پی ڈی ایم کو کس سے خطرہ ہے؟

شیئر کریں:

تحریر عامر حسینی

ایک مہینے میں چار مرتبہ تیل کی قیمتوں ميں اضافہ کردیا گیا۔
پاکستان میں گھریلو،کمرشل اور صنعتی صارفین نے بجلی نے 13 ہزار میگا واٹ بجلی خرچ کی اور
حکومت نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو 21 ہزار میگا واٹ بجلی کے پیسے ادا کیے۔

محکمہ دفاع نے 42 ارب کی اضافی گرانٹ مانگی دے دی گئی۔
ملک بھر میں غریب اور سفید پوش طبقے کے گھروں کو غیرقانونی قرار دے کر لوگوں کو بے گھر کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیر اعظم کا ٹیلی فون کالز پہ لوگوں کے مسائل سننے اور ان کا حل کے اقدام اٹھانے کا لالی پاپ۔ جس
کی کال ملی اسے ایک ہی جواب ملا، صبر کریں حالات جلد اچھے ہوں گے۔

ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک میں بیس روپے من آٹا ہوگیا تو حبیب جالب نے منظوم کلام میں شکوہ کیا تھا

بیس روپے من آٹا، اس پہ بھی سناٹا
صدر ایوب زندہ باد،صدر ایوب زندہ باد
گوہر، سہگل اور آدم بنے ہیں ٹاٹا و برلا
صدر ایوب زندہ باد،صدر ایوب زندہ باد

اس زمانے کی اپوزیشن جماعتوں کا ایک اتحاد تھا جس کا نام تھا سی او ڈی /متحدہ حزب اختلاف برائے جمہوریت۔ اس اتحاد نے عوام کی بدحالی اور ان کی بے چینی کو سمجھتے ہوئے بھی ایوب خان کی کی گول میز کانفرنس میں شرکت قبول کرلی تھی۔ لیکن مغربی پاکستان میں یہ پی پی پی اور مشرقی پاکستان میں عوامی نیشنل پارٹی، نیپ بھاشانی تھے جنھوں نے ایوب خان کے ساتھ مذاکرات کو ٹھکرادیا اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے سڑک پہ احتجاج کی سیاست کو ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام نے ایوب اور مشترکہ اپوزیشن کی گول میز کانفرنس کو جوتے کی نوک پر رکھا اور پاکستان کے دونوں بازؤں میں بہت بڑی احتجاجی تحریک شروع ہوئی اور اس ایجی ٹیشن نے عوام کے حقوق اور آرزؤں کے مخالف سمت چلنے والوں کو بے نام و نشان کردیا تھا۔

آج ہماری بدقسمتی ہے کہ ملک میں 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد پاکستان جمہوری تحریک پی ڈی ایم کے نام سے موجود ہے اور اس نے درجن بھر عوامی جلسے کیے تو عوام کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا لیکن پی ڈی ایم کی جملہ قیادت کے پاس متفقہ طور پر مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کی کال دینے کا وقت بھی نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پی ڈی ایم پہلے ملک گیر مظاہروں کی کال دیتا اور ہفتے بعد ملک گیر عام ہڑتال کی کال دی جاتی اور اس کے بعد اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کردیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
پی ڈی ایم کی قیادت کی موجودہ بے عملی سے آمریت پسند غیر جمہوری قوتوں کو یہ پروپیگنڈا تیز کرنے کا موقع ملا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں جتنے جوش و خروش سے نیب کے خلاف میدان میں نکلتی ہیں، وہ جتنے جوش و خروش کے ساتھ الیکشن میں دھاندلی کے ایشو کو اٹھاتے ہیں۔ اتنے زور کے ساتھ وہ مہنگائی، غربت، بے روزگاری اور نجکاری کے زریعے سے لاکھوں ملازم فارغ کرنے کے ایشو پر باہر نہیں آتے۔

عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پارلیمنٹ میں رہ کر اور اس کے سیشن میں شریک ہوکر جب عوام دشمن قانون سازیاں ہی ہونی ہیں اور عوام کی مجبوریوں اور مسائل میں اضافہ ہی ہونا ہے تو ایسی اسمبلی میں سوائے بے فائدہ تقریروں کے اور کیا فائدہ نظر آتا ہے؟

پی ڈی ایم کے بڑے اور درمیانے سرمایہ دار طبقے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں پر مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا کوئی اثر نہیں ہے اور ان کو اپنے بجٹ میں کٹ پہ کٹ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان کے طرز زندگی میں اس بحران سے کوئی فرق بظاہر دکھائی نہیں دے رہا ہے تو کیا عوام حکومت کے ترجمانوں کی اس بات پہ یقین کرلیں کہ اپوزیشن کی سیاست صرف طبقہ اشراف کے گروہی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے۔ تو سوال یہ جنم لیتا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے درمیانے اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن جن کی اپنی معاشی حالت بہت پتلی ہے وہ کیا کررہے ہیں؟

ایوب خان کے زمانے میں اشرافیہ اور عام آدمی کے درمیان بہت بڑی سماجی و معاشی تقسیم قائم ہوچکی تھی اور ایوب خان سماج میں افقی ترقی اور عمودی پسماندگی کے تضاد کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور اس نے افقی ترقی جو محض 22 خاندانوں کی ترقی تھی کا ڈھونڈرا پیٹنے کے لیے ادب اور صحافت، سیاست اور مذہب کے میدانوں سے ذہین افراد خرید رکھے تھے اور اس میدان سے جو خریدا نہ جاسکے اسے برباد کرنے میں کوئی کس اٹھا نہ رکھی جاتی تھی۔ مغربی پاکستان میں اپوزیشن کی سیاست زیادہ سے زیادہ بیانات کی سیاست تھی یا پھر ڈرائنگ روم میں چائے کی پیالی میں طوفان برپا کردینے کو کارنامہ سمجھا جاتا تھا۔
سیاسی جماعتوں پر قابض سیاسی اشرافیہ نے ایوب کے قوانین کے ہاتھوں نااہل ہونا قبول کرلیا تھا لیکن اس نے عوام سے مل کر لڑائی کی نہ سوچی۔ پھر ایوب کے بنائے بی ڈی سسٹم کو قبول کیا اور پھر اس کے بنائے آئین اور اس پہ استوار صدارتی نظام کو قبول کرلیا اور اس غیر معمولی چیز کو معمول بہ قرار دیکر وہ اپنے اپنے گوشہ چین میں جاکر سوگئے۔ اس دوران ایوب خان نے اس نظام کو تسلیم نہ کرنے والے سیاست دانوں، طالب علموں، مزدور یونین کے کارکنوں، بار کے ممبران، مذہبی جماعتوں کے کارکنوں ،کسان تنظیموں کو چلانے والوں، اپنی قومیت اور صوبائی اختیارات کی مانگ کرنے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا، اس میں ایوب خان کو تو کیا الزام دیا جاتا الٹا غیرمصالحانہ لڑائی لڑنے والے مورد الزام ٹھہر جاتے ہیں۔

مغربی پاکستان میں 67ء کے آخر تک پہلے سے موجود سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کی ڈرائنگ روم سیاست سے تنگ آکر اور نیپ کے پنجاب اور سندھ میں بالخصوص غیر فعال ہونے کے سبب اس زمانے کے درمیانے اور محنت کش طبقات کے سیاسی کارکنوں، طالب علم و مزدور و کسان کارکنوں نے ایک نئی سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی تھی اور اس کا نام تھا پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کا بانی سربراہ ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ یہ پی پی پی اور اس کے بانی کے طوفانی دورے، عوامی جلسے،جلوس اور ریلیاں تھیں جس نے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال باہر کیا تھا۔ اس نے بہت سے بیوروکریٹک انقلابی کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کی بے عملیت کا پول بھی کھول کر رکھ دیا تھا۔

ایوب خان کے زمانے میں پاکستان کے تمام بڑے شہری مراکز میں موجود یونیورسٹیاں اور بڑے کالجز طلباء سیاست کا گڑھ تھے اور جتنا بھی صنعتی ڈھانچہ تھا وہاں پر ورکرز ٹریڈ یونین سیاست اپنے عروج پہ تھی۔ اس زمانے کی بار ایسوسی ایشنز میں حقیقی جمہوریت پسند قوتوں کا غلبہ تھا۔
اخباری صنعت میں اخباری ٹریڈ یونین پر بھی جمہوری صحافتی قیادت غالب تھی اور یہی وہ بنیادی نرسریاں تھیں جہاں سے درمیانے اور ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد عوامی جمہوری سیاست کی علمبردار تھی۔ اس باشعور سیاسی کارکن، طالب علم کارکن، ٹریڈ یونین ورکر، کسان ورکر، پیٹی بورژوا روشن خیال وکیل بابو، پیٹی بورژوا کالج و یونیورسٹی کے ترقی پسند اور کہیں کہیں ریڈیکل پروفیسرز ، درمیانے / متوسط طبقے کے کسانوں میں سے ترقی پسند انقلابی کارکن یہ وہ اثاثہ تھا جس نے اس زمانے میں سیاسی جمود کو پاکستان پیپلزپارٹی بناکر توڑ دیا تھا اور ان کے ساتھ مل کر بھٹو نے شہری غریبوں اور دیہی غریبوں کو جگا دیا تھا۔ اور کیا ستم ظریفی تھی کہ مغربی پاکستان میں ایک قومی جمہوری انقلابی تحریک کا قائد ایوب شاہی کا سابقہ بڑا کارندہ اور آج اس سے باغی ذوالفقار علی بھٹو کررہا تھا۔

آج کا پاکستان ایوب خان کے زمانے میں موجود عوامی سیاست کے ڈھانچوں کے مقابلے میں اس سے کہیں زیادہ گراوٹ کی سطح پہ کھڑا ہے۔ تعلیمی اداروں یونین پہ پابندی ہے تو سیاسی جماعتوں کے طلباء ونگز نمائشی ہیں، لیبر ونگ اور کسان ونگ غیر منظم ہیں۔ اور مدر پارٹیوں میں عہدوں پہ جو براجمان پیٹی بورژوازی /درمیانہ سرمایہ دار طبقہ ہے وہ موقع پرستی کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے ایسے میں پاکستان کے عام آدمی کو شدت سے اپنی بے بسی کا احساس ستانے لگتا ہے۔ اور باشعور سیاسی کارکنوں کے اندر “متبادل” کی تلاش شروع ہوجاتی ہے۔ یہ سوال اب پاکستان کے ہر دوسرے تیسرے مخلص سیاسی کارکن کی زبان پر ہے۔ یہ ہے وہ اصل چیلنج جو آج کی حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کو لاحق ہے۔
پاکستان کا عام آدمی مشکلات کے اس بدترین دور میں اپنی ترجمانی کرنے والی آواز کا منتظر ہے۔ کیا پی ڈی ایم کا کوئی لیڈر عوام میں ویسے گھل مل جانے کو تیار ہو جیسے کبھی بھٹو ملے تھے؟ کیا پی ڈی ایم اس چیلنج سے نمٹ پائے گا؟


شیئر کریں: