چین میں مسلمانوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیے جانے کا انکشاف

شیئر کریں:

تحریر: عمید اظہر

چین میں مقیم مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ گرا دیے گئے۔
عالمی میڈیا چینی حکومت کی طرف سے مسلمانوں پر غیر انسانی سلوک کے خلاف ایک بار پھر چیخ اٹھا۔
خبررساں ادارے الجزیرہ نے انکشاف کیا ہے کہ چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کو زبردستی خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
سنگیانگ کے شہر اویغور کے کیمپ سے آزاد ہونے والی خاتون سیراگل سعوتبے کا کہنا ہے کہ کیمپ میں قید مسلمانوں کو خنزیر کا گوشت کھانے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
خنزیر دین اسلام میں حرام ہے۔ لیکن اویغور کی کیمپس میں قید مسلمانوں کو جمعہ کے روز خنزیر کا گوشت زبردستی کھلایا جاتا ہے۔
وہ مسلمان جو گوشت کھانے سے منع کریں انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

چین میں مسلمانوں کو خنزیر کھلانے کے پیچھے کیا مقصد ہے؟

چین کی کیمونسٹ حکومت ملک میں مسلمانوں کو تسلیم نہیں کرتی اور ان کا وجود ختم کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے۔ مسلمانوں کو خنزیر کا گوشت زبردستی کھلانے کا مقصد ان کے مذہبی جذبات کو مجروع کرنا ہے۔ مسلمانوں کو حرام جانور کا گوشت ایک منصوبے کے تحت کھلایا جارہا ہے۔ حرام گوشت جمعہ کے دن کھلایا جاتا ہے۔ جمعہ مسلمان مذہب میں ایک پاک دن کی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کو خاص طور پر جمعہ کے دن گوشت کھلانے کا مقصد انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا ہے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر دوبارہ کیمونسٹ ہوجائیں۔

مسلمانوں کو چین میں کیوں قید کیا گیا ہے

چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر بین الاقوامی میں یہ کوئی پہلی بار آواز بلند نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی ایسی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو قید کر کے رکھا گیا ہے۔
چین ایک کیمونسٹ ملک ہے جو کسی دوسری مذہب کا ملک میں پھیلاو برداشت نہیں کرتا۔ چین کے صوبہ سنکیانگ میں شہریوں کی بڑی تعداد اسلام سے متاثر ہوکر مسلمان ہوچکی ہے۔ مسلمانوں کی بڑی آبادی کو دوبارہ کیمونسٹ کرنے کے لیے چین نے مسلمانوں کی بڑی آبادی کو کیمپس میں قید کردیا ہے۔

چین سے مسلمانوں کو ختم کرنے کا منصوبہ

چین کی طرف مسلمانوں کے خلاف جاری آپریشن کی خفیہ دستاویزات 2013 میں بین الاقوامی میڈیا کے ہاتھ لگیں۔ ان دستاویزات میں مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی خوف ناک منصوبہ بنایا گیا جس کی منظوری چینی صدر نے خود دی تھی۔ اس منصوبے کے مطابق مسلمان آبادی کو تین حصوں میں تقسیم کر کے ختم کیا جائے گا۔ ایک حصے کو قید کرکے شدید ازیتیں دی جائیں، ایک حصے کو قتل کردیا جائے گا اور تیسرے حصے کو کیمونسٹ کردیا جائے۔

اویغور کے کیمپس میں کتنے مسلمان قید ہیں اور ان کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟

چینی صوبہ سنکیانگ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق نوے ہزار کے قریب معصوم مسلمانوں کو قید کر کے رکھا گیا۔ ان میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ ان مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے کمروں میں قید کیا گیا ہے جہاں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ ان تنگ کمروں میں روشنی تک میسر نہیں جس کی وجہ قید میں موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد جلدی اور دیگر امراض میں مبتلا ہے۔
ان کیمپس میں قید مسلمانوں کو ذہنی اذیت دینے کے لیے ان کو حرام گوشت کھلایا جاتا ہے۔ ان کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سالوں قید میں رہنے والے مسلمانوں میں سے بیشتر افراد ذہنی امراض کا شکار ہوچکے ہیں اور اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔

 

مسلمانوں پر مظالم پر چینی میڈیا کیوں آواز بلند نہیں کرتا؟

چین میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر ملک اندر کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں۔ چین ایک کیمونسٹ ملک ہے جہاں آزادی رائے کا حق کسی شہری کو نہیں۔ چین میں میڈیا مکمل طور حکومت کے کنٹرول میں ہے اور سوشل میڈیا پر بھی پابندی ہے۔ کوئی بھی چینی شہری نہ تو اپنی مرضی سے اظہار رائے کرسکتا ہے اور نہ ہی چینی حکومت کے خلاف کوئی بات کرسکتا ہے

سنکیانگ کیمپس پر چین کا موقف کیا ہے اور بین الاقوامی میڈیا کو ان کیمپس تک رسائی کیوں نہیں دی جاری؟

چین کا کہنا ہے کہ سنکیانگ میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کی طرف سے بے بنیاد خبریں چلائی جارہی ہیں۔ چین نہ صرف ان کیمپس کی تردید کرتا ہے بلکہ اس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا ان خبروں کا مقصد چین کو بدنام کرنا ہے۔ اویغور میں قائم کیمپس پر چین کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحاتی مراکز ہیں جن کا مقصد شہریوں کی ذہنی اصلاح کرنا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی سے مسلمانوں پر جاری مظالم کی خبروں کے بعد بھی چین نے نہ تو کسی بین الاقوامی تنظیم اور نہ ہی میڈیا کو ان کیمپس کے دورے کی اجازت دی۔

 

اقوام متحدہ اور امریکا کا کیمپس پر ردعمل

امریکا اور اقوام متحدہ چین میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر آواز کئی بار بلند کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ چین سے کئی بار مطالبہ کر چکا ہے کہ عالمی اداروں کو ان کیمپس تک رسائی دی جائے تاکہ زمینی حقائق کا اندازہ ہوسکے۔
دوسری طرف امریکا نے مسلمانوں کے حق میں شدید ردعمل دیا ہے۔ امریکا نہ صرف چینی کیمپس اور مسلمانوں پر جاری مظالم پر آواز بلند کر رہا ہے بلکہ امریکا نے چین پر سفری اور تجارتی پابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ آزادی مذہب ہر شخص کا بنیادی حق اور چین مسلمانوں پر مظالم کر کے یہ حق سلب کر رہا ہے۔ سنکیانگ کے مسلمانوں کے حق میں سابق صدر باراک اوباما اور موجودہ صدر ڈونلڈٹرمپ نہ صرف آواز بلند کر چکے ہیں بلکہ دونوں ادوار میں چین پر پابندیاں عائد کی گئی۔

چین میں مسلمانوں سے غیر انسانی سلوک پر پاکستان کا موقف

چین میں مسلمانوں پر جاری مظالم پر جہاں عالمی میڈیا چیخ رہا اور پوری دنیا سے آوازیں اٹھ رہی ہیں وہیں اس پر پاکستان کی طرف سے کوئی خاص توجہ نہیں دی جارہی۔ نہ تو پاکستان کے میڈیا میں چین میں مسلمانوں کی حالت زار پر بات کی جارہی ہے اور نہ ہی دفتر خارجہ اس پر کھل کر بات کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف اسے چین کا اندورنی معاملہ قرار دیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ چینی حکومت اس معاملے پر ردعمل دے چکی ہے۔ پاکستان کی اس پراسرار خاموشی کو عالمی سطح پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان فلسطینی، کشمیری، افغانی مسلمانوں سیمت دینا بھر کے مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرتا رہتا ہے وہیں چینی مسلمانوں کے معاملے میں پاکستان کی آواز بند ہے۔

کیا پاکستان سی پیک کی وجہ سے خاموش ہے؟ میگا منصوبے کے پاکستان پر کیا اثرات ہورہے ہیں؟

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی پراسرار خاموشی سی پیک کی وجہ سے تو نہیں؟ چین پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔ کیا یہ وجہ تو نہیں جس کی وجہ سے پاکستان خاموش ہے؟ اس سے قبل چینی نوجوان پاکستانی لڑکیوں سے شادیاں کرکے ان کی چین میں اسمگلنگ میں ملوث تھے۔ لیکن پاکستان کی طرف کوئی سخت ردعمل نہیں آیا اور نہ سخت کارروائی کی گئی۔ سی پیک کے خلاف پاکستان کے اندر سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چین نہ صرف پاکستان کی معیشت تباہ کرے گا بلکہ پاکستان کے معاشرتی نظام کو تباہ کر رہا ہے۔

چین اور مغربی دنیا کا اخلاقی فرق

چین میں نہ تو آزادی رائے ہے اور نہ ہی سیاسی آزادی۔ چین میں کیمونسٹ نظام حکومت ہے جہاں مذہب اور بولنے کی آزادی نہیں۔ دوسری طرف مغربی ممالک کی پالیسیز سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر وہاں نہ صرف سیاسی، سماجی اور رائے کی آزادی ہے بلکہ وہاں ہرشخص اپنی مرضی سے اپنے مذہب کر عمل کرسکتا ہے۔ ہرشخص کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ اگر امریکا دنیا کی سپر پاور ہے اور مغربی ممالک دنیا میں ترقی کر رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ معاشرے میں مختلف طبقات اور مذاہب کی مکمل آزادی ہے۔ مختف قومیت، مذاہب اور معاشروں کے لوگ ایک گلدستے کی طرح حسین انداز میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
چین میں ایک گھٹن کا ماحول ہے۔ اقلیتوں پر زندگی تنگ کردی گئی ہے اور میڈیا کو بھی آزادی نہیں تاکہ زمینی حقائق دنیا کے سامنے آسکیں۔

 

چین کو کیا کرنا چاہیے

اگرچہ چین کا موقف ہے کہ سنکیانگ کے مسلمان مکمل طور آزاد ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں لیکن چینی مسلمانوں کی حالت زار کا کسی کو علم نہیں۔ اگر چین سمجھتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا اس کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے ایسی خبریں گڑھ رہا ہے تو چین کو بین الاقوامی تنظیموں اور میڈیا کو ان کیمپس تک رسائی دینی ہوگی تاکہ حقیقت سامنے آئے۔
چین کو سمجھنا ہوگا کہ اگر آپ دوسرے ممالک سے تعلقات استوار کرتے ہیں تو تہذیبوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ اگر آپ مسلم، عیسائی یا ہندو ممالک سے تجارت کریں گے تعلقات استوار کرنے کی منصوبہ بندی کریں گے تو لازم ہے کہ معاشرتی نظاموں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔ چین کو فراغ دلی سے نہ صرف دین اسلام بلکہ دیگر مذاہب کو بھی قبول کرنا چاہیے اور شہریوں کو اپنی زندگی گزارنے کی مکمل آزادی دینی چاہیے۔

By: Umaid Azhar

Journalist/ International Relations’ Scholar

E-mail: umaid_azhar@yahoo.com

 


شیئر کریں: