کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا 5 دن سے لاشوں کے ساتھ احتجاج جاری، سانحہ مچھ کے خلاف ملک بھر میں دھرنے

شیئر کریں:

کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پرہزارہ برادری کا لاشوں کے ہمراہ دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے۔
سخت سردی کے باوجود احتجاجی دھرنے میں خواتین، بچے اوربزرگ افراد شامل ہیں،
دھرنے کے شرکا نے کہا کہ جب تک وزیراعظم احتجاجی دھرنے میں نہیں آتے میتوں کی ہمراہ دھرنا جاری رہے گا۔

کوئٹہ میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکزبند کردیئے گئے ہیں۔
انجمن تاجران کا اس متعلق کہنا ہے کہ شہدا کے لواحقین سے مکمل اظہاریکجہتی کرتے ہیں،
حکومت امن و امان کے قیام میں ناکام ہوچکی ہے

ہزارہ برادری کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف کراچی کے9 مقامات پر دھرنے

کراچی کے مختلف علاقوں میں سانحہ مچھ کے خلاف احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔
عائشہ منزل ، پاورہاؤس چورنگی، نمائش چورنگی نیورضویہ،
سفورہ چورنگی اورکامران چورنگی پردھرنے جاری ہیں۔
دھرنوں کی وجہ سے اسٹارگیٹ، ملیر15، ناتھا خان پل اورنیپا پل ٹریفک کے لئے بند ہے۔
سانحہ مچھ کے خلاف حیدرآباد، خیرپورسمیت مختلف شہروں میں بھی دھرنے جاری ہیں۔

ہزارہ برادری کا 3 دن سے سٹرکوں پر لاشیں رکھ احتجاج ، ریاست مدینہ کے دعویدار غائب

پانچ روزکے دوران صوبائی اوروفاقی حکومت کے نمائندوں نے پانچ مرتبہ مذاکرات کئے جوناکام رہے۔
گزشتہ روزوزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزیرعلی زیدی سے مذاکرات بھی ناکام رہے۔
ہزارہ برادری نے وزیراعظم کی آمد تک میتوں کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ہزارہ برادری کا لاشیں ہائی وے پر رکھ کر احتجاج زمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

وزیراعلیٰ جام کمال نے شہدا کے ورثا سے میتوں کودفنانے کی درخواست کی
اورقاتلوں کوکیفرکردارتک پہنچانے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
افغان قونصل جنرل نے پاکستانی حکام سے سانحہ مچھ کے تین شہد
کی میتیں افغان حکومت کے حوالےکرنے کی درخواست کی ہے


شیئر کریں: