کیا تُم نے اُسے دیکھا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر: عامر حسینی

دسمبر کے آخری دن چل رہے تھے، کالج میں سردیوں کی چھٹیاں ہوگئی تھیں، لیکن میں اپنے شہر اور وہ اپنے قصبے لوٹ کر نہیں گئے اور فیصلہ کیا کہ یہیں موسم خزاں میں ہم لاہور شہر کی سڑکیں ناپیں گے اور کئی ایک کیفے ٹیریاز میں بیٹھ کر چائے، کافی نوش کریں گے، کئی ایک نشان زد ڈھابوں پہ کھانے کھائیں گے اور سرشام لارنس گارڈن آجائیں گے اور رات گئے تھے وہاں رہیں گے اور باہر کی سخت سردی کو کبھی ووڈکا تو کبھی دیسی ٹھرے سے اپنے اندر داخل ہونے سے روکیں گے اور ساتھ ساتھ قلندری دھوئیں کے چھلے منہ سے باہر دھواں نکال کر بنانے کی کوشش کریں گے- پھر جب دماغ ہواؤں میں اڑ رہا ہوگا تو شاعری، فلسفہ، فکشن، تاریخ، مذھب سب کو کسی نہ کسی متن کے زریعے زیربحث لائیں گے اور پھر وہ اسلامیہ پارک میں بنے ایک نجی ہاسٹل میں چلی جائے گی اور میں وہیں انار کلی کے ساتھ جین مندر روڈ پہ بنے “علی ہاسٹل” میں ایک دوست کے کمرے میں ٹھہر جاؤں گا- یہ روٹین چھٹیاں ختم ہونے تک چلے گی اور پھر کالج کھل جائے گا اور ہم اپنے اپنے ہاسٹل منتقل ہوجائیں گے- ہاں اس دوران مجھے صبح تک سونا نہیں ہوگا، کیونکہ مجھے بادامی باغ سبزی منڈی جانا ہوگا جہاں میں دکان نمبر 36 پہ شیخ عثمان آڑھتی کے ہاں منشی گیری کروں گا اور یوں اپنا اور تعلیم کا خرچا اکٹھا کرپاؤں گا- یہ روٹین کالج آنے کے بعد سے شروع ہوگئی تھی- اُن دنوں آتش جوان تھا اور اپنے بدن سے کی جانے والی بے محابا زیادتیوں کو سہہ جانا زیادہ مشکل کام نہیں تھا اور پھر وہاں سے دس بجے واپسی ہوگی اور میں گھوڑے بیچ کر دو بجے تک سوؤں گا، میری نیند شہر بانو کے آنے پہ ٹوٹے گی اور ہم گھنٹے بعد باہر نکل پڑیں گے-
پاک ٹی ہاؤس کی ایک میز کی طرف دھیرے دھیرے سے بڑھے، سینے میں دل زور زور سے دھک دھک کررہا تھا اور ڈر بھی لگ رہا تھا، وہاں ایک شخص اردگرد سے بے گانہ، اپنے آپ میں گم سم، سگریٹ انگلیوں میں دابے، بڑے بڑے بال، شیو بڑھی ہوئی، آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے اور دوسرے ہاتھ سے میز پہ دھری کتاب کے اوراق پلٹ رہا تھا، ہم نے اُس کی بد دماغی کے کئی قصے سُن رکھے تھے اور یہ دوسرا شخص تھا جس سے ملاقات کی خواہش بھی زبردست تھی اور دل میں ڈر بھی بیٹھا ہوا تھا، پہلےشخص تھے انیس ناگی اور دوسرے یہ تھے، خیر ہم ڈرتے ڈرتے اُن کے پاس گئے اور اُن کو سلام کیا، شہر بانو نے جھٹ سے اُن کی 60ء کی دہائی میں چھپی نظموں کی پہلی کتاب کا ایک نہایت خستہ حال نسخہ جس کے صفحات پھٹنے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کور کرایا ہوا تھا آگے رکھا اور اس پہ آٹوگراف کی مانگ کی، زاھد ڈار نے شہر بانو کو نظر بھر کر دیکھا، آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی اور مجھے اُس لمحے لگا کہ وہ من ہی من میں اپنی نظم کے مصرعے پڑھ رہے ہوں گے

کیا تم نے اُس عورت کو دیکھا ہے
اُس کی…….
وہ مجھے مکمل طور پہ فراموش کرگئے تھے، تھوڑی دیر خاموشی سے شہر بانو کو تکتے رہے، سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر بجھایا اور پھر ایک دم سے بولے،

“یہ کہاں سے ڈھونڈ لی تم نے؟” (مخاطب شہر بانو ہی تھی)

وہ جی، پرانی کتابوں کے ڈھیر سے انارکلی سے ملی، میں نے خرید لی تھی(شہر بانو منمنائی، اُس کی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی) زاہد ڈار نے یہ سن کر لمبی سی ہوں کہی اور پھر شہر بانو سے قلم لیکر کتاب کے سرورق پر آٹوگراف دیا اور پھر اپنی کتاب اٹھائی اور پڑھنے لگے، ہمیں بیٹھنے تک کو نہ کہا اور اب وہ شہر بانو سے بھی بے گانے ہوگئے تھے، ہمیں کافی آکورڑ فیل ہوا، خیر ہم وہاں سے نکل کر باہر آئے اور مالب روڈ سے ہال روڈ کو مڑے اور لکشمی مینشن میں منٹو صاحب کے گھر کے سامنے بنے پارک میں بیٹھ گئے-

یوں زاہد ڈار سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد میں نے اُن کو ایک بار انیس ناگی کے ہاں کالج میں دیکھا اور میں اکیلا ناگی صاحب سے ملنے گیا ہوا تھا- اُس دن خیر ناگی صاحب کے دو تین تعریفی فقروں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور اُن سے کافی باتیں کیں اگرچہ وہ پھر بھی کم گویائی کی طرف مائل تھے-

میں نے اُن سے پوچھا تھا کہ اُن کی نظم “ایک مہاجر دوست جو پنجاب میں آکے خوش نہیں ہے” کیا انتظار حسین کے بارے میں ہے تو کہا صاف ظاہر ہے اُن کے بارے میں تھی ، اس دوران انیس ناگی صاحب نے پوچھا، بیٹا! تم نے کیسے اندازہ لگا، تو میں نے جو کہا وہ لفظ بلفظ تو مجھے یاد نہیں لیکن مجھے خلاصہ کچھ یوں یاد پڑتا ہے:

” ایک تو ان کی وہ کتاب “محمد صفدر(میر) کے نام منسوب ہے جس میں یہ نظم شامل ہے، دوسرا مجھے پتا چلا تھا کہ انہوں نے یہ نظمیں ایک ڈائری کی شکل میں لکھ رکھی تھیں جو انھوں نے صفدر میر صاحب کو دکھائیں تو انھوں نے کہا کہ یہ تو نظمیں ہیں اور پھر یہ نئی مطبوعات سے چھپیں جو اُن دنوں نئی شاعری جس میں نثری نظم بھی شامل تھی کی حمایت میں کتابیں شایع کررہا تھا اور جو روایت پرست طبقہ تھا خاص طور پہ کراچی و لاہور میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے ادیب و شعراء اس تجربے کی شدید مخالفت کررہے تھے جبکہ انیس ناگی، صفدرمیر، افتخار جالب یہ سب اُس کی سپورٹ کررہے تھے، یہی وہ زمانہ بھی ہے جب انتظار حسین کے مہاجرتی ادب پہ صفدرمیر سمیت کئی ایک پنجابی ادیب و شعراء و نقاد زبردست طریقے سے حملہ آور تھے کم انتظار حسین بھی نہیں تھے اُن کی حمایت میں بھی حسن عسکری، باقر سجاد، مظفر علی سید اور دیگر کئی سرگرم تھے، زاھد ڈار نے صفدر میر کی قربت میں ہونے کی وجہ سے اور اپنے پہلے کشمیری اور پھر پنجابی پس منظر کے سبب وہ نظم لکھی ہوگی”

آج جب مجھے پتا چلا کہ زاہد ڈار مرگئے….. تو میرے منہ سے بے ساختہ نکلا کہ شہر بانو بھی تو مرگئی تھی… اب خدا جانے اُن دونوں کے وہ دعوے کہ یہ مرنے کے بعد بھی زندہ رہیں گے کس صورت سچ ثابت ہوں گے…… زاہد ڈار تو اپنی نظموں میں اپنے مرنے کی اطلاع دیتے رہے

میں پہلے بھی مرتا رہا ہوں

اور پھر وہ ہمیں اُس” عورت” کے اندر رقصاں ہونے کی خبر دیتے تھے جس کی چھاتیوں کے درمیان سانپ رینگتے اور رانوں کے درمیان سفید چشمہ بہتے انھوں نے دیکھا تھا……

جب وہ ریڈنگز میں بیٹھنے لگے تو میں انھیں دور دور سے ہی دیکھ کر واپس چلا جاتا تھا- اب جب کبھی ریڈنگز پہ جاؤں گا تو اُس کے ایک کونے میں بنے چھوٹےطسے ریڈرز روم میں وہ بیٹھے کتاب پڑھتے نظر نہیں آئیں گے اور میں اُن کو اب شاید کہیں ڈھونڈ نہیں پاؤں گا کیونکہ مجھے آج تک اُن کی وہ عورت نہیں ملی جس کے بارے میں وہ اپنی نظم میں سوال کرتے ہیں اور اب تو بالکل بھی ملنے کا امکان نہیں ہے کیونکہ اس حوالے سے سارے اشارے وہ اپنے ساتھ لیکر چلے گئے ہیں……

ڈار صاحب، اپنی بے گانگی کے ساتھ اگلے جہاں میں اپنا مقام جہاں آپ کو اچھا لگے گا آپ ڈھونڈ لیں گے اور شاید دوستونفسکی (ڈار صاحب اسے ایسے ہی لکھتے تھے) کی “زیرزمین لکھے گئے نوٹس) بھی آپ ساتھ ہی لیجائیں گے، وہاں صفدرمیر، انیس ناگی، افتخار جالب اور دیگر آپ کے منتظر ہوں گے، انھوں نے آپ کا سواگت کیا ہوگا اور” کر کر لمبے ہاتھ” کا سا سماں ہوگا….. کل من علیھا فان….

رحمِ مادر سے نکلنا میرا بے سود ہوا
آج بھی قید ہوں میں

…..
آج کس بات کی میں شکایت کروں
آج آزاد ہوں
آج مایوس ہوں
سوچنے کے لیے کچھ بھی نہیں
……..
اور اس زندگی کی لڑائی میں ہم
وہ سپاہی ہیں جو جیتے ہی نہیں
ہارتے بھی ہیں
……

“سوچنا چھوڑ دو”، کہتے ہیں، “نہ سوچو، بولو”
کون سی بات کروں؟ حال کس کا سناؤں
ایک جیون ہی تو ہے نہ راز پاؤں جس کا
…….
موت مجھے بھاتی ہے
……
اب وہ یہ کہتے ہیں، یہ بھی شاعر
ایسی باتوں سے بہتر تھی خاموشی مجھکو
کوئی واقف تو نہ تھا،
کوئی ایسا تو نہ کہتا، یہ بھی….
شرم آتی ہے مجھکو
…..

دکھ کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس
سب بکواس
لر منتوف اور دوستونفسکی، بودلیئر اور استاں دال
ایک سے ایک وبال
گوتم بدھ اور افلاطون
محض جنون
…..
اب یہاں دھول میں ڈوبتی چند گلیوں کے آثار پہ نوحہ خواں
(ایک مہاجر دوست جو پنجاب میں جوش نہیں)

حاضر دور میں ایک شخص جیے تو کیسے
شہر میں، لاکھوں کی آبادی میں
ایک بھی ایسا نہیں
جس کا ایمان کسی ایسے وجود
ایسی ہستی، حقیقت یا حکایت پر ہو
جس تک
حاضر دور کے جبرائیل کی(اخبار)
دسترس نہ ہو، رسائی نہ ہو…
……
زبان کا مسئلہ

کن شبدوں میں بات کروں میں لوگو!
اُن شبدوں میں بات کرو، ہاں بولو!

……
آدمی کے لیے شور اور رنگ میں
قتل و غارت، تباہی میں اور جنگ میں
جو کشش ہے
اس کا کوئی اُپائے نہیں
…..
دھوپ میں چمکے ہوئے اس شہر میں زندگی دلچسپ ہے
…..
1987ء

زمین نے میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا
…….
جب سمندر میرے ساتھ ہنس رہا تھا
عورت بادلوں کے ساتھ رو رہی تھی
….
ابھی آسمان ستاروں سے بھرا ہوا ہے
مگر وہ عورت کہاں ہے
یہ ہنسی کی آواز کہاں سے آرہی ہے
میں نے تو اسے روتے دیکھا تھا
ایک ہی عورت
کبھی جوشی بن جاتی ہے، کبھی اذیت
سورج کی گرمی
سردیوں میں اچھی لگتی ہے
گرمیوں میں عذاب بن جاتی ہے
میرا خیال ہے میں ایک جیسا رہتا ہوں
لیکن وہ عورت کہتی ہے
میں چہرہ بدلتا رہتا ہوں
……
کیا تُم نے ایک عورت کو دیکھا ہے
اُس کی چھاتیوں کے درمیان
ایک سانپ رینگ رہا ہے
اُس کی رانوں کے درمیان سفید پانی کا چشمہ ہے
میں پیاس سے مر رہا ہوں
لیکن میں اُسے ہاتھ نہیں لگا سکتا
میں ایک درخت کے اندر قید ہوں
کیا تم نے ایک عورت کو دیکھا ہے
میں اُس کو دیکھ رہا ہوں
وہ ایک سانپ کو کھا گئی ہے
میری خواہشیں اُس کے پیٹ میں ہیں
اُس نے مجھے چھوڑ دیا ہے
لوگ تالیاں بجا رہے ہیں
یہ تماشہ ازل سے جاری ہے
میں انتظار کررہا ہوں
جاؤ اُسے ڈھونڈ کر لاؤ
موت میرے لیے نئی نہیں ہے
میں ہمیشہ مرتا رہا ہوں
لیکن میری زندگی ختم نہیں ہوئی
میری خواہشیں اُس کے اندر رقص کررہی ہیں
جاؤ مجھے ڈھونڈ کر لاؤ
درخت کے پتے گر رہے ہیں
ہوا چیخ رہی ہے
میں نے ایک عورت کو آسمان پہ اڑتے دیکھا ہے
کیا تُم نے بھی کچھ دیکھا ہے؟
اگر تمہیں کچھ دکھائی دے تو مجھے بھی دکھانا
فی الحال تم خاموش رہو
تمہاری باتیں ریگستان کو سیراب نہیں کرسکتیں
خشک ریت میری پیاس نہیں بجھا سکتی
اُس کی رانوں کے درمیان سفید پانی کا چشمہ ہے
سورج میرے سر کے اندر چمک رہا ہے
پاگل پن رقص کررہا ہے
بادلوں نے اُسے گھیر لیا ہے
میں محبت کے خواب دیکھ رہا ہوں
میں ایک وہم کی آرزو میں مرتا ہوں
کیا تم نے اسے دیکھا ہے

(سویرا میگزین….. ص 56 ،مدیر صلاح الدین محمود 1979ء)


شیئر کریں: