میانمار کی فوج نے مارشل لا لگا دیا، آنگ سان سوچی سمیت دیگر حکومتی عہدیدار گرفتار

شیئر کریں:

میانمار کی فوج نےآنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کردی.
فوج نے ملک میں مارشل لا لگا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا.
صبح سویرے فوج نے چھاپوں کے دوران آن سان سوچی اور ان کی پارٹی
نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) پارٹی کے دیگر رہنماو ں کو حراست میں لے لیا،
فوج کی طرف سے مارشل لا کا اقدام حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز کے تناﺅ کے بعد سامنے آیا۔
فوج کے زیر ملکیت ٹی وی اسٹیشن پر جاری ایک بیان میں بتایاگیاکہ
اس نے انتخابی دھاندلی کے جواب میں نظربندیاں انجام دی ہیں
جس سے فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ کو اقتدار دیا گیا ہے اور ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔

میانمار میں حالات کیسے ہیں؟

فوجیوں نے ینگون کے سٹی ہال میں پوزیشن سنبھال لی ہیں اور
این ایل ڈی کے گڑھ میں موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا اور فون سروسز بھی متاثر ہیں۔
حکمران جماعت این ایل ڈی کے ترجمان میو نیونٹ نے فون کے ذریعے بتایا کہ
آنگ سان سو چی میانمار کے صدر ون مائنٹ اور دیگر این ایل ڈی کے رہنماو ں کو صبح سویرے ‘حراست میں لیا گیا،

مارشل لا کیوں لگایا گیا؟

ملک میں مارشل لا کا فیصلہ حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز سے جاری کشیدگی میں اضافے کے کیا گیا.
برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتوں فوج نے اشارہ دیا تھا کہ
انتخابات کی بے ضابطگیوں کے حل کیلئے وہ اقتدار پر قبضہ کرسکتے ہیں


شیئر کریں: