ہم سب اقلیت میں ہیں؟؟

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

خط بنام سرکار ، یہ ایک کھلا خط ہے اس ملک کے جو بھی حکمران ہیں انکے لیے بظاہر عمران خان وزیر اعظم ہے تو اسی کے نام جوانان قوم کے کچھ سوال کچھ گلے شکوے اور کچھ بہتر نہ ہونے کی امید کے ساتھ کڑوی باتیں ہیں۔

تو ایسا ہے جناب والا آپ مسند نشین ہیں اور کچھ لوگوں کے لیے دلنشین بھی مگر اکثریت ہمارے ملک کی بے چین ہے نیندیں حرام ہیں اور زندگی یہاں جرم بن گئی ہے۔ حضور آپ نے آنے سے قبل لمبی لمبی بے پر کی ہانک تو دی تھیں لیکن اسکا 5 دس فی صد بھی اس ملک کے عوام جو اصل میں یہاں اقلیتوں جیسا سلوک برداشت کر رہے ہیں کو نہیں مل پایا یا دینا نہیں چاہ رہے آپ

ملک میں افراتفری ہے بیروزگاری ہے اور بے حد مہنگائی ہے مگر اسکا اندازہ جناب کو کیسے ہو گا کیونکہ آپ کے گرد مصاحبین کا انبار لگ رکھا ہے جو ہر گھڑی ہر پل آپکو یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ بادشاہ سلامت تاج سلامت ہے اور آپ اپنے تاج کے نگینوں پہ ایک احتیاطی ہاتھ پھیر کر اپنے شیرو وغیرہ کے ساتھ کھیل میں مصروف ہو جاتے ہیں

تو حضور ایسا ہے کہ آپکو مسند پہ دیکھنے کے خواہشمند اور آپکی تقریروں سے نشے میں مبتلا ہونے والے قریب قریب 80 فی صد پڑھے لکھے نوجوان آپکی شاہی میں بیروزگار اور اوازار گھوم رہے ہیں آپ کامیاب جوان قرضہ سکیم اور جانے زیتون کے ساتھ شہد ملا کر کونسا کشتہ تیار کرنے کی تیاریوں میں ہیں لیکن اصل میں دو وقت کی روٹی نہ کما سکنے والے آپکے ٹائیگرز اور دوسرے جوان خودکشیوں کے آسان ذرائع اور راستے تلاش رہے ہیں

ہم جانتے ہیں مائی باپ کہ آپکے پاس سوشل میڈیا سمیت مین اسٹریم میڈیا میں بھی ترجمانوں کا ایک پورا لشکر موجود ہے لیکن حضور اصل بات یہ ہے کہ اب لوگ آپکو کبھی غلطی سے بھی ٹی وی پہ دیکھ لیں تو ایک نئی مصیبت کے آنے سے پیشتر جیسے دعائے خیر اور آفات و بلیات سے بچنے کے ورد کیے جاتے ہیں ویسا ہونے لگا ہے

حکمران کیا ہوتا ہے وہ آپ نے ہمیں تقریروں میں بہت بار سنا ڈالا ہے لیکن جناب آپکے تمام خطابات اقلیتوں کے لیے اور ان غریبوں کے لیے بے سود ہیں جن کے ووٹس آپکو ڈالے گئے یا ڈلوائے گئے اور اسکے بعد آپ تخت پاکستان پہ جلوہ افروز ہوئے یہ تمام لوگ آپکی سوشل میڈیا ٹیم کی محنتوں اور کاوشوں کے ثمر چکھنے سے محروم ہیں وجہ یہ ہے حضور کہ بائیس تئیس کروڑ کی آبادی میں صرف 5 7 کروڑ ہی ایسے ہیں جو سوشل میڈیا کا استعمال جانتے ہیں یا جنہیں معلوم ہے کہ انٹرنیٹ کیا بلا ہے

تو حضور کل ملا کے ماجرہ یہ ہے کہ آپکے مصاحبین آپکو روز جھوٹ ملا کر شہد چٹوا رہے ہیں اور آپ اس ذائقے پر واہ واہ کرتے نہیں تھک پا رہے

وہ لاہور میں ایک احتجاج کرنے والے طالب علم کی جان چلی گئی کچھ طلباء یا طالب علم آپکی ریاست میں ہی غائب ہیں حضور یہ وہ لوگ ہیں جنہیں آپ اپنی طاقت کہا کرتے تھے میرے جتنے بھی بزرگ اس دنیا سے چلے گئے ہیں حضور انہیں ملا کر اور خود کو شمار کرتے ہوئے آپکی آمد کے لیے کی جانے والی بلواسطہ یا بلاواسطہ کوشش پر میں رب کے حضور روزانہ توبہ بجا لا رہا ہوں اور ملک پاک کے اکثر بیروزگار افراد بھی آجکل یہی عمل دوہرا رہے ہیں

حضور آپکی نیت کا حال خدا جانتا ہے لیکن عام آدمی کی بس ہو گئی ہے آپکو پتہ بھی کیسے چلے حضور آپ سمیت تمام وزراء جو دن رات پی ڈی ایم کو قتل کرنے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ان تمام کا بجلی و گیس کا بل تک یہ عام لوگ ادا کرتے ہیں آپ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں اور راشن کی بھی تنگی نہیں بلکہ آسائیشوں کے لیے جہانگیر ترین جیسے لوگ آپکو بلٹ پروف گاڑیاں تحفے میں ڈالتے ہیں حضور آپ کیسے جانیں گے کہ جن غریبوں کے ساتھ آپ شیلٹر ہومز میں فوٹو سیشنز کروا کر خبروں کی زینت بن جاتے ہیں اس فوٹو سیشن کے بعد انکا اور انکے اہلیخانہ کا گذر بسر کیسے ہوتا ہے حضور سوال جواب تو چھوڑئیے عام آدمی اور پڑھے لکھے نوجوان آپکو بہرہ اور سویا ہوا جانتے ہیں
ذرہ جاگئے حضور کہ اس سے پہلے تخت پہ کسی اور کو بٹھا دیا جائے

والسلام


شیئر کریں: