ایک تھا ضلع کا “لاٹ صاحب”

شیئر کریں:

لیل و نہار/ عامر حسینی

lailonihar@gmail.com

ہماری نوکر شاہی میں گنے چنے دماغ ایسے ہوں گے جو طاقت و اختیار کے نشے میں چور ہونے سے بچ
پائے ہوں اور ان کی ذہنیت سفید فام آ‍قاؤں والی نہ ہوگئی ہو۔
یہ صحافیوں اور کالم نگاروں سے بس یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کی لائن کو فالو کریں وگرنہ ان کے عتاب
کا نشانہ بنتے رہیں۔

مجھے اپنی صحافتی زندگی کے کم و بیش انتہائی سرگرم بیس سالوں میں بار بار “سفید فام ذہنیت، دیسی جلد”
کے سرکاری بابوؤں سے بار بار واسطہ پڑا اور ان کی اس سفید فام ذہنیت سے اٹھتے ہوئے تعفن سے اپنا دماغ
بار بار پھٹنے کے قریب محسوس ہوا۔
میں جس ضلع میں رہتا ہوں اس ضلع میں ایک لاٹ صاحب تعینات ہوئے تو ان کے بارے میں مجھے یہ
اطلاعات موصول ہونا شروع ہوئیں کہ وہ اپنی کارکردگی بارے سوالوں کو پریس میں اٹھائے جانے کے
بارے میں انتہائی حساس ہیں اور وہ معروضیت اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرنے والے کسی بھی مقامی
صحافی کو نکیل ڈالنے کا ایک زبردست میکنزم رکھتے ہیں۔

یہ میکنزم کیا تھا؟

میں نے اپنے آبائی ضلع کے کئی ایک صحافیوں سے اس بارے میں پوچھ تاچھ شروع کی تو بہت ہی
دلچسپ انکشافات سامنے آنے لگے۔
ان انکشافات میں مشترکہ انکشاف یہ تھا کہ جس صحافی نے بھی “لاٹ صاحب” کے بارے میں معروضی
رپورٹنگ کی جس سے لاٹ صاحب کی کارکردگی پر سوال اٹھتا تھا، اسے اس کے اخبار یا ٹی وی چینل
سے ایسے ذمہ دار کا فون آیا جس کے ہاتھ میں ان مقامی صحافیوں کے اخبار/ ٹی وی چینل میں رکھے
جانے کا ریمورٹ کنٹرول ہوتا ہے۔

شہری درمیانے طبقہ کے دانشور عوام سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟

اور یہ فون تنبیہی تھا اور بتانے کے لیے ہوتا تھا کہ “لاٹ” صاحب کے سفارشی فلاں سیٹھ یا فلاں صعنتی
گروپ کا مالک ہے جس کا اتنا بزنس اخبار/چینل کو ملتا ہے۔
اگر “لاٹ صاحب” کے خلاف جانے والی رپورٹ یا ڈائری چھپنے کا سلسلہ نہیں رکا تو اخبار/ ٹی وی چینل
کو ملنے والا بزنس روک دیا جائے گا۔

بعض مقامی صحافیوں کو باقاعدہ شوکاز نوٹس بھی جاری ہوئے میں نے سنسرشپ کی ایسی پالیسی عام
طور پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کی طرف سے میڈیا کو لگانے پر مجبور ہوتے تو کئی بار دیکھا تھا لیکن کسی
ضلع کے لاٹ صاحب بہادر کی منفی کارکردگی کے بارے میں رپورٹنگ پر سنسر لگتے پہلی بار دیکھا۔
ایک نوجوان صحافی مجھے ملا تو اس نے بتایا کہ اس نے فلاں اخبار کو چھوڑ کر فلان اخبار جوائن کرلیا ہے۔
وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ اس نے ضلع لاٹ صاحب کے بارے میں اپنے دفتر سے بنا بتائے موقعہ بہ موقعہ غائب رہنے سے سائلین کی مشکلات میں اضافے کی خبر شایع کی تو اسے اخبار کے ایڈیٹر نے “شٹ اپ” کال دی اور کہا کہ “لاٹ صاحب” ان کے دوست ہیں۔
ایسی خبریں ناقابل برداشت ہیں اور تو اور اس نے مجھے اپنا وٹس ایپ چیک کرایا تو میں نے دیکھا کہ لاٹ صاحب! نے انھیں سرکاری موبائل وٹس ایپ نمبر سے ایف آئی اے کے زریعے فکس اپ کرنے کی دھمکی دی ہوئی تھی۔

ایک اور مقامی صحافی جو میرے آبائی ضلع کی ایک انتہائی دور افتادہ بستی کا رہائشی تھا نے بتایا کہ
اس پر اچانک سے دو مقدمات درج کرائے گئے اور جب ایک وفاقی وزیر نے مداخلت کی تو پتا چلا کہ یہ
مقدمات اسی “ضلع لاٹ” صاحب کی سفارش پر درج کروائے گئے تھے۔

ان مقدمات سے جان چھوٹنے کی شرط “ضلع لاٹ صاحب” کی “کارکردگی” بارے آنکھیں بند کرنا تھی۔
ایک صحافی کا دوست “لاٹ صاحب” کا ماتحت تھا اور لاٹ صاحب کو شک گزرا کہ انتہائی خفیہ طریفے
سے تکنیکی بنیادوں پر چھپ چھپا کر کرپشن کی خبریں اس ماتحت کے توسط سے اخباری نمائندوں تک
پہنچتی ہیں تو ایک گھوسٹ انکوائری میں اسے معطل کردیا گیا۔

انہی دنوں میں ہماری صوبائی حکومت کے ایک شعبے کے سیکریٹری سے میری اتفاق سے ایک ہوٹل
میں ملاقات ہوگئی “ضلع لاٹ صاحب” ایک زمانے میں بطور اے ڈی سی ان کے ماتحت رہ چکے تھے۔

میں نے اس صوبائی سیکریٹری سے پوچھا کہ سرکٹ ہاؤس میں کیونکر نہ ٹہرے تو کہنے لگے جب شریف
میراث “چھچھورے” کے ہاتھ لگ جائے اس کے بعد شرافت کا چلن معدوم ہوجاتا ہے اور ایک رپورٹر کہنے
لگا کہ ایک روز “لاٹ صاحب” نے پریس کانفرنس بلائی اور دوران پریس کانفرنس کہا کہ ان کا ضلع
مستحقین کی سب سے بڑی تعداد کو احساس کفالت پروگرام میں داخل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور یہ
کریڈٹ “لاٹ صاحب” کو جاتا ہے۔ رپورٹر اس موقع پہ یہ سوال کر بیٹھا کہ “احساس کفالت پروگرام” میں
کسی بھی فرد کو داخل کرنے کا زریعہ نادرا کی احساس کفالت پروگرام کے ہیڈ آفس میں بھیجے جانے سے
والی لسٹ سے ممکن ہوتا ہے تو ایک وفاقی ادارہ دوسرے وفاقی پروگرام کو فیڈ بیک دیتا ہے اس میں
مقامی ایڈمنسٹریشن کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟
ساتھ ہی اس رپورٹر نے ضلع میں احساس کفالت پروگرام کے تحت رقوم کی وصولی کے لیے بنائے گئے مراکز میں کورونا ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی کرنے والے کچھ فوٹیج دکھائے تو “لاٹ صاحب” کا موڈ خراب ہوا اور اس نے کہا میں نے شاید غلطی کی ہے کہ جو ایسے لوگوں کو منہ لگایا جو منہ لگانے کے لائق نہیں ہوتے۔ گویا “لاٹ صاحب” پریس کانفرنس کے دعوت نامے مقامی صحافیوں کو ارسال کرنا بھی کسی قسم کی عنایت خیال کرتے تھے۔
لاٹ صاحب لوگل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت خوش قسمتی یا بدقسمتی سے ضلع کی بلدیاتی ایڈمنسٹریشن کے سربراہ مقرر ہوگئے ان کے پاس عوام اپنی گلی، محلے کی رکی سیوریج جیسے مسائل بھی ان کے دفتر لیجانے لگے تو پھر یہ کہتے پائے جانے لگے کہ اب گلی اور محلے کی بند نالیاں کھلوانے کی ذمہ داری بھی انھیں نبھانا ہوں گی؟
ایک موقع پر وہاں موجود ایک صحافی نے یہ کہہ ڈالا کہ جب وہ صوبائی حکومت کے مونسپل سروسز پروگرام اور ورلڈ بینک سے بلدیاتی سروسز کو بہتربنانے کے لیے مختص گرانٹ سے سرانجام پانے والے منصوبوں کا کریڈٹ لیتے ہیں تو سیوریج کی بند لائنوں کا ڈس کریڈٹ بھی انھی کو جائے گا۔ لاٹ صاحب کے دماغ میں مقامی صحافیوں میں “شرارتی ذہنیت” کے مالکان کو سبق سکھانے کا سودا سمایا تو پریس کلب اور صحافتی تنظیموں کے درمیان پائے جانے والے پیٹی جھگڑوں میں ٹانگ اڑانے لگے۔ کئی ايک مقامی صحافیوں نے مجھے بتایا کہ اس کا سبب لاٹ صاحب کے زیر استعمال بیک وقت چار گاڑیوں، خاکروبوں، بیلداروں، بلدیہ الیکٹریشن عملے کی بڑی تعداد کو اپنی کوٹھی کے لیے مختص کرلینے والی رپورٹوں کا افشا ہونا تھا۔
میں نے ان کے ایک ماتحت افسر سے پوچھا کہ آج کل کیسے دن گزرتے ہیں تو کہنے لگا کہ “لاٹ صاحب” کو اچھی نسل کی بکریوں، پیاز و مرچوں کے کن و بیج کی فراہمی کے لیے دور دراز علاقوں کے فارم کا دورہ کرنا۔ میں نے پوچھا اور “آپ کے اپنے فرائض منصبی؟”
تو کہنے لگا ان کے لیے وقت کہاں بچتا ہے۔ دفتر میں ان کے اس وقت تین ہزار سے زیادہ درخواستیں شہریوں کی زیر التوا تھیں۔ تو ایک “سفید فام ذہنیت” کا دیسی لاٹ صاحب کیسے عوام دشمن کارکردگی کے باوجود عوام کی گردنوں پر مسلط رہ جاتا ہے۔
اس مختصر سی روداد سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں۔ نجانے وہ صبح کب آئے گی جب ہمیں اس طرح کے لاٹ صاحبان سے نجات مل پائے گی۔


شیئر کریں: