31 دسمبر کی ڈیڈ لائن ، اسکرپٹ رائٹر کیا چاہتے ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر نوید احمد

پی ڈی ایم کے جلسے سے حکومت کی پریشانیاں اب واضح ہونا شروع ہو گئی ہیں وزیراعظم
عمران خان جو کل تک کسی بھی موقع پر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں تھے انہیں بھی
اب پارلیمنٹ کی یاد آگئی ہے۔

حکومتی وزرا بھی اپوزیشن سے رابطے کررہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں آئیں اور مذاکرات کریں پیپلزپارٹی
کے بارے میں جو افواہیں گردش کررہی تھیں کہ پیپلز پارٹی استعفوں کے معاملے پر راضی نہیں ہورہی
وہ بھی اب دم توڑ گئی ہیں۔

پیپلز پارٹی بھی استعفوں پر رضامند ہو گئی

پیپلزپارٹی نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو 14 دسمبر تک پارٹی قیادت کے پاس اپنے استعفے جمع کرانے کی
ہدایت کردی ہے اور پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے استعفے دینے شروع کردیئے ہیں۔

مسلم لیگ نکے اراکین تو پہلے ہی استعفے مسلسل دے رہے ہیں پی ڈی ایم کی جانب سے تمام استعفوں
کی فائنل تاریخ 31 دسمبر مقرر کی گئی ہے یہ استعفے 31 دسمبر تک مولانا فضل الرحمان کے حوالے کئے جائیں گے۔
اس کے بعد پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی کہ یہ استعفے کب اسپیکر کے حوالے کرنے ہیں۔

استعفوں کے لیے 31 دسمبر کی ڈیڈ لائن پی ڈی ایم نے کیوں رکھی؟

آخر 31 دسمبر ہی کیوں یہ کام اس سے پہلے بھی ہوسکتا تھا پی ڈی ایم اپنے 13 دسمبر کو ہونے والے لاہور
جلسے میں بھی تمام استعفے شو کراسکتی تھی۔

اس سے جلسے کی اہمیت اور زیادہ بڑھ سکتی تھی یا پھر پیپلزپارٹی کے لاڑکانہ میں ہونے والے 27 دسمبر کے
جلسے میں بھی یہ استعفے سامنے لائے جاسکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا یہ 31 دسمبر کی تاریخ ایک معمہ
ہے ہم آج اسی معمہ کی جانب نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔

فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز گرینڈ الائنس کی جانب سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ لئے وزارت خزانہ اور
پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرے کئے گئے۔
06 دسمبر کو ہونے والے مظاہرے میں سرکاری ملازمین کے اس احتجاج میں ریڈیو پاکستان پی ٹی وی
کے ملازمین بھی شریک ہوئے۔
اس مظاہرے میں بھی رہنمائوں نے 31 دسمبر تک کی ڈیڈ لائن حکومت کو دی ہے کہ اگر تنخواہوں میں
اضافہ نہیں کیا گیا تو پھر دمادم مست قلندرہوگا پارلیمنٹ ہائوس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا یہاں
بھی ڈیڈ لائن 31 دسمبر ہی ہے۔

آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن(ایپکا) نے بھی اپنے مطالبات پورے کرنے کے لئے حکومت کو 31 دسمبر
تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اس کے بعد انہوں نے بھی پارلیمںٹ ہائوس اور وزیراعلیٰ ہائوس پنجاب کے
گھیرائو کا اعلان کیا ہے یہاں بھی تمام تر تیاریاں 31 دسمبر کے لئے کی جارہی ہیں۔

آخر 31 دسمبر کا اسکرپٹ رائٹر کون ہے جس نے سب کو ایک ہی ڈیڈ لائن کا کہا ہے اور حکومت
جو کل تک اپوزیشن کی تحریک کو کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہی تھی اس کی پریشانیوں میں
اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے آخر 31 دسمبر کے بعد کیا ہوگا۔
کیا اسکرپٹ رائٹر نے اپنے کردار تبدیل کرنا شروع کردیئے ہیں 2021 میں کسی نئے اسکرپٹ کے تحت
اداکار اپنے کام کو آگے بڑھائیں گے یا یہ سب اتفاقیہ ہے لیکن اتنےزیادہ اتفاقات ایک ساتھ ہو نہیں سکتے۔

بہرحال 31 دسمبر زیادہ دور نہیں اس سے پہلے اپوزیشن کے دو شو ہوں گے ایک 13 دسمبر کو لاہور اور
دوسرا 27 دسمبر کو لاڑکانہ میں اس دوران حکومت کی کیا حکمت عملی ہے وہ بھی سامنے آجائے گی
حکومت نے اپنے کچھ کھلاڑیوں کی پوزیشن تبدیل کردی ہے۔

منجھے ہوئے سیاستدان شیخ رشید احمد کو داخلہ کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے اپوزیشن کی احتجاجی
تحریک سے نمٹنے کے لئے عمران خان نے شیخ رشید کا انتخاب کیا ہے۔
شیخ رشید کا شمار ایسے سیاستدانوں میں ہوتا ہے جن کا راولپنڈی کے گیٹ نمبر 4 سے آنا جانا لگا
رہتا ہے اور اس تبدیلی کو بھی اسی اسکرپٹ کا حصہ قرار دیا جارہا ہے جو 31 دسمبر کےلئے لکھا گیا ہے۔


شیئر کریں: