ہزارہ برادری کا 3 دن سے سٹرکوں پر لاشیں رکھ احتجاج ، ریاست مدینہ کے دعویدار غائب

شیئر کریں:

بلوچستان کی سٹرکوں سے اٹھنے والی ماوں کی دھاڑوں کا اثر سوشل میڈیا پر نظر آنے لگا
مچھ کے معصوم کان کنوں کے خون سے سوشل میڈیا سرخ ہوگیا
ایک طرف شہدا کے ورثہ سخت سردی میں تین دن سے لاشیں سٹرکوں پر رکھ احتجاج کر رہے ہیں
تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید جاری ہے
سوشل میڈیا پر ہزارہ برادری کی ایک بچی کی تصویر شیئر کی گئی ہے جو ہاتھ میں پوسٹر اٹھا کر کھڑی ہے
پوسٹر پر لکھا ہے کہ ہزارہ برادری کی حفاظت نہیں کرسکتے اور چیختے ہو کہ کشمیر بنے گا پاکستان؟

اینکرپرسن ثنا بچہ نے بھی عمران خان حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپنے ٹویٹ میں عمران خان کے 2013 والے تویٹ کو شیئر کیا
جس میں عمران خان تب ہزارہ برادری کے کوئٹہ میں قتل عام پر ریاست سے سوال اٹھا رہے تھے۔
ثنا بچہ نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ اب عمران خان اور ریاست ایک پیج پر ہیں۔

عاقب رانا نے بھی عمران خان کی 2013 کے ٹویٹ کی تصویر شیئر کی
اور لکھا کہ کیا اب اسٹیٹ مر گئی ہے یا بک گئی ہے؟ ریاست مدینہ خاموش کیوں ہے؟

ایک اور سوشل میڈیا صارف حسین نے ہزارہ برادری کے احتجاج کی تصویر تویٹ کی
اور لکھا کہ اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ انصاف کے لیے احتجاج کرنا آسان نہیں ہوتا۔
ریاست کو شیعہ سنی سے بالاتر ہوکر انصاف فراہم کرنا ہوگا

ممتاز ساجدی نامی سوشل میڈیا صارف نے کراچی یونیورسٹی روڈ پر جاری احتجاج کی تصاویر شیئر کی۔
انہوں نے لکھا کہ ہزارہ کی نسل کشی کے خلاف کراچی میں بھی احتجاج جاری ہے

اظہر حسینی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا کی تصویر شیئر کی
اور لکھا کہ کاش یہ کافر اس ملک کی وزیراعظم ہوتی تو ہزارہ برادری کو انصاف
کے لیے اپنے پیاروں کی لاشوں کے ساتھ سٹرکوں پر نہ بیٹھنا پڑتا

یہ کون لوگ ہیں جو معصوم شہریوں کو بے دردی سے قتل کردیتے ہیں؟
اسلام تو امن کا دین ہے. اسلام کہتا ہے کہ جس نے ایک انسان کا قتل کیا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا
یہاں تو گیارہ نوجوان ذبح کردیے گئے اور قاتل پکڑے بھی نہیں گئے
ہربار ہزارہ کا قتل عام ہوتا ہے، اس کے بعد احتجاج اور پھر حکومتی یقین دہانیوں پر احتجاج ختم ہوجاتا ہے
اگر کچھ نہ رک سکا تو وہ ہزارہ برادری کا قتل عام.

ہزارہ برادری کا لاشیں ہائی وے پر رکھ کر احتجاج زمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

یاد رہے کہ تین روز قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں ہزارہ برادری کے
گیارہ سے زائد کان کنوں کو گلے کاٹ کر شہید کردیا گیا تھا
اس واقعے کے تین دن بعد بھی کوئی اہم حکومتی شخصیت ورثہ کے تحفظات سننے کے لیے بلوچستان نہ پہنچی۔
وزیراعظم عمران خان اور حکومت کے رویے کے خلاف پاکستان بھر میں
نہ صرف تنقید کی جارہی ہے بلکہ ملک بھر میں احتجاج جاری ہے


شیئر کریں: