پاکستان میں پلاسٹک کے انڈے اور گھی فروخت،پانی بھی جعلی

شیئر کریں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر مشتاق کی زیر صدارت ہوا۔
سینیٹر نعمان وزیر نے دوران اجلاس بتایا کہ وزارت کمیٹی کی 227 ہدایت پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔
بیوروکریسی کے رویے میں تبدیلی نہیں لائی نہیں جاسکی جس پر چیئرمین کمیٹی گویا ہوئے کہ وزارت
سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے سیلری پیئنگ سینٹرز بن گئے ہیں۔

حکام پی ایس کیو سی اے نے بتایا کہ 23 کمپنیوں کے پانی کے نمونے غیر معیاری پائے گئے، پانچ کمپنیوں
کے یونٹس بند کیے گئے اور 18 کے سیلنگ پوائنٹس کو بند کیا گیا۔ پی ایس کیو سی اے پی سی آر ڈبلیو آر
کے ساتھ موبائل سیمپلنگ کرتے ہیں۔ سات بڑے شہروں میں پانی کی سیمپلنگ کی گئی۔
ایکشن لینے کے بعد کمپنیاں نام تبدیل کر کے دوبارہ کام شروع کردیتی ہیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا
پانی کی اسٹنڈرڈ چیکنگ نہیں کرسکتے تو باقی 61 چیزوں کا کیا کریں گے۔
سینیٹر مشاق بولے مارکیٹ میں پلاسٹک کے انڈے اور گھی فروخت ہورہا ہے۔


شیئر کریں: