13 دسمبر کے امکانی دھماکے سے پہلے کس دھماکے کا خطرہ ھے؟

شیئر کریں:

رپورٹ : علیم عثمان

لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف اور وہیں سکونت پذیر پاکستانی نژاد مسلم لیگی کارکن ناصر بٹ کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ھے . لندن کے مسلم لیگی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کی ایک احتساب عدالت کے سابق  جج ارشد ملک کی ایک روز قبل پراسرار حالات میں موت کے بعد نواز شریف اور ناصر بٹ کی زندگی بھی خطرے میں بتائی جارہی ھے اور لندن کی میٹرپولیٹن پولیس نے بھی مذکورہ دونوں شخصیات کو خبردار کردیا ھے جس پر ان کی سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے . .

ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ھے کہ جوں جوں 13 دسمبر کا “جلسہ لاہور” قریب آرہا ھے ، مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان سے اھم و قریبی تعلق رکھنے والے لیگی کارکن ناصر بٹ کی جان کے لئے خطرہ بڑھتے جانے کا امکان ھے کیونکہ نوازشریف 13 دسمبر کے لاہور جلسہ کے عوامی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بڑا سیاسی دھماکہ کرنے والے ہیں جس سے ملک کے موجودہ پارلیمانی جمہوری بند و بست کو خطرہ لاحق ہوسکتا ھے . دوسرے لفظوں میں ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت اور موجودہ دور حکومت میں سب سے زیادہ زیر عتاب رہنے والی سیاسی قوت کے قائد کی طرف سے 13 دسمبر کے جلسہ میں کیا جانے والا امکانی دھماکہ موجودہ پُورے سیٹ اپ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ھے .

خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ھے کہ “نون لیگ” کی اعلیٰ قیادت بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ  معاملات طے کرنے میں مصروف ہے اور نواز شریف پی  ڈی ایم لاہور کے جلسے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی تیز کرنے کیلئے جارحانہ تقریر کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں ، اپوزیشن الائنس “پی ڈی ایم” کی بعض اھم شخصیات نے اگرچہ نواز شریف کو اپنا فوج مخالف بیانیہ تبدیل کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے لیکن  نواز شریف اپنے بیانیہ سے پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ہیں . انٹیلیجنس رپورٹ میں بتایا گیا ھے کہ شام ڈھلنے کے بعد لندن سے چند کلو میٹر دور لندن کے مضافاتی علاقے میں واقع ناصر بٹ کے “ڈیرے” پر اھم محفلیں جمتی ہیں جن میں لندن میں متعین مختلف ممالک کے سفارت کار بھی شریک ہوتے ہیں اور لندن میں خُود ساخت جلا وطنی کاٹ رہے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اھم غیر ملکی شخصیات و سفارت کاروں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی اسی جگہ کروائی جاتی ہیں .

واضح رہے کہ 2016 میں ، سابق وزیراعظم نوازشریف کے گزشتہ دور حکومت میں “پانامہ لیکس” سامنے آنے ، بالخصوص سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی کے ریٹائر ہوجانے کے بعد سے ایک منتخب وزیراعظم کی اقتدار سے بے دخلی اور ملک میں سیاسی تبدیلی کا جو کھیل شروع کیا گیا تھا ، اس سے جڑے کرداروں “جج ارشد ملک” سے بھی زیادہ اھم شخصیت ناصر بٹ ہیں جن کی تحویل میں بعض انتہائی اھم اور “دھماکہ خیز” خفیہ وڈیو ٹیپس موجود بتائی جاتی ہیں . اس “کھیل” کے ایک اھم کردار کی پراسرار حالات میں ہونے والی موت سے قبل ریاست پاکستان ناصر بٹ کو پاکستان واپس لا کر اسی طرح اھم حکام کی “تحویل” میں رکھنے کی کوشش کر چکی ھے جس طرح عہدے سے برطرفی کے باوجود “جج” ارشد ملک حکام کی سخت خفیہ نگرانی میں اپنے گھر میں غیر علانیہ نظر بندی کاٹ رہے تھے . اس مقصد کے تحت ناصر بٹ کے ریڈ وارنٹ بھی جاری کروائے گئے تھے .

باور کیا جاتا ھے کہ جج ارشد ملک کو “کرونا گردی” کا شکار کرکے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دینے کی غرض سے منظر سے مستقل طور پر غائب کر دیا گیا ھے . طاقت کے مخصوص مراکز کے نزدیک مبینہ طور پر risk سمجھی جانے والی دو unwanted یعنی انتہائی ناپسندیدہ شخصیات کی حالیہ دنوں میں مبینہ “کرونا گردی” سے موت سے سیاسی و سیکورٹی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ھے .


شیئر کریں: