قبروں سے مردے بھی غائب ہونے لگے، مرکے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے؟

شیئر کریں:

ڈیرہ اسماعیل خان سے احمد نواز مغل

کہتے ہیں نہ کہ مرکے بھی چین نا آیا تو کدھر جائیں گے ایسا ہی کچھ ان دنوں ڈیرہ اسماعیل خان کے
باسی سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے کورائی قبرستان سے مردے بھی نکالے جانے
لگے ہیں۔ عوام پریشان ہیں کہ مردوں کو قبروں سے کون نکال رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب انتظامیہ
سے نہ ملا تو اس کی تلاش میں لوگوں نے قبرستان کے اطراف پھیرا دینا شروع کر دیا ہے۔

کورائی کے صدیق محمد قبرستان سے چند روز کے اندر 2 مردے قبروں سے نکالے جا چکے ہیں۔ قبر کے
اندر تک کھدائی کے بعد تو عوام کسی اور کیا کچھ کرتے اپنا ہی ہی سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

علاقے میں خوف و حراس کے ساتھ ساتھ شدید غم وغصہ بھی پایا جا رہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں رات کی
تاریکی میں قبروں سے ہمارے مردے نکالے جارہے ہیں۔ مردوں کے کفن اور مردہ بچے کی ہڈیاں قریبی
کھیت سے ملی ہیں۔ پراسرارِ طور پر مردوں کو قبروں سے نکالنے کا تاحال پتہ نہیں چل سکا۔

لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ گھناؤنا عمل انسان کر رہے ہیں یا پھر جانور ہیں۔ علاقہ کی سماجی
شخصیت ثناء اللہ کھوکھر، رضوان شیخ، صابر بلوچ، شاہ نواز،محمد اقبال، سیف الرحمن و دیگر کا کہنا
ہے ہمارے عوام کچھ سال پہلے دریا خان میں پکڑے گئے مردہ خوروں کی کہانی سن کر پریشان ہیں کہ
خدانخواستہ یہاں بھی وہی معاملات نہ ہوں۔ آج اس حوالے سے علاقہ عوام کی میٹنگ ہوئی ہے کہ قبرستان
کا پہرا دینے کے لیے تین سے چار پہرے دار مقرر کیئے جائیں جو روزانہ کی بنیاد پر رات کے وقت پہرا دیں گے۔

قبرستان 68 کنال پر مشتمل ہے جس کی چار دیواری نہیں یہ کارروائی اگر جانوروں نے کی ہے تو وجہ اس
کی چار دیواری کا نا ہونا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اہلیان علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکٹھا کر کے
اس کی حفاظت کیلئے کچھ حصے کی دیوار تعمیر کی ہے مگر تاحال حکومت کی جانب سے کوئی اقدام
نہیں اٹھائے گئے تاہم پہرے دار رات کو کس کو پکڑتے ہیں یہ وقت بتائے گا۔


شیئر کریں: