یورپی سفارت کاروں کو مقبوضہ کشمیر کا محدود دورہ کرانے کے بھارتی مقاصد کیا ہیں؟

شیئر کریں:

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہا ہے کہ بھارت یورپی سفارتکاروں کے ایک گروپ کو مقبوضہ کشمیر کا مخصوص اور محدود دورہ کروا کراس متنازعہ خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنا چاہتا ہے۔

بھارت نے یورپی ملکوں کے بیس سفارتکاروں اور سفارتی نمائندوں کو سترہ فروری بروز بدھ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔


اپنے بیان میں چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے کہاہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پانچ اگست ۲۰۱۹ کے بعد بدتر ہوگئی ہے لیکن بھارت اب ان پامالیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے یورپی سفارتکاروں کو مخصوص دورہ کروا رہا ہے۔

یہ دورہ بھارت اور یورپ کے مابین آٹھ مئی کو ہونے والے تجارتی معاہدے سے قبل کروایا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر صورتحال نارمل دکھائی دے جبکہ اصل حقائق یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی سیکورٹی فورسز تعینات ہیں جنہیں بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی، ماورائے عدالت قتل عام اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کی کھلی اجازت ہے۔

علی رضا سید نے ای یو کے اعلیٰ سفارتی نمائندہ جوزف بوریل فونٹلیس، یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کی سربراہ ارینا ماریا، پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ڈیویڈ میک الیسٹر اور ای یو کے دیگر حکام کو اس محدود دورہ کے تناظر میں خط لکھ کر مقبوضہ کشمیرکے اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

خط میں کہاگیا ہے کہ پانچ اگست ۲۰۱۹ کے بعد جب سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے وہاں مظالم میں اضافہ کردیا ہے، ابتک یہ غیرملکی نمائندوں کا تیسرا مخصوص دورہ مقبوضہ کشمیر ہے۔ پچھلے دو دوروں کے دوران بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سب کچھ اچھا دکھانے کی کوشش کی ہے اور اس مخصوص دورہ کے دوران بھی وہ مصنوعی اور جعلی طریقے سے صورتحال کو بہتر بتانے کی کوشش کرے گا۔ یہ دورہ پچھلے دوروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ کچھ مخصوص لوگوں سے ملاقاتیں کرائی جائیں گی اور دورہ کرنے والے سفارتکار اپنے محدود طے شدہ پروگرام سے ہٹ کر کسی سے بھی نہیں مل سکیں گے۔

مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال یہ ہے کہ یہ مقبوضہ خطہ دنیا کا سب سے بڑا عسکری علاقہ ہے جہاں نو لاکھ بھارتی فورسز تعینات ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔ ان سیکورٹی فورسز کو بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی خاص طور پر ماورائے عدالت قتل عام کی کھلی اجازت ہے۔

علی رضا سید نے کہاکہ یورپی سفارتکاروں کے محدود دورہ مقبوضہ کشمیر سے قبل انٹرنیٹ کو وقتی طور پر بحال کیا گیا ہے اور انسانی حقوق کے علمبرداروں بشمول سربراہ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ہیومن رائٹس جموں و کشمیر محمد احسن انٹو کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یورپی حکام کو لکھے گئے خط میں مزید کہاگیا ہے کہ یورپی یونین کے اتحاد کے مرکزی نکتہ نظر میں بنیادی انسانی حقوق پر مبنی جمہوریت کے فروغ پر زور دیا گیا ہے اور یہ نکتہ نظر یورپ اور بھارت کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ امید ہے کہ اس معاہدے میں انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی سب سے زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ یورپی یونین کو چاہیے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے میں انسانی حقوق کے مسئلے کو مدنظر رکھے۔

عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ حقائق کو دیکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی سویلین آبادی کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کو روکوانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کرے۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے اس سے پہلے یورپی یونین کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے فیصلوں کو بھی سراہا اور کہاکہ ہمیں امید ہے کہ یورپ آئندہ بھی مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حقوق کو خاطر میں لائے گا اور ہرگزاس حقیقت سے صرف نظر نہیں کرے گا۔

علی رضا سید نے مطالبہ کیا کہ یورپی سفارتکاروں، بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے عہدیداروں کو آزادانہ طور پر مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اصل صورتحال سے پردہ اٹھا سکیں۔


شیئر کریں: