پاکستان میں کپاس کی پھر کمی ، خزانے کو 150 ارب روپے کا نقصان

شیئر کریں:


کپاس کی پیداوار میں رکارڈ کمی کے باعث پاکستان کو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے 10 لاکھ ٹن
سے زیادہ کپاس درآمد کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔

پیداوار میں کمی سے صرف زرعی شعبے کو 150 ارب روپے سے زیادہ کے نقصان کا سامنا ہے۔
امریکا کی محکمہ ذراعت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اس سیزن میں کپاس کی پیداوار کا اندازہ
9 لاکھ 36 ہزار ٹن ہے جو گزشتہ سال سے 31 فیصد اور سال 2018 کی پیداوار سے 48 فیصد کم ہے۔

کپاس برآمد کرنے والے پاکستان کو اب درآمد کرنا پڑے گی

ملکی ضروریات سے 50 فیصد کم ہو گئی

کپاس کی پیداوار ملکی ضروریات کے 50 فیصد سے بھی کم ہے مقامی صنعت کے لیے 21 لاکھ 77 ہزار
ٹن کپاس کی ضرورت کا اندازہ ہے۔
ملکی پیداوار میں رکارڈ کمی کے باعث اس سیزن میں پاکستان کی طرف سے 10 لاکھ 67 ہزار ٹن
کپاس درآمد کی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کپاس کے زیر کاشت رقبے میں کمی کے علاوہ فی ایکڑ پیداوار میں بہت
زیادہ کمی ہونے کی وجہ سے پیداوار کم ہو رہی ہے۔
دو سال کے دوران کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں سیزن مین اب تک پاکستان ساڑھے تین لاکھ ٹن کے قریب کپاس
درآمد کر چکا ہے جس کی مالیت 87 ارب روپے ہے۔
ملکی پیداوار کم نا ہوتی تو یہ رقم بھی مقامی کاشتکاروں کو ہی ملنی تھی۔

کاشت کار کیا کہتے ہیں؟

کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ کپاس کی کاشت میں کمی کی بنیادی وجہ حکومت کی اس شعبہ پر عدم توجہ ہے۔
کپاس کی فصل انتہائی نازک ہوتی ہے جسے سنڈی، موسمی حالات اور وائرس کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس کی چنوائی بھی مشقت طلب کام ہے کیونکہ پاکستان میں اس دور جدید میں بھی مشینری کے بجائے
ہاتھوں سے ہی کپاس چنی جاتی ہے۔

کپاس کی ملکی پیداوار میں رکارڈ کمی

بے موسم کی بارش بھی کپاس کی تیار فصل تباہ کر دیتی ہیں حکومت کسانوں کو اس مد میں کسی قسم کی
بھی سبسڈی فراہم نہیں کرتی۔
جس کی وجہ سے کسان کپاس کے بجائے دیگر فصلوں کی کاشت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔


شیئر کریں: