فوجی بغاوتیں ماضی کا قصہ ہوئیں، ڈیموکریٹک بیک سلائڈنگ کا آغاز بیلٹ باکس سے ہوچکا

شیئر کریں:

ہارون رشید طور سے

فاشزم ، اشتراکی یا فوجی حکمرانی کی شکل میں مطلق آمریت غائب ہو چکی ہے۔ فوجی بغاوتیں
ماضی کی کہانیاں ہوئیں۔ ڈیموکریٹک بیک سلائڈنگ کا آغاز بیلٹ باکس سے ہوچکا ہے۔ اب
گلیوں میں ٹینک نہیں ہیں۔ آئین اور برائے نام جمہوری ادارے اپنی جگہ پر قائم ہیں۔

لوگ ابھی بھی ووٹ دیتے ہیں جمہوریت ایک مردہ جسم مادے کی طرح زندہ رکھی جا رہی ہے۔
جمہوریت کو بد شکل رکھنے کے اقدامات “قانونی” ہیں۔ اور ان کو مقننہ کی آشیر باد حاصل ہے یہاں
تک کہ انہیں جمہوریت میں بہتری لانے کی کوششوں کے طور پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ جیسے
عدلیہ کو زیادہ موثر بنانا، بدعنوانی کا مقابلہ کرنا یا انتخابی عمل کو صاف کرنا۔

اخبارات آج بھی سنسر شپ کی زنجیریں پہنے شائع کئے جاتے ہیں۔ حکومت پر تنقید کرنے والوں کو قانونی پریشانیوں کا سامنا ہے جس کی وجہ سے عوامی الجھنوں کی آبیاری ہو رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں ہو جمہوریت کے تحت زندگی گزار رہے ہیں چونکہ یہاں کوئی ایک لمحہ نہیں ہے۔ کوئی بغاوت ، مارشل لاء کا اعلان ، یا آئین کی معطلی، جس میں حکومت واضح طور پر آمریت میں “لکیر کو عبور کرتی ہے”۔
معاشرے کے خطرے کی گھنٹیاں عائد نہیں کرسکتی ہیں جو لوگ سرکاری زیادتی کی مذمت کرتے ہیں انھیں مبالغہ آمیز یا رونے والے بھیڑیا کے طور پر خارج کیا جاسکتا ہے۔ جمہوریت کا کٹاؤ ، بہت سوں کے لئے تقریبا ناقابل تصور ہے۔ اسی طرح 21 ویں صدی میں جمہوریت کا انتقال ہورہا ہے۔


شیئر کریں: