چین نے بھارتی علاقے میں مزید 3 گاوں بسا لیے

شیئر کریں:

چین کی بھارت کے ساتھ متنازع علاقے میں پیش قدمی جاری ہے۔
چین نے بھارتی ریاست ارناچل پردیش میں مزید تین گاوں آباد کر لیے لیکن بھارت کو خبر تک نہ ہوئی۔
موصول ہونے والی نئی سیٹلائٹ تصویروں نے بھارت کے ہوش اڑا کر دکھ دیے۔
نئی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چین نے بھارت اور بھوٹان کے ساتھ متنازع علاقے میں مزید تین گاوں بسا لیے ہیں۔

بھارت کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ چین نے ارناچل پردیش
کے مغرب میں ایک بڑے حصے پر تعمیرات کر کے شہریوں کو بٹھا دیا ہے۔
بھارت کا کہنا ہے کہ چین سوچے سمجھے منصوبے کے تحت متنازع علاقے میں ہان اور تبت کے باشندوں کو آباد کر رہا ہے۔
چین کے اس قدم کا مقصد بھارتی سسٹر اسٹیٹس کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔
بھارت نے تسلیم کیا ہے کہ چین نے ڈوکلام سے صرف سات کلومیٹر دور مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

بھارت کو نئی سیٹلائٹ تصاویر 28 نومبر کو موصول ہوئی ہیں۔
ان تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چین نے متنازع علاقہ میں بچاس سے زائد تعمیرات مکمل کرلی ہیں۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے تعمیر کردہ نئی عمارتیں ایک دوسرے سے ایک کلومیٹر کی دوری پر ہیں
لیکن چین نے ان تمام تعمیرات کو سٹرک کے ذریعے آپس میں ملادیا ہے اور یہ سٹرک سارا سال ٹریفک کے لیے کھلی رہے گی۔

بھارت کی 7 ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ گئیں فوجی قافلے پر حملہ

 

چین کی طرف جاری نقشے میں بھارت کے زیر تسلط 65 ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے کو چین کا حصہ دیکھایا گیا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ چین سے ہی تعلق رکھتا ہے اور تاریخی طور پر جنوبی تبت کا حصہ ہے۔
دوسری طرف بھارت کے لیے چین کا یہ قدم کسی صدمے سے کم نہیں۔
بھارت نے نہ صرف چین کے اس اقدام پر احتجاج کیا ہے بلکہ چین سے درخواست کی ہے
کہ وہ برطانوی حکومت کی طرف سے دونوں ممالک کے درمیان کھینچی گئی میک موہن لائن کا احترام کرے۔


شیئر کریں: