کورونا پازیٹو ٹیسٹ بھی شادی نہ روک سکا کووڈ 19 سے بچاؤ کی کٹس پہن کردلہا دلہن نے پہرے لیے

شیئر کریں:

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں شادیوں کی تاریخیں آگے بڑھائی جارہی ہیں لیکن وہیں کووڈ ٹیسٹ
مثبت آنے پر بھی شادی کی جارہی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ بھارت کی ریاست راجھستان میں پیش آیا جہاں شاہ باد کے کلورا کووڈ سینٹر میں
دلہا اور دلہن نے پرسنل پروٹیکشن ایکوٹمنٹ زیب تن کر کے شادی کی رسومات ادا کی گئیں۔

حد یہ ہے کہ پنڈت نے بھی کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پی پی ای پہن کر دلہا اور دلہن سے پھیرے لگوائے۔
شادی کے روز دلہن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر حفاظتی انتطامات اختیار کر کے شادی کا فریضہ انجام دیا گیا۔

دلہا نے پی پی ای کے اوپر ہی روائتی کولہا سر پر سجایا ہوا تھااس کے ساتھ ہی گلوز اور چہرے پر بھی
شیلڈ لگا رکھی تھی۔

کورونا سے بھارت میں‌ تباہی

خیال رہے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں بھارت کا امریکا کے بعد دوسرا نمبر ہے جہاں
اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار 590 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی طرح کورونا وائرس سے 96 لاکھ 77 ہزار 203 افراد متاثر ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ
سے معیشت بھی بیٹھ چکی ہے۔
ایسی صورت حال میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے جس میں لاکھوں افراد شریک ہیں احتجاج سے بھی
کورونا وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے۔

مسلمانوں پر عام حالات میں‌ بھی شادی پر پابندی

بھارتی حکومت کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر بھی شادی کی تقریب نہیں روک پا رہی ہے اور سرکاری
سرپرستی میں شادی کرا رہی ہے۔

دوسری جانب مسلمانوں پر عام حالات میں بھی شادی کا فریضہ انجام دینے پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں۔
گزشتہ روز بھی ریاست اترپردیش میں مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کے شادی کرنے پر کئی نوجوانوں کو
گرفتار کر لیا گیا۔

بھارت میں ہندو لڑکی مسلمان لڑکے کی شادی پولیس اجازت کے بغیر نہیں ہو سکے گی

اترپردیش کی ریاست نے مسلمان لڑکے اور ہنو لڑکی کی شادی کو لو جہاد کا نام دے کر معاشرے کو
تقسیم کرنے کی ایک اور سازش کی ہے۔

مسلمانوں پر الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ شادیاں کر کے ہندو لڑکیوں کا مزہب تبدیل کرا رہے ہیں حالانکہ
عدالت کا فیصلہ موجود ہے کہ بالغ لڑکا لڑکی اپنی مرضی سے شادی کر سکتے ہیں۔

لیکن نیا آرڈیننس نافذ کر کے مسلمانوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ شادی سے پہلے متعلقہ ڈسٹرکٹ
مجسٹریٹ کو درخواست دیں گے کئی ہفتوں کی انکوائری کے بعد پھر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
درخواست ینے کے باوجود شادیوں کے وقت مسلمان لڑکے اور گھر والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔


شیئر کریں: