متنازع لو جہاد قانون کے خلاف بھارت میں آوازیں اٹھنے لگی

شیئر کریں:

دنیا کا ہر مہذب ملک کسی بھی شخص کو اپنی مرضی سے مذہب اپنانے اور پسند کی شادی کرنے کا حق دیتا ہے۔
کوئی بھی شخص کس طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے یہ اس کا ذاتی عمل ہے۔
اترپردیش سمیت کئی اور بھارتی ریاستیں لوجہاد کے قانون کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کے لیے سوچ رہی ہیں۔
لوجہاد کا متنازع قانون شہریوں سے بنیادی انسانی حقوق چھینتا ہے۔
یہ قانون پولیس کا اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو لو جہاد کی قانون شکنی کے الزام جیل میں ڈال سکتا ہے۔
لوجہاد کے متنازع قانون میں ایک پولیس کانسٹیبل کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کوبھی گرفتار کرسکے۔

لوجہاد سے پہلے بھی زبردستی مذہب تبدیلی کے خلاف قوانین موجود ہیں

درحقیقت لوجہاد قانون بھارت کے سیکولرزم آئین کے خلاف عملی اقدام ہے۔
اس قانون نے اس بات کا خلاصہ کردیا ہے کہ بھارت اب ایک غیرمذہب ملک سے تبدیل ہوکر ایک ہندو ریاست بن چکی ہے۔
اس قانون سے قبل کئی بھارتی ریاستوں میں پہلے ہی ایسے قانون موجود تھے جو کسی بھی شخص کی زبردستی مذہب تبدیلی کو روکتے ہیں۔
اوڑیسہ، ارناچل پردیش، گجرات، ہماچل پردیش اور جھاڑکھنڈ میں پہلے ہی زبردستی مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے قانون موجود ہیں۔
ان قوانین کے ہوتے ہوئے لوجہاد جیسا متنازع قانون سمجھ سے بالاتر ہے۔

بھارت میں “لوجہاد” کے خلاف جاری انتہا پسندوں کی مہم پر عدالت کا بڑا فیصلہ

دوسرے مذہب میں شادی کروانا ہرشخص کا ذاتی اور بنیادی حق ہے جو دنیا کا ہرمذہب اور ملک اس کو دیتا ہے۔
بھارتی آئین کا آڑٹیکل 25 سے 28 تک شہریوں کو حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرسکیں۔
لو جہاد کا متنازع قانون اس مذہبی آزادی کے حق کے خلاف ہے۔
لوجہاد کے قانون کے تحت بھارتی ریاست نہ صرف شہریوں کی ذاتی زندگی میں دخل دیتی ہے
بلکہ ان کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی بھی کرتی ہے۔

بھارتی عدالتوں کے پسند کی شادیوں پر فیصلے

بھارتی سپریم کورٹ نے 2018 میں اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ
آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت شہریوں کو مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ ہندو یا مسلمان مذہب میں شادی کریں۔

بھارت میں ہندو لڑکی مسلمان لڑکے کی شادی پولیس اجازت کے بغیر نہیں ہو سکے گی

عدالت نے بین المذاہب شادی کیس میں ریمارکس دیے کہ کوئی بھی شخص اپنا لباس، کھانا، مذہب اور شادی اپنی مرضی سے کرتا ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ شادی کے معاملے میں ریاست ذاتی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرسکتی۔
ہر فرد واحد کا حق ہے اگر وہ دوسرے مذہب میں شادی کرکے اس مذہب کو اختیار کرنا چاہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 21 ریاست کو پابند بناتا ہے کہ وہ ہرشخص کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔

پسند کی شادی اور مذہب کا اختیار ذاتی فیصلہ ہے، ریاست دخل نہیں دے سکتی، سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ کے جج کے ایس پٹاسواوی نے 2017 میں ایک اہم فیصلہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ خاندانی زندگی اور اس کا انتخاب ہرشخص کا ذاتی اختیار ہے۔
ریاست کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وہ کسی شخص کی شادی کا فیصلہ کرے۔

بھارت میں “لوجہاد” کی صورت “اسلاموفوبیا” کی نئی لہر

الہ آباد ہائی کورٹ نے 11نومبر 2020 کو سلامت انصاری کیس میں ریمارکس دیے
کہ ہرشخص اپنی مرضی سے شادی کرسکتا ہے۔ شادی اور مذہب اختیار کرنا ہر کسی کا ذاتی فیصلہ ہے۔
اسی طرح درجنوں کیسز میں بھارتی عدالتوں نےو اضع کیا کی شہریوں کی ذاتی زندگی میں ریاست دخل اندازی نہیں کرسکتی۔

لوجہاد قانون کے بارے میں بھارت کا پڑھا لکھا طبقہ کیا کہتا ہے؟

لو جہاد کے متنازع قانون کے خلاف بھارت سے باہر تو آوازیں اٹھ ہی تھیں اب بھارت میں بھی آزاد خیال،ترقی پسند اور پڑھا لکھا طبقہ اس قانون کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت نے بھارت کا سیکولرزم کا تشخص تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس طرح کے ہندتوا نواز قوانین سے دنیا بھر میں بھارت کی عزت مجروع کی جارہی ہے اور دنیا کو بتایا جارہا ہے کہ بھارت میں اقلتیں غیر محفوظ ہیں۔


شیئر کریں: