پی ٹی آئی اور نون لیگ سینیٹ اُمیدواروں کے چُناؤ میں پارٹی دھڑوں کی آپسی رسہ کشی کا شکار

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

وزیراعظم عمران خان کو حال ہی میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی رپورٹس ، بالخصوص وفاقی سطح کی
واحد غیر عسکری خفیہ ایجنسی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں پنجاب میں
پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی بغاوت سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا جنگی بنیادوں پر اس کی پیش
بندی کے لئے اقدامات اٹھائے جانا ضروری ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے لیے خطرہ کی گھنٹی

رپورٹ میں پرائم منسٹر ہاؤس کو اس اہم خطرے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے سفارش کی گئی
ہے کہ سینیٹ کے لئے پنجاب سے پارٹی ٹکٹیں جاری کرنے میں بھی اگر پی ٹی آئی پنجاب کے صدر
اعجاز چوہدری جیسے پارٹی کے بنیادی وفادار کارکنوں کو نظر انداز کردیا گیا تو امکان ھے کہ
پارٹی کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے۔

اس صورت حال میں حکمران جماعت کے لئے مقتدر حلقوں کی طرف سے “فائنل” کردہ امیدواروں میں سے
بعض کو الیکشن جتوانا چیلنج بن گیا ہے جو وفاقی کابینہ کا حصہ ہوتے ہوئے پہلے سے ہی وزیراعظم
کی ٹیم میں شامل ہیں۔

مبشر لقمان کا نام کس کھاتے میں‌ تھا؟

ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ نے ہر صورت سینیٹ کا رکن بنوانے کے لئے پرائم منسٹر ہاؤس کو ابتدا
میں 5 نام بھجوائے تھے جن میں سے 2 یعنی حفیظ شیخ اور بابر اعوان کو پہلے ہی وفاقی وزیر اور مشیر
بنایا جاچکا ہے رزق داؤد اور ندیم بابر کو منتخب کروانے کے بعد اہم وزارتیں باضابطہ ان کے حوالے
کی جانا باقی ہیں۔ پانچواں نام ٹی وی اینکر اور سابق صوبائی نگران وزیر مبشر لقمان کا تھا جو اب
ڈراپ کر دیا گیا ہے۔ پرائم منسٹر ہاؤس نے پارٹی سنٹرل سیکریٹریٹ کو “پیرا شوٹرز” سمیت جن
“رسمی کارکنوں” کے نام بھجوائے ہیں۔

ان میں اب معروف صنعت کار اور ایک دوسرے سابق نگران صوبائی وزیر میاں انجم نثار کا نام
دیا گیا ہے ممتاز آئینی ماہر و قانون دان بیرسٹر علی ظفر کو ڈراپ کر کے نعیم بخاری کا نام بھجوایا گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی ٹیم میں شامل غیر منتخب ارکان یعنی سینیٹ کی ٹکٹ کے لئے نامزد
کردہ “پیرا شوٹرز” میں شہزاد اکبر اور زلفی بخاری کے نام بھی شامل بتائے جاتے ہیں تاہم وزیراعظم کے
2 نہائت اھم مشیروں ندیم بابر اور شہزاد اکبر کو پنجاب سے منتخب کروانا برسر اقتدار پی ٹی آئی
کے لئے چیلنج بن گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب میں ٹیکنو کریٹ اور خواتین کے لئے
مخصوص ایک ایک نشست کے علاوہ جنرل سیٹوں پر 8 امیدوار field کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
“قاف لیگ” کے کامل علی آغا کو مشترکہ امیدوار بنایا جائے گا۔

ماحولیات کے وفاقی مشیر ملک امین اسلم بھی ابھی تک ترجیحی ناموں میں شامل ہے پی ٹی آئی
کے سیف اللہ نیازی کو اسلام آباد کی عام نشست کی بجائے پنجاب سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا
ہے۔ دوسری طرف اسلام آباد میں خواتین
کی مخصوص نشست کے لئے نیلوفر بختیار پر تول رہی بتائی جاتی ہیں۔

مریم نواز اور شہباز شریف کیمپ

پنجاب میں عددی حوالے سے پنجاب کی سنگل اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ن) میں پارٹی صدر
شہباز شریف اور عملی طور پر پارٹی کی قیادت میں سرگرم نائب صدر مریم نواز کے گروپ
سینیٹ میں بھی اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دلوانے کے لئے متحرک ہوگئے ہیں۔

اسی ضمن میں جہاں مریم نواز گروپ سے تعلق رکھنے والے سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا ووٹ
سندھ سے پنجاب میں شفٹ کروایا گیا ہے تاکہ نہال ہاشمی کی طرح انہیں بھی پنجاب سے بآسانی
منتخب کروالیا جائے۔

وہیں مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ کا ووٹ بھی پنجاب میں شفٹ کروایا گیا ہے۔
اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے “نون لیگ” کے نئے صوبائی صدر شاہ محمد شاہ پارٹی صدر
شہباز شریف کے خصوصی اعتماد کے حامل دوسرے لفظوں میں “شہباز شریف کا بندہ” بتائے جاتے ہیں۔


شیئر کریں: