیکر سعودی عرب کی رقم وآپس کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کو تیسری قسط دینے کو بھی تیار ہے لیکن سعودی عرب اب حالات سے واقف ہے۔
سعودی عرب نہیں چاہتا ہے کہ اس کا ایک اور سہارا دور ہوجائے۔

سعودی عرب ایک بار پھر پاکستان کے در پر

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے عالمی منظر نامے میں تبدیلی کے
بعد پاکستان سے تیسری قسط کا مطالبہ نہیں کیا۔
اب سعودی عرب کی کوشش ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات بہتر کرے
تاکہ پاکستان اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کی سفارتی مدد کرے۔
ان کے رویے بدلاؤ ایسے ہی نہیں ہوا کیونکہ دنیا نے دیکھا ہے کہ حال ہی میں 46 ممالک کی بحریہ نے امن مشقیں کی ہیں۔ عالمی طور پر اتنی بڑی مشقیں تاریخ میں شائد ہی دیکھی ہوں ان مشقوں میں مشرق و مغربی ممالک سب ہی شامل تھے۔
ان مشقوں کو دیکھ کر کئی عرب ممالک کے سربراہ پاکستان آںے کے لیے پر تول رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں تلور ڈپلومیسی کے تحت سعودی عرب سمیت دیگر
عرب ممالک کے سربراہ پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ پاکستان کو ایک بار پھر راضی کیا جاسکے۔


شیئر کریں: