بہت ہوا اب بس کرو

شیئر کریں:

تحریر نوید احمد
اوگرا نے پاکستان کے غریب عوام پر ایک اور بم پھوڑ دیا ہے گوکہ ابھی یہ بم صرف پھینکا گیا ہے پھٹا نہیں ہے لیکن یہ پھٹے گا ضرور ہوسکتا ہے اس کی شدت اتنی نہ ہو جتنی کوشش اوگرا نے کی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت اوگراکی اس فرمائش کو کسی حد تک پوری ضرور کرے گی یکم فروری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے فی لیٹر تک اضافےکا امکان ہے۔اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کردی جس میں یکم فروری سے پٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر تک اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کی تجویز دی ہے، مٹی کا تیل 7 روپے، لائٹ ڈیزل ساڑھے 5 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اوگرا نے سمری 30 روپے فی لیٹر لیوی کی بنیاد پر تیار کی ہے۔
تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں اور کیسے ہوتا ہے
1999 تک حکومت خود ان قیمتوں کا تعین کرتی تھی، لیکن 2001 کے بعد یہ اختیار اوگرا کو دے دیا گیا۔
2001 سے پہلے حکومتیں ان مصنوعات کی قیمتوں کا تعین معاشی صورتحال کو بالائے طاق رکھ کر کرتی تھیں اور اس کے پیچھے سیاسی عوامل کار فرما تھے جس سے کبھی کبھار حکومت کو معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑتا تھا۔
لیکن 2001 کے بعد تیل کی مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا ایک آزاد ادارے یعنی اوگرا کو سونپ دیا گیا۔ پاکستان میں تیل کی ضرورت پورا کرنے کے لیے حکومت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ معاہدے کرتی ہے اور اس کے مطابق قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔
اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے یا کمی کی سفارش آئل کمپنیز ایڈوائزری کمیٹی کو کی جاتی ہے اور بعد میں قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں تیل کی مصنوعات کی پیدوار، چاہے وہ خام تیل ہو یا فنیشڈ پراڈکٹ جیسے پیٹرول یا ڈیزل، اتنی نہیں ہے کہ ملکی ضرورت کو پورا کر سکیں تو وہ اسے دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔
پہلے مارکیٹ کی پچھلے ایک مہینے کی قیمتوں کی اوسط نکال کر آئندہ ماہ کے لیے قیمتوں کا تعین کیا جاتا تھا۔ ’لیکن اب درآمد شدہ تیل کے دس ٹینکروں کی اوسط قیمت لگا کر آئندہ ماہ کے لیے قیمتوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ یعنی مارکیٹ میں جنوری کے مہینے میں 10 ٹینکروں کی جو اوسط قیمت ہوگی اس کی بنیاد پر فروری کے لیے قیمت کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پہلے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ فی لیٹر پیٹرول کی بنیادی قیمت کیا ہوگی۔ اس کے بعد سیلز ٹیکس، پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی، فریٹ چارجز یعنی ٹرانسپورٹ کے چارجز اور خریداروں کے کمیشن کو ملا کر اس کو ملک بھر میں قائم 29 ڈیپوز پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
تمام ڈیپوز میں تقریباً ایک ہی قیمت پر تیل دیا جاتا ہے۔ بعد میں یہ ڈیپوز پیٹرول پمپس کو تیل فراہم کرتے ہے اور قیمت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ ’پیٹرول پمپ جتنا دور ہوگا اسی حساب سے پیٹرول کی قمیت بھی زیادہ ہوگی۔ مثال کے طور پر دیر اور سوات میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت پشاور میں فی لیٹر پیٹرول کی قیمت سے زیادہ ہوگی۔
یہ تو تھا طریقہ کار جس کے ذریعے پیٹرول کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے اوگرا نے اپنی سمری دے دی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکی حتمی منظوری وزیراعظم عمران خان دیں گے۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی پہلے ہی مہنگائی ، کورونا اور بیروزگاری سے تنگ عوام اب ایک نئی مصیبت سے نبردآزما ہیں اور دعاگو ہیں کہ شاید عمران خان کے دل میں عوا م کی محبت بھی جاگ جائے –


شیئر کریں: