سندھ اور پنجاب میں بڑے پیمانے پر استعمال شدہ سرنج استعمال کیے جانے کا انکشاف

شیئر کریں:

2019 میں ایک ریسرچ سے انکشاف ہوا کہ سندھ اور پنجاب میں پرائیویٹ ہیلتھ کیئر پرووائیڈز بڑی تعداد میں سرنج کا دوبارہ استعمال کر رہے ہیں
وزارت صحت نے ملک بھر میں غیر ضروری اور غیر محفوظ انجیکشنز کے خلاف اقدامات مہم شروع کر دی۔
ٹی وی ، اخبار ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جائے گی۔

سندھ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے دیہاتی علاقوں میں علاقائی زبانوں میں بھی پیغامات پہنچائے جائیں گے۔
غیر ضروری اور غیر محفوظ انجیکشنز خطرناک وباؤں اور ایچ آئی وی ایڈز کا باعث بنتے ہیں۔
وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں 94 فیصد انجیکشنز غیر ضروری ہیں۔
اورل میڈیکیشن کے استعمال کو فروغ دے کر انجیکشنز سے اجتناب کیا جا سکتا ہے۔


شیئر کریں: