پاکستان کا قرضہ 27 ماہ میں 14 ہزار 103 ارب روپے سے بھی بڑھ گیا

شیئر کریں:

پی ٹی آئی کے 27 ماہ میں ہی پاکستان کے مجموعی قرضوں اور واجبات میں 14 ہزار 103 ارب روپے کا اضافہ
ہو گیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے قرضے اور واجبات کا مجموعی حجم دسمبر 2020 کے اختتام تک تاریخ
میں پہلی بار 449 کھرب 78 ارب 90 کروڑ روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

ستمبر 2018 کے بعد سوا دو سال کے دوران قرضوں کے بوجھ میں 46 فیصد اضافہ ہوا جس سے اب پاکستان کا
ہر شہری اوسطا 2 لاکھ 9 ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت سے قبل ہر شہری اوسطا
ایک لاکھ 43 ہزار روپے کا مقروض تھا۔

پی ٹی آئی کے سوا دو سال میں مجموعی قرضوں اور واجبات میں 141 کھرب 3 ارب روپے کا رکارڈ اضافہ ہوا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے 5 سال کے دوران مجموعی طور پر قرضوں اور واجبات میں 135 کھرب 41 کروڑ روپے
کا اضافہ ہوا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ 27 ماہ کے دوران حکومت کے اندرونی قرضے 43.7 فیصد اضافے سے 243
کھرب 10 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے بیرونی قرضے اور واجبات 50.6 فیصد اضافے سے 171 کھرب
67 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ ان میں نجی شعبے کے بیرونی قرضے 24 کھرب 97 ارب روپے ہیں۔


شیئر کریں: