خیبر پختونخواہ کے شہید ڈاکٹرز، طبی عملہ شہدا پیکیج اور رسک الاؤنس سے محروم

شیئر کریں:

خیبر پختنخواہ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد 1160 تک پہنچ گئی ہے۔
پروونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق جب سے کورونا پاکستان میں آیا ہے بڑی تعداد میں
طبی عملہ اس کا شکار ہو چکا ہے۔
خیبر پختنخواہ میں اب تک 410 نرسیں بھی کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر اپنے فرائض انجام دیتے
ہوئے اس کا شکار ہو چکی ہیں۔

خیبرٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن سپلائی کا معاہدہ نہ ہونے کا انکشاف، 7 افراد معطل

اسی طرح خیبرپختنخواہ میں اب تک پیرامیڈیکس اور کلاس فور سمیت دیگر متاثرہ ہیلتھ ملازمین کی
تعداد 1150 سے بھی بڑھ گئی ہے۔
پورے خیبر پختنخواہ میں کورونا سے 46 ہیلتھ ملازمین شہید ہو چکے ہیں۔
صوبہ خیبر پختنخواہ میں 27 ڈاکٹرز اور چار نرسیں بھی لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔
شعبہ طب سے وابستہ دیگر عملے کی طرف نظر ڈالیں تو پھر 8 پیرامیڈیکس، کلرک، اسسٹنٹ اور کلاس
فور سمیت دیگر ہیلتھ ورکرز کے 7 ملازمین شہید ہوچکے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے انتہائی افسوس سے کہا ہے کہ کورونا سے شہید ہونے والے ڈاکٹرز اور ہیلتھ ملازمین
کوتاحال شہدا پکیج نہیں دیا گیا۔
خیبر پختنخواہ کے ڈاکٹرز اور ہیلتھ ملازمین کورونا رسک الاونس سے بھی محروم ہیں۔
اس کے برخلاف دیگر صوبوں اور وفاق میں شعبہ طب کے ملازمین کو کورونا رسک الاونس دیا جا رہا ہے۔
ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اگلی صف میں کورونا کے خلاف
جہاد کرنے والوں کے واجبات کلیئر کرے۔


شیئر کریں: