بھارتی کسانوں کی یوم جمہوریہ پر دہلی کی طرف ٹریکٹر ریلی

شیئر کریں:

بھارت کے کسانوں کا احتجاج مزید شدت اختیار کرنے لگا ہے کسانوں کے دہلی میں ٹریکٹر مارچ نے
مودی حکومت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ زرعات سے متعلق قوانین میں تبدیلی پر بھارت کے کسان 26
نومبر سے احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔ کسان اپنی تحریک کے دو ماہ مکمل ہونے پر بھارت کے
یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر ریلی نکال رہے ہیں۔

بھارتی کسانوں کا ہریانہ سے ایک لاکھ ٹریکٹر لانے کا اعلان

کسان دارلحکومت دہلی کی سرحدوں پر 26 نومبر 2020 سے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے 26 نومبر کو
“دہلی چلو” کے نام سے مارچ شروع کیا تھا۔ انتہائی تسلسل کے ساتھ جاری اپنی تحریک کو یادگار بنانے
کے لیے کسانوں کی تنظٰیم نے ملک کے یوم جمہوریہ پر “ٹریکٹر مارچ” کا اعلان کیا۔ کسان اتحاد کو
توڑنے کے لیے اس اعلان کے بعد سے حکومت نے مختلف نوعیت کا پروپیگڈہ شروع کردیا۔

مودی سرکار کہتی ہے کہ پاکستان اس مارچ کو سبوتاژ کر سکتا ہے اور جعلی ٹوئیٹر اکاونٹس کے
ذریعے لوگوں کو اکسایا جارہا ہے۔ حالانکہ کسان اپنے جائز مطالبات کے لیے دو ماہ سے احتجاج پر
ہیں مزاکرات کے کئی دور حکومت کی بدنیتی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکے۔ ریلی روکنے کے
لیے حکومت نے قوانین میں اصلاحات ڈیڑھ سال تک موخر کرنے کا اعلان بھی کیا لیکن کسانوں نے
لالی پاپ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نئے قوانیں مکمل طور پر ختم کرے کیونکہ قوانین میں اصلاحات کے
نام پر ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔ خیال رہے حکومت نے دہلی چلو کی طرح ٹریکٹر مارچ بھی رکوانے
کے لیے عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے اسے امن عامہ کا مسئلہ قرار دے کر پولیس سے رابطہ
کرنے کا کہہ دیا۔ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے پرامن احتجاج کسانوں کا بنیادی حق ہے جسے کسی
طور پر چھینا نہیں جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یوم جمہوریہ پر کسان اپنا جمہوری حق استعمال کرتے
ہوئے ٹریکٹر ٹرالی مارچ دہلی میں کر رہے ہیں۔

کسانوں کے مارچ کے پیش نظر مودی سرکار نے پورے ملک باالخصوص دہلی میں سیکیورٹی کے انتہائی
کڑے انتظامات کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔


شیئر کریں: