برطانیہ کو دنیا بھر میں تنہائی کا سامنا، خطرناک وائرس کے بعد فضائی اور زمینی رابطہ منقطع

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی نئی شکل دریافت ہونے پر برطانیہ کو دنیا بھر میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
برطانیہ میں رواں سال ستمبر میں کورونا وائرس کی بدلتی ہوئی ہیئت سامنے آئی جس نے برطانیہ
ویلز، اسکاٹ لینڈ اور نارتھ آئی لینڈ میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو اپنا شکار بنا لیا۔

بڑھتے ہوئے کیسوں کے بعد یورپ کے بیشتر ممالک، افریقا، اسرائیل ، عرب ممالک اور پاکستان نے
بھی کم از کم اگلے دس روز تک برطانیہ کے لیے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
خیال رہے کورونا وائرس سب سے پہلے چین کے شہر ووہان میں دسمبر کے مہینے میں سامنے آیا تھا۔

فروری 2020 کے بعد اس نے دنیا ہی بدل کر رکھ دی تھی اب برطانیہ میں اپنی شکل بدلنے والے وائرس
نے ایک بار پھر سے ہلچل مچا دی ہے۔
دنیا کے تقریبا تمام ہی ممالک اس نئے وائرس سے خوف زدہ ہو کر برطانیہ سے زمینی اور فضائی
رابطہ منقطع کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے شہریوں پر پابندی لگا دی

کہتے ہیں کورونا وائرس کووڈ 19 کی نئی قسم پرانے وائرس سے 70 گنا تیزی سے انسان میں داخل
ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئے وائرس کی دریافت کے بعد یہی لگتا ہے کہ 2020 کی طرح 2021 بھی انسانوں اور معیشت
کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔


شیئر کریں: