کورونا وائرس کا انسانوں کے ساتھ اگلے 10 سال تک رہنے کا انکشاف

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی دنیا بھر میں تباہ کاریاں جاری ہیں 2020 میں اپریل سے آج تک 17 لاکھ 64
ہزار 567 افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

لوگ ابھی سنبھلنا چاہتے ہی تھے کہ دوسری لہر نے سراٹھایا اور انسانوں کے سرکچلنے شروع کر دیے۔

اس دوران 19 دسمبر کو برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے اعلان کر دیا کہ کورونا کی ایک نئی
قسم کا قہر ان کے ملک پر حملہ آور ہو چکا ہے۔

برطانیہ میں سامنے والا وائرس پہلے سے موجود کورونا وائرس سے 70 گنا زائد خطرناک ہے۔
اس وائرس کی منتقلی کی شرح 70 گنا کہیں زیادہ ہے اور اموات بھی اس سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

 


حالات نارمل کب ہوں گے؟

 

اب بائیو این ٹیک کے سی ای او نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس اور انسانوں کا ساتھ اگلے
دس سال تک رہے گا۔
کورونا کی وبا جلد ختم نہیں ہو گی انسانوں کو اپنے رویے تبدیل کرنے ہوں گے۔

حالات کتنے عرصے میں نارمل ہو جائیں گے اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نارمل کی نئے سرے
سے تشریح کرنی ہو گی۔
کرہ ارض کے لوگوں کو ابھی کئی سال اسی وبا کے ساتھ لڑنا ہے اس لیے ہمیں اپنے معمولات زندگی
حفاظتی انتظامات کے ساتھ اختیار کرنے ہوں گے۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم 2018 کی طرح سماجی اور روز مرہ کے معمولات چلانے کی کوشش کریں
اور زندہ بھی رہیں ایسا اب ممکن نہیں۔

کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے والی ویکسین نئی لہر کے کارآمد ہو گی اس سوال پر ان کا کہنا
تھا ویکسین پر مزید کام شروع کر دیا گیا ہے اس میں 6 ہفتے لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے لندن اور برطانیہ کے دیگر علاقوں میں نئی قسم کے وائرس کا انکشاف ہونے کے بعد دنیا کے
پچاس سے زائد ممالک عارضی طور پر اپنی پروازیں معطل کر چکے ہیں۔
نئی قسم کا انتہائی مہلک وائرس کینیڈا، جاپان، ہانک کانگ، فرانس اور دیگر کئی ممالک میں
تشخٰیص ہو چکا ہے۔

نیا کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، حکومت کو برطانیہ سے پاکستان پہنچنے والے مسافروں کی تلاش

برطانیہ کا وائرس پاکستان پہنچ گیا؟

پاکستان میں ڈاکٹر عطا الرحمن کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پاکستان میں پہنچ چکا ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی الرٹ جاری کر دیا ہے وہاں لندن سے آنے والی
پرواز کے مسافر غائب ہو گئے ہیں۔


دوسری جانب ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا وائرس پاکستان نہیں پہنچا اور حکومت
اس سلسلے میں پیشگی انتظامات کر رہی ہے۔
رواں سال فروری میں بھی حکومت کی جانب سے اسی طرح متضاد بیانات جاری کیے گئے تھے
لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی تھی۔


شیئر کریں: