یمن میں دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران ایک کروڑ بچے قحط سالی کا شکار

شیئر کریں:

سیاسی طاقت کے لیے یمن میں جاری جنگ نے انسانی تاریخ کا سب بڑا بحران کھڑا کر دیا ہے۔
عالمی طاقتوں کی جنگ نے یمنی قوم کی نسل کشی کر دی آئے روز ہلاکتیں اور تباہی ان کا
مقدر بنادی گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے یمن کے بچوں کی حالت زار پر ایک اور الرٹ جاری کر دیا ہے۔
یونائیٹڈ نیشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجسنی فنڈ نے یمنی بچوں کے بارے میں رپورٹ جاری کی ہے۔

عالمی ادارہ کی رپورٹ نے انسانیت کو شرمندہ کردیا

عالمی ادارے کی رپورٹ میں چونکا دینے والے حقائق سامنے لائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یمن میں جاری جنگ کی وجہ سے 1 کروڑ سے زائد بچے قحط سالی کا شکار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے سعودی عرب اور ایران کی یمن میں جاری پراکسیز کے بعد کورونا وائرس نے
حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

لوگ خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں

ناساز حالات میں گھر نہ ہونے کی وجہ سے یمنی شہریوں کی بڑی تعداد کھلے آسمان تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔
عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بچوں کو فوری طور
نگہداشت اور اچھی خوراک کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی ادارے کا کہنا ہے خوراک کی کمی کی وجہ سے 3لاکھ 58 ہزار یمنی بچوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔
جنگ کی وجہ سے یمن کی 70 فیصد آبادی بیرونی امداد پر زندگیاں گزار رہی ہے۔
2021 یمن کے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گا کیوں کہ برطانیہ نے پوری دنیا
سمیت یمن کی امداد بھی روک دی ہے۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2021 میں مزید 2 لاکھ 90 ہزار یمنی بچوں کو بدترین حالات سے گزرنا پڑے گا۔

یمن پر جنگ کس نے مسلط کی؟

یاد رہے کہ 41 ممالک کے سعودی اتحاد نے گزشتہ پانچ سال میں یمن کی شہری آبادی اور
اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا۔
عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، ایران اور عالمی طاقتوں کی یمن میں جاری پراکسیز کی وجہ
سےگزشتہ 5 سال میں ایک لاکھ سے زائد یمنی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
اقوام متحدہ نے یمن کی صورت حال پر عالمی برادری کو توجہ دینے کی سفارش کی ہے۔
اگر یمن کے بحران کو حل نہ کیا گیا تو 2021 میں ایک کروڑ سے زائد بچے شدید قحط سالی کا شکار ہوجائیں گے۔


شیئر کریں: