پاکستان میں کوہ پیمائی اور بلتستان کا سدپارہ خاندان

شیئر کریں:

کوہ پیمائی یا مہم جوئی انتہائی کٹھن اور دشوار ترین مشغلہ ہے۔ اس میں قدم قدم پر جان کے جانے
کا امکان بہت زیادہ رہتا ہے۔ لیکن بلتستان کی وادی اسکردو کے قریب واقع گاؤں سدپارہ کے جوانوں
کی بات ہی کیا۔ یہاں کے جوانوں نے اپنی جانیں دے کر کوہ پیمائی میں پاکستان کا نام دنیا بھر میں
روشن کیا۔

خبر والوں نے اسی سدپارہ گاؤں کے جوانوں سے متعلق معلومات اکھٹی کی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں آخر
محمد علی سدپارا جیسے اور کتنے سور ماؤں نے موت کی گھاٹی کی طرف سفر کیا۔

پہاڑوں کا بادشاہ خاندان

تاریخ کے صفحات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں کوہ پیمائی کا آغاز علی سدپارہ کے خاندان سے ہوا۔ سدپارہ خاندان
کو پہاڑوں کا بادشاہ کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ یہ بات 1952 کی ہے جب کسی بھی پاکستانی کوہ پیما نے
کامیابی سے پہلی چوٹی سرکی۔

علی سدپارہ کے دادا محمد تقی سدپارہ پہلے کوہ پیما تھے جنہوں نے براڈ پک چوٹی کو تسخیر کیا۔
حاجی تقی سدپارہ کو کوہ پیمائی کا شوق بچپن ہی سے تھا وہ علاقے میں مہم جو نوجوان سے پکارے جاتے تھے۔
ماجرہ کچھ یوں ہے کہ 1952 میں نیپالی اور گوجالی کوہ پیما پاکستان آئے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں ایک
بھی مقامی کوہ پیما نہیں تھا۔

علی سدپارہ کی تلاش کا آپریشن، اہل خانہ اور قوم معجزہ کی منتظر

غیر ملکی ٹیم نے مقامی لوگوں سے دریافت کیا کہ کوئی پورٹر کی حیثیت سے ان کے ساتھ جانا چاہے گا؟
تو حاجی تقی سدپارہ نے آمادگی ظاہر کردی۔ خیر تقی سدپارہ اٹھارہ نے اٹھارہ رکنی ٹیم کے ہمراہ کوہ پیمائی
شروع کردی۔ مہم کے آغاز میں ہی کپتان نے تقی سدپارہ کی شمولیت پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔

بلتستان کے مقامی لوگوں میں بھی ڈر و خوف تھا کہ تقی بلند چوٹیوں کو کیسے سر کریں گے؟
اس موقع پر غیر ملکی کپتان نے تقی سدپارہ سے پوچھا کہ کیا آپ پہاڑ سر کر سکتے ہیں؟
تقی سدپارہ نے پرجوش آواز میں کہا جی ہاں اور پھر یکدم سناٹا۔
یکدم سناٹا ختم ہوا اور کپتان نے اگلا سوال کیا آپ کو رضا کار کے طور پر ساتھ لے جائیں گے چوٹی پر
کیا تم ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو؟
اس مطلب یہی تھا کہ تقی سدپارہ کو ان کی خدمات کے بدلے کوئی معاوضہ یا مالی معاونت نہیں ملے گی۔
پاکستان کے اس بہادر کوہ پیما نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر پھر بھی ساتھ چلنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
خیر مہم جوئی کا آغاز ہوا، اس مشکل ترین چڑھائی میں 12 غیر ملکی اور 12 بلتستان کے مقامی افراد شامل ہوئے۔
حاجی تقی سدپارہ وہ پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے اس ٹیم کے ہمراہ چوٹی سر کی۔

تقی سدپارہ نے اس چوٹی کو سر کے نہ صرف پاکستان کا روشن کیا بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کی عزت میں بھی اضافہ کیا۔
اس مہم جوئی سے پہلے بلتستان کے لوگوں کو ڈرپوک سمجھا جاتا تھا۔ بین الاقوامی کوہ پیما بھی بلتستان کے لوگوں کو ساتھ لے جانے سے ڈرتے تھے۔
کوہ پیماوں میں مشہور تھا کہ ایک مہم جوئی کے دوران بلتستانی کوہ پیما ڈر کی وجہ سے رو پڑا تھا۔
تقی سدپارہ نے اپنی بہادی اور بلند حوصلوں سے بلتستان کے لوگوں پر لگا یہ داغ ہمیشہ کے لیے دھو ڈالا۔
تقی سدپارہ کی بہادری کو دیکھتے ہوئے انہیں 1954 میں بلتی ٹائیگر کے ٹائٹل سے نوازا گیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں میڈل بھی دیا گیا۔

پاکستان میں کوہ پیمائی کا آغاز

پاکستان میں کوہ پیمائی حاجی تقی سدپارہ اور ان کے بھائی محمد اسد نے شروع کی۔

1952 میں شروع ہونے والا کوہ پیمائی کا سفر آج سدپارہ خاندان کی پہچان بن چکا ہے۔سدپارہ خاندان کی
خدمات کی وجہ سے دنیا بھر سے کوہ پیما پاکستان کا رخ کر رہے ہیں۔

اپنے باپ دادا کے اس مہم جوئی کے سفر کو علی سدپارہ نے پروان چڑھایا۔ آج دنیا بھر میں علی سدپارہ کو
ہیرو کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔عالمی کوہ پیما علی سدپارہ کا شمارہ دنیا کے بہترین کوہ پیماوں میں کرتے ہیں۔

علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ بھی کوہ پیمائی میں عملی قدم رکھ چکے ہیں۔
پہاڑوں کے یہ ٹائیگرز بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے نسل در نسل وطن عزیز کا نام روشن کر رہے ہیں۔


شیئر کریں: