بھارت میں اینٹی کنورژن لا کے نام پر مسلمانوں پر پسند کی شادی بھی حرام کردی گئی

شیئر کریں:

25اضلاع، 6 مقدمات اور 29 مسلمان گرفتار
جرم صرف ہندو لڑکیوں سے ان کی مرضی سے شادی
یہ ہے بھارت کا وہ بدنما چہرہ جو اس نے جمہوریت کے لبادے میں چھپا رکھا ہے۔
ہندتوا نظریے کے پیروکار نریندر مودی اور بی جے پی حکومت نے بھارتی مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی۔
بھارت نے مسلمان لڑکوں کو ہندو لڑکیوں سے پسند کی شادی کروانے کے خلاف بڑی کارروائیاں شروع کردی۔

نئے قانون کے تحت کہاں کہاں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا؟

بی جے پی حکومت کی طرف سے لائے گئے نئے منتازع قانون کے تحت رواں ہفتے 29 سے زائد مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ تمام گرفتاریاں بھارتی اضلاع ست پور اور باریلی میں کی گئی۔
بھارت کی قانون ساز اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ہی اینٹی کنورژن قانون پاس کیا ہے۔
قانون کے تحت جبری طور نہ تو کسی کا مذہب تبدیل کروایا جاسکتا ہے اور نہ دوسرے مذہب میں مرضی کے بغیر شادی کی جاسکتی ہے۔
اس قانون کا ہندونواز حکومت نے مسلمانوں کے خلاف استعمال شروع کردیا ہے۔
بھارتی ریاستی اترپردیش کے پانچ اضلاع میں چھ مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔
مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نئے قانون کے تحت اب تک 29 لوگ گرفتار کیے جاچکے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ست پور ضلع میں سات افراد کو گرفتار کرکے مقدمات درج کیے گئے۔ ایک شخص کو بریلی میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بھارت میں ہندو لڑکی مسلمان لڑکے کی شادی پولیس اجازت کے بغیر نہیں ہو سکے گی

ادھر مراد آباد میں بھی نئے قانون کے تحت دو مسلمانوں بھائیوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص نے ہندو لڑکی سے پسند کی شادی ہے۔
لڑکی کے گھر والوں کی درخواست پر اس کے مسلمان شوہر کو گرفتار کیا گیا ہے۔
دوسری طرف لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 22 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے پانچ ماہ قبل مسلمان لڑکے سے شادی کی تھی۔
ست پور میں درج کیے گئے مقدمے میں ایک اور مسلمان پر لڑکی کے والد کی طرف الزام عائد کیا گیا ہے
کہ اس کی 19 سالہ ہندو لڑکی کو اغوا کیا گیا اور بعد میں اس سے شادی کی گئی۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس بریلی زون اویناش چاندرہ نے تصدیق کی ہے
کہ نئے قانون کے تحت مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔

لو جہاد کیا ہے اور مسلمانوں پر الزام کیا ہے؟

مودی سرکار کے دور حکومت میں مسلمانوں کے خلاف ایک نئی اصطلاح کا استعمال شروع کردیا گیا ہے۔
بھارت میں تیزی سے مقبول ہوتے دین اسلام سے پریشان مودی سرکار اور
بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف نئے انداز میں کارروائیاں شروع کی ہیں۔
بی جے پی حکومت اور دیگر ہندو نواز جماعتوں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مسلمان
ایک ایجنڈے کے تحت ہندو لڑکیوں سے شادیاں کر رہے ہیں۔

بھارت میں “لوجہاد” کی صورت “اسلاموفوبیا” کی نئی لہر

بعد میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کر لیا جاتا ہے۔ اس طرح ہندو مذہب کو خطرہ ہے اور مسلمانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
بھارت میں مسلمانوں کے ہندووں سے شادی کرنے کو لوجہاد کا نام دیا گیا ہے۔
ہندووں کا کہنا ہے کہ مسلمان لڑکے ہندووں لڑکیوں کو پیار کے جال
میں پھنسا کر شادی کرتے ہیں جس کا مقصد صرف مذہب کی تبدیلی ہوتا ہے۔

لوجہاد پر ہندو مذہب سے مسلمان ہونے والی لڑکیوں کا موقف کیا ہے؟

بھارتی قانون صرف بالغ افراد کو ہی شادی کی اجازت دیتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے لایا گیا اینٹی کنورژن قانون متنازع ہے۔
بالغ افراد کو دنیا بھر میں قانون اپنی مرضی سے رہنے، شادی کرنے اور اپنی مرضی کا مذہب اپنانے کی اجازت دیتا ہے۔

بھارت میں “لوجہاد” کے خلاف جاری انتہا پسندوں کی مہم پر عدالت کا بڑا فیصلہ

ہندو لڑکیوں کا بھی کہنا ہے کہ وہ بالغ ہیں اور اپنی پسند اور مرضی سے مسلمان مردوں سے شادی کر رہی ہیں۔
بھارت ریاست اترپردیش میں انتہاپسند جماعت بجرنگ دل کی طرف درج کروائے مقدمے میں کہا گیا ہے
کہ مسلمان لڑکے نے زبردستی ہندو لڑکی سے شادی کی اور اسے مسلمان کیا۔
دوسری طرف ہندو لڑکی نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی عمر 22 سال ہے
اور اس نے اپنی مرضی سے مسلمان سے شادی کی۔ لڑکی کے بیان کے باوجود پولیس
نے مسلمان لڑکے اور اس کے بھائی کو نئے قانون کے تحت گرفتار کر رکھا ہے۔

اینٹی کنورژن لا ہے کیا؟

مودی سرکار نے حال ہی میں ایک نیا متنازع آرڈیننس پاس کیا ہے۔
اس نئے قانون کو اینٹی کنورژن لا کا نام دیا گیا ہے۔
قانون میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں زبردستی، دھوکے سے اور شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کروانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت دونوں قسم کے مقدمات درج ہوں گے۔

ہندو لڑکیوں میں مسلمانوں سے شادی کا رجحان کیوں بڑ رہا ہے؟

یہ ایک فطری عمل ہے کہ جب دو تہذہبوں کے لوگ آپس میں رہتے ہیں تو ان کا آپسی میل ملاپ اور رشتہ داریاں بڑھتی ہیں۔
تاریخی اعتبار سے مسلمان اور ہندو آپس میں شادیاں کرتے رہیں۔
برصغیر میں دو مختلف مذاہب کے لوگ آُپس میں رہتے ہیں اور ان کے آپس میں معاشرتی تعلقات قائم ہیں۔
حالیہ وقت میں ہندو لڑکیاں تیزی سے دین اسلام کی طرف راغب ہو رہی ہیں۔
جس کی بنیادی وجہ اسلام میں ان کو ملنے والی حقوق اور برابری ہے۔
ہندو مذہب میں نچلی ذات کے لوگوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔
انہیں بنیادی حقوق تک نہیں دیے جاتے۔ یہی وجہ سے کہ دین اسلام اپنی برابری اور
عدل کی وجہ سے ہندووں میں مقبول ہوتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہندو نواز جماعتیں پریشانی کا شکار ہیں۔

نئے قانون پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا ردعمل

مسلمانوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اس منتازع قانون کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔
انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔
مرضی سے شادی کرنا اور مرضی سے اپنے مذہب کا انتخاب انسان کا بنیادی حق ہے۔
نئے متنازع قانون سے بھارتی ہندو نواز حکومت مسلمانون سمیت دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
جہاں ایک طرف مسلمانوں کے ہندو لڑکیوں کے ساتھ شادیوں پر پابندی عائد کرکے ان کے
بنیادی حقوق کو سلب کیا جارہا ہے وہیں کورونا کی بری ترین صورت حال میں ہندووں
کو آزادی سے شادی کے بڑے بڑے اجمتماع کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔

کورونا پازیٹو ٹیسٹ بھی شادی نہ روک سکا کووڈ 19 سے بچاؤ کی کٹس پہن کردلہا دلہن نے پہرے لیے

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کورونا کی عالمی وبا کی آڑھ میں بھارت
میں مقیم مسلمانوں اور دیگر اقلتیوں کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔
اس ساری صورت پر اقوام متحدہ سیمت دیگر عالمی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: