امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں 1کھرب 75ارب ڈالر کا اضافہ

شیئر کریں:

دنیا میں امن خراب صورت حال کا امریکا کو بھرپور فائدہ ہونے لگا۔
امریکی ہتھیاروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔
رواں سال امریکی ہتھیاروں کی سیل میں 2.8%اضافہ ہوا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیز کی وجہ سے
ایک سال میں امریکی جنگی مصنوعات کی فروخت میں 2کھرب ڈالر کے قریب اضافہ ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے جدید جنگی طیارے، گائیڈڈ میزائل اور
دیگر جنگی ہتھیار دیگر ممالک کو فروخت کے کثیر زرمبادلہ کمایا ہے۔

امریکا کی جاپان کے ساتھ بڑی ڈیل

رواں سال امریکا نے سب سے بڑی ڈیل جاپان سے کی۔
جاپان نے امریکا سے F-35 جنگی طیارے خریدے۔
ان 63 جنگی طیاروں کی قیمت 23 ارب ڈالر ہے۔
امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے ہتھیار ساز کمپنیوں کو
دیگر ممالک کے ساتھ براہ راست ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت دی۔
ان براہ راست معاہدوں کے بعد امریکی جنگی ہتھیاروں کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی کمپنیوں کی براہ راست ڈیلز کی وجہ سے ہتھیاروں کی فروخت میں 8فیصد تک اضافہ ہوا۔

صدر ٹرمپ کی ہتھیاروں کی فروخت پر نئی پالیسی

صدر ٹرمپ نے 2018 میں BUY AMERICAN کے نام سے نئی پالیسی مرتب کی تھی
جس کی وجہ سے کمپنیوں کو اجازت دی تھی کہ وہ بیرونی دنیا کو ہتھیار فروخت کرسکتی ہیں۔
دفاعی حلقوں کا کہنا ہے مشرق وسطی اور عرب ممالک میں جاری خانہ جنگی سے امریکا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔
امریکا عرب ممالک، جاپان اور بھارت سمیت دیگر ممالک کو اپنے ہتھیار فروخت کر کے معیشت کو مضبوط کر رہا ہے۔


شیئر کریں: