امریکی کانگریس کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں میں بھارتی بھی شامل تھے

شیئر کریں:

امریکی کانگریس کیپٹل ہل پر حملے نے جہاں دنیا بھر کو حیران کر رکھا ہے وہیں ایک ویڈیو
نے پریشان بھی کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھوں میں
بھارتی ترنگا بھی لہرا رہا ہے۔

بھارتی ترنگا کیپٹل ہل پر کون لایا؟

سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ بھارتی ترنگے کی موجودگی اس بات کی گواہی ہے مودی کی
انتہا پسندی بھارت اور کشمیر سے نکل کر امریکا بھی پہنچ گئی ہے۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور مودی ایک دوسرے کو دوست کہتے رہے ہیں۔

مودی نے ٹرمپ کی انتخابی مہم بھی چلائی اور مقبوضہ جموں و کشمیر پر دوبارہ سے غیرقانونی قبضہ
بھی ٹرمپ دور میں ہوا۔
بھارت میں سیکولر سوچ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مودی کی انتہا پسندی کی سوچ امریکا بھی پہنچ گئی ہے۔
کہتے ہیں نہ جو انسان بوتا ہے وہی اسے کاٹنا پڑتا ہے اور دنیا نے کیپٹل ہل پر انتہاپسندوں کے ہاتھوں میں بھارتی ترنگا دیکھ لیا ہے۔

انتہا پسندی کی سوچ بھارت سے امریکا پہنچ گئی

کچھ لوگوں کا کہنا پہلے ہی سے یہ کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندرا مودی کی سوچ اور سیاست
کا چلن نسل پرستی پر مبنی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جس طرح بھارت میں بابری مسجد کو انتہاپسندوں نے شہید کیا تھا اور اس کی گنبد
پر ترنگا لہرایا تھا بالکل اسی طرح کیپٹل ہل پر انتہاپسندوں نے حرکت کی۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے بابری مسجد اور کیپٹل ہل کی تصویروں کو ایک ساتھ لگا
کہ دونوں کی سوچ کو نمایاں کیا۔
سوشل میڈیا پر بھارتی ترنگے والی ویڈیو نے دنیا بھر کے سامنے مودی کی انتہا پسندی کی سوچ والا
نظریہ ایک بار پھر سے ظاہر کر دیا ہے۔

امریکی ادارے کیپٹل ہل پر حملہ میں ملوث 70 سے زائد افراد کر چکے ہیں۔
تاہم ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بھارتی ترنگا لہرانے والے شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے
یا نہیں لیکن ویڈیوز کی مدد سے ایک ایک حملہ آور تک رسائی ممکن بنائی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کانگریس کے رہنما ششی تھروڑ نے بھی مودی پر زور دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ
سے فاصلہ کر لیں یہی بھارت کے حق میں‌ بہتر ہو گا۔

ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی

خیال رہے امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن کی کامیابی کے بعد سے صدر ڈونلڈ
ٹرمپ مختلف حربے استعمال کر رہے تھے اور انتخابی نتائج کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

کیپٹل ہل پر حملے کے ایک روز بعد انہوں نے جو بائیڈن کی کامیابی کو ناچاہتے ہوئے بھی تسلیم کر لیا
ہے اور کہا ہے کہ وہ 20 جنوری کو اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے تیار ہیں۔
بدقسمتی سے ٹرمپ نے کیپٹل ہل پر حملے کی مزمت نہیں اور اس پر اپنی ترجمان کے ذریعے ٹوئیٹر
پر بیان جاری کرانے کو کافی سمجھا۔


شیئر کریں: