ٹرمپ مواخذہ سے بچ گئے ریپلکن نے امریکی اقدار پارٹی پر قربان کردیں

President Donald Trump
شیئر کریں:

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار مواخذہ سے بچ گئے ایوان بالا میں مواخذہ کے حق میں 57 اور
مخالفت میں 43 ووٹ پڑے۔ اس طرح ٹرمپ کی جماعت ریپلکن کے بیشترسینیٹرز نے ملکی اقدار کو پارٹی
کی قیادت پر قربان کر دیا۔ لیکن ریپلکن کی صف میں 7 ایسے بھی مجاہد نکلے جنہوں نے ڈیموکریٹس کے
ساتھ آواز میں آواز ملائی اور مواخذہ کے حق میں ووٹ دیا۔

امریکا کی جمہوریت دنیا بھر کے لیے مثال دی جاتی ہے جہاں قوانین کو سب پر مقدم تصور کیا جاتا ہے
لیکن آج تک امریکی تاریخ میں کسی بھی صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکی اور
صرف ایک صدر نے خود سے استعفی دیا تھا۔

خیال رہے 6 جنوری کو امریکی کانگریس “کیپٹل ہل” پر اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں
نے حملہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے لوگوں کو اکساتے ہوئے واشنگٹن جمع کیا تھا کہ امریکی جمہوریت پر شب خون
مارا گیا ہے اور ووٹ چرا لیے گئے ہیں۔ جزباتی تقریر کے ذریعے اپنے ووٹرز کو کیپٹل ہل پر حملہ کے لیے اکسایا
تھا۔ جس کے بعد دنیا بھر نے دیکھا کہ کس طرح جمہوریت کا پائمال کیا گیا اور کیپٹل ہل میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

اس دوران بابری مسجد طرز کی تصاویر بھی منظر عام آئیں جب لوگوں نے کیپٹل ہل پر پارٹی جھنڈا لہرا دیا
بالکل اسی طرح جیسے انتہا پسندوں نے بابری مسجد پر ترنگا لہرایا تھا۔
اس پرتشدد مظاہرے اور درندگی پر 13 جنوری کو ٹرمپ کے خلاف مواخذہ کی تحریک پیش کی گئی اور جسے
منظور پر کر لیا گیا لیکن پھر پانچ روزہ کارروائی کے دوران اب انہیں بری الزمہ قرار دے دیا گیا۔

حالانکہ کہ کیپٹل ہل پر حملے اور پرتشدد کارروائیوں کی ویڈیوز بھی سامنے ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست پر
ریپبلکنز نے اپنی روایات کو قربان کر دیا۔

خیال رہے امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن کے 50 پچاس ممبر ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرم قرار دینے
کے لیے دو تھرڈ اکثریت کی ضرورت تھی لیکن یپبلکن نے اسے ناکام بنایا دیا۔


شیئر کریں: