کیا مودی کا ہندوستان فاشٹ ملک بن رہا ہے؟

شیئر کریں:

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بین الاقوامی ورچوئل سیمینارکا اہتمام کیا۔جس کا مو ضوع تھا ”کیا ہندوستان فاشٹ مُلک بن رہا ہے؟
اس عالمی آن لائن گفتگو کا انعقاد بھارت بالخصوص کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی اور مودی حکومت کے آمرانہ رجحانات کے تناظر میں کیا گیا۔
اس گفتگو میں انسانی حقوق کے کارکنان اور سکالرز کے علاوہ خصوصی طور پر آسٹریلوی اور امریکی سیاسی شخصیات کے ساتھ ساتھ یورپی یونین پارلیمنٹ کے ممبران نے بھی شرکت کی۔
گفتگو کے شرکاء نے یہ سوال اُٹھایا کہ
کیا مودی حکومت ہندوستان میں فاشسٹ نظریہ کو فروغ دے رہی ہے؟
نیو ساوتھ ویل آسٹریلیا کے رُکنِ پارلیمنٹ ڈیوڈ شوبریج نے اس پروگرام کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پولیس اور عدلیہ حکومت کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اور اقلیتی گروہوں خصوصاََ مسلمانوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان سے دوستی کے پیش نظر آسٹریلیا اور آسٹریلوی سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ہندوستان میں بڑھتے ہوئے مظالم کو روکنے کیلئے آواز بُلند کریں اور بھارت کو حقیقی جمہوریت، آزادیِ رائے اور قانون کی بالادستی جیسی اقدار کا پابند بنانے کیلئے اقدامات کریں۔
دی گرین فارن افئیرز کی ترجمان اور آسٹریلوی وفاقی سینیٹرجینٹ رائس نے کہا کہ میری میز پر روزانہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے متعلق رپورٹس موجود ہوتی ہیں۔
بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کر سکتے۔
آر ایس ایس انسانی حقوق کی بہت ساری خلاف ورزیوں میں مصروف ہے مگر آر ایس ایس کو حکمران جماعت بی جے پی کی پُشت پناہی حاصل ہے۔
ہم خاص طور سیاسی اپوزیشن گروپوں، مذہبی اقلیتوں، صحافیوں اور دیگر کمزور طبقوں پر پڑنے والے منفی اثرات پر تشویش رکھتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی بگڑتی صورتحال کوترقی یافتہ ممالک کو تشویش سے دیکھنا چاہیے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں جمہوری اور سیکولراقدار میں خطرناک حد تک کمی آئی ہے اور اقلیتوں کا قتلِ عام کیا جا رہا ہے۔
کشمیر میں آرٹیکل370کو یکطرفہ منسوخ کرنے کے بعد سے کشمیریوں کو طویل مواصلاتی پابندیوں اور اظہارِ رائے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔ میڈیا پر پابندی، سیاسی رہنماؤں کی مسلسل نظر بندی اور کٹھ پتلی عدالتی نظام کے ذریعے ان مظالم کو بڑھاوا دیا جا رہاہے۔

عالمی برادری کو بھارتی حکومت کے بڑھتے ہوئے مظالم سے آگاہ کرنے کی اَشد ضرورت ہے۔
کشمیر ی نژاد برطانوی سیاستدان شفق محمد نے ماضی کی یورپی فاشزم کا موازنہ ہندوتوا کے نظریے سے کیا۔ ہندوتوا نظریے کے پیروکار بھارت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
امریکی رُکنِ کانگریس محترمہ میری نیو مین نے انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ہندوستانی حکومت کے احتساب کا مطالبہ کرنے والے تمام گروپوں کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ہندو فار ہومین رائٹس تنظیم کے بانی راجو راجہ گوپال نے غیر ملکی بھارتیوں سے اپیل کی کہ ظالمانہ ہندوتوا نظریے کے خلاف عالمی سطح پر لڑائی میں اپنی کوششوں کو مربوط کریں۔
مودی حکومت نے لارنس بریٹ کے14 Rules of Facisism کے تمام نکات پورے کر دیے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیاکی پروفیسر انجلی ارونڈیکر کے مطابق ہندوستان میں ذات پات پر مبنی سیاست کی وجہ سے مسلمان، دیگر اقلیتیں بشمولنچلی ذات کے ہندو امتیازی سلوک، ظلم اور پسماندگی کا شکار ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آپ کی ذات تمام قیمتی وسائل تک رسائی کو ممکن بناتی ہے اور خاندان /پہچان دراصل آج کے ہندوستان میں میری پہچان اورمنزل ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل آسٹریلیا میں انسانی حقوق کی مہم چلانے والے مسٹر جوئل میکے نے مودی کے اقتدار آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں کو بند کرنے اور ہندوستا ن میں اپنے عملے کی گرفتاریوں کا تذکرہ کیا۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کے بڑھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی اثر و رسوخ اور ان کے دورے اقتدا ر میں ہونے والے مظالم کی بنا ء پر اقوامِ عالم اب سنجیدگی سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ”کیا ہندوستان فاشزم کی طرف جا رہا ہے؟”


شیئر کریں: