کورونا وائرس کی ویکسین حلال یا حرام ؟ علما کا فتوی جاری

شیئر کریں:

جہاں کورونا ویکسین کی فوری دستیابی کے لیے دنیا بھر میں کوششیں جاری ہیں وہیں مسلم علما
کی طرف سے ویکسین لگانے سے متعلق فتوے بھی جاری کیے جارہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کے علما علمائے کرام نے کورونا پر بعض حلقوں کی جانب سے جاری غیر بحث ختم
کرنے کے لیے نیا فتوی جاری کردیا ہے۔

برطانیہ پر نئے وائرس کا قہر، بارڈر پر گاڑیاں پھنس گئیں فوج طلب

متحدہ عرب امارات کی فتوی کونسل کے چیئرمین شیخ عبداللہ بن بایان نے فتوی میں کہا ہے کہ کورونا
ویکسین کے استعمال کو اسلامی قوانین کی روشنی میں یقینی بنایا جایا۔
یو اے ای کی علما کونسل کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کو انسانی جسم کی حفاظت اور دیگر اسلامی
قوانین کے تحت ہی استعمال کیا جائے۔

علما کونسل نے فتوی کیوں جاری کیا؟

یواے کی علما کونسل کا فتوی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک میں مسلمانوں کی طرف سے ویکسین کے حلال یا حرام ہونے پر آوازیں اٹھائی جا رہی تھیں۔
کئی ممالک یورپی ممالک کی مسلمان آبادی کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ کورونا ویکسین خنزیر سے بنی ہے اس لیے یہ مسلمانوں کے لیے حرام ہے۔

ویکسین کا حلال ہونا یقینی بنایا جائے

متحدہ عرب امارات کی علما کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت مسلمانوں کے تحفظات کو کرے۔
ویکسین شہریوں کو لگانے سے پہلے یہ اس کا حلال ہونا یقینی بنایا جائے۔
علما کا کہنا ہے کہ اگر ویکسین حلال یا حرام ہونے پر شہریوں کے تحقظات دور نہیں ہوتے تو اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوگا۔


شیئر کریں: