شہری درمیانے طبقہ کے دانشور عوام سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟

شیئر کریں:

لیل و نہار / عامر حسینی

آصفہ بھٹو زرداری کا سرائیکی خطے میں والہانہ استقبال کے بعد درمیانے طبقے کے شہری دانشوروں نے اس والہانہ استقبال کو صدیوں کی غلام ذہنیت کے اثرات کا نتیجہ قرار دے ڈالا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی انتہائی مہنگی پرائیویٹ یونیورسٹیوں سے پڑھے لکھے چند نوجوانوں نے آصفہ بھٹو زرداری کے بارے میں، میرے لکھے گئے الفاظ پر اظہار افسوس کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میرے جیسے انتہائی پڑھے لکھے شخص کے منہ سے موروثی سیاست کو تقویت دینے والی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔ ان میں سے کچھ بوتیک لیفٹ اور انقلابی لفاظی کے مارے نوجوان ہیں جنھیں میرا گزشتہ کالم بھی بہت تکلیف دہ لگا ہے۔ یہ تنقید صرف مجھ پر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر اس لکھاری اور دانشور پر ہورہی ہے جو ترقی پسند جمہوری سیاست کے حق میں ہے۔

میں سوشل میڈیا اور پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ایک سیکشن میں درمیانے طبقے کے شہری دانشوروں کی ایک پرت اور ان سے متاثرہ نوجوانوں کی اس تنقید کو پڑھنے کے بعد اس سوچ میں پڑھ گیا ہوں کہ آخر اس درمیانے طبقے کے شہری دانشوروں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ یہ 70ء کی دہائی میں بھی ایسی ہی سوچ کا مالک تھا اور آج بھی اسی سوچ کا مالک ہے۔ آپ یہ سوال کریں گے کہ میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں کہ ستر کی دہائی اور آج 2020ء کے درمیانے طبقے کے شہری دانشور گروہوں کی سوچ میں کوئی فرق نہیں آیا؟

میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ 1977ء میں دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتوں نے سرمایہ داروں ، جاگیرداروں کی امداد سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس تحریک میں ترقی پسند، سوشلسٹ اور قوم پرست کہلانے والی نیشنل عوامی پارٹی(جو کالعدم تھی) سے بننے والی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی-این ڈی پی ، اصغر خان کی جماعت تحریک استقلال بھی شامل ہوگئی۔ جی ایم سید نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کردیا اور کہا جو سندھی قوم پرست اس تحریک کی حمایت نہیں کرے گا وہ سندھ قوم کا غدار کہلائے گا(بحوالہ ڈاکٹر فیروز احمد کے مضامین مطبوعہ پاکستان اسٹڈی سینٹر ،جامعہ کراچی)۔ اس زمانے میں جو سوشلسٹ اور کمیونسٹ تھے جو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹے ہوئے تھے نے بھی اپنے طور پر بھٹو حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا۔ اور اس طرح سے پاکستان کے شہری علاقوں میں درمیانے طبقے کی اکثریت کی حمایت لیے ہوئے ایک بہت بڑی تحریک ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف کھڑی ہوگئی جس نے اعلانیہ مذہب کا ہتھیار استعمال کیا اور یہ تحریک نظام مصطفی کہلائی۔ یہاں تک کہ لوگ پی این اے کی بجائے نظام مصطفی تحریک سے اسے یاد کرنے لگے۔

پاکستان کے درمیانے طبقے کے شہری دانشوروں کا ستر کی دہائی میں المیہ کیا تھا؟ یہ دانشور طبقہ بھٹو سے عوام کی محبت کو جاگیرداری سماج میں محکوم طبقات کی غلامی کی خو اور عادت کو سمجھتا تھا۔ لیکن اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا کہ آخر بھٹو نے جرم کیا کیا ہے(تھا) کہ حکمران طبقوں کے اتنے سارے طاقتور حلقے اور ملک کی تمام رجعت پرست قوتیں اس کے خون کی پیاسی ہوگئیں ہیں(تھیں)؟ دوسری طرف اس نے عوام پر کون سا احسان کیا ہے کہ ان کی اکثریت بھٹو پر اپنی جان نچھاور کرتی ہے؟(اور اب اس کی سیاست میں آنے والی اولاد پر جان نثار کرتی ہے)؟ یہ سوال آج سے 44 سال پہلے کراچی سے شایع ہونے والے رسالے “پاکستان فورم” کے جلد ایک شمارہ چار کی فروری 1978ء کی اشاعت میں ایڈیٹر ڈاکٹر فیروز احمد نے اٹھائے تھے۔ یہ رسالہ پاکستان کے نامی گرامی مارکس واد دانشور سبط حسن و دیگر کی مجلس ادارت میں شایع ہوتا تھا۔

ڈاکٹر فیروز احمد نے اپنے اس معرکۃ الآرا مضمون میں لکھا تھا:

“اگر پاکستان کی سیاست کو سمجھنا ہے تو بھٹو کو سمجھنا پڑے گا۔ بھٹو کو سمجھنے کا مطلب اس کی شخصیت اور اس کے گرد تاریخی و سماجی عوامل کو سمجھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر فیروز احمد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بھٹو پر لکھنے والوں نے کبھی تو اس کا موازانہ سوئیکارنو، قذافی، آئیندے(الاندے چلی) ،لوئی بونا پارٹ سے کیا اور کچھ اسے فاشسٹ کہا اور کچھ اسے محض “سندھی وڈیرہ” کہتے ہیں لیکن اگر وہ وڈیرہ و فاشسٹ محض تھا تو عوام میں وہ اتنا مقبول کیوں ہے؟ وہ ظالم ہے مظلوموں کی اکثریت اس کے ساتھ کیوں ہے؟ اس کے جرائم اگر ہیں تو عوام ان جرائم کو نظر انداز کیوں کرتے ہیں؟

ڈاکٹر فیروز احمد نے یہ سوالات اٹھانے کے بعد نہایت لطیف طنز کرتے ہوئے لکھا:

” شہری دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں”

” ہم سمجھتے ہیں مسئلہ عوام کی جہالت یا بھٹو کے طلسم کا نہیں بلکہ درمیانے طبقے کے دانشور حضرات کی اپنے عوام اور سماجی حقائق سے دوری اور اجنبیت (ایلی نیشن) کا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر فیروز احمد اس سے آگے شہری درمیانے طبقے کے دانشورروں کی سماجی طبقاتی بنیادوں کا تجزیہ کرتا ہے اور اسے نوآبادیاتی و پس نوآبادیاتی پس منظر کے ساتھ واضح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیسے اس طبقے کے انتظامی اختیارات بڑھنے سے پیدا ہونے والی خوداعتمادی میں اضافے اور غیر پیداواری شعبے کی بے لگام ترقی نے اسے مادی خوش خالی اور آسودگی تک پہنچایا۔ اس طبقے کی ترقی نے اس کے اور محنت کش عوام کے درمیان معیار زندگی میں خلیج پیدا کی اور اس طبقے کی فکر بھی محنت کش طبقے کی فکر سے کہیں زیادہ مختلف ہوگئی۔

“سماج کے ہر طبقے کی سوچ بالآخر اپنے معروضی حالات اور مستقل مفاد سے متعین ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہر نظریے فلسفے یا سیاسی فکر کواپنے حالات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی ہر تشریح کو مجرد صداقت بناکر مذہبی جنون کے ساتھ اس کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں۔ درمیانہ طبقہ اپنی تعلیمی برتری کی وجہ سے اس کام میں ماہر ہے اور وہ بڑی ہوشیاری سے اپنے طبقاتی مفادات کا نظریاتی جواز پیدا کرلیتا ہے۔”
“محنت کش طبقوں کے پاس نہ وہ تعلیم ہے اور نہ ہی وہ اثر و رسوخ ۔ تاہم وہ ٹھوس ردعمل کے زریعے اپنی متبادل فکر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔”

ڈاکٹر فیروز احمد اور ان کے ساتھیوں نے پاکستان فورم کے پہلے تین شماروں میں بڑی تفصیل سے یہ بتایا تھا کہ پاکستان کی معشیت بنیادی طور پر غیر پیداواری اور طفیلیہ معشیت ہے۔ اس میں حکمران طبقات کی آپس کی سیاسی کش مکش کے پيجھے جو بنیادی معاشی مفاد کارفرما ہے وہ سرکاری خزانے کی لوٹ اور خرد رد ہے۔ صنعتی سرمایہ کاری اور زرعی ترقی کو بھی اس لوٹ کھسوٹ کے “فرنٹ” کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اس تجزیہ کو بنیاد بناکر انھوں نے درمیانے طبقے کے بارے میں لکھا:

” جب ملک کے زرایع پیداوار کے مالکوں کی توجہ کا مرکز ہی غیر پیداواری شعبے کی لوٹ کھسوٹ ہو تو اندازہ کیجئے کہ پیداواری عمل سے کٹے ہوئے درمیانے طبقے کی حالت کیا ہوگی؟ بھٹو کے اقتدار میں آنے سے پہلے یہی درمیانہ طبقہ تھا جسے “بائیس خاندانوں ” کی سب سے زیادہ تکلیف تھی۔ بھٹو دور میں اسے “وڈیرہ شاہی” فوبیا نے ستا مارا۔ وہ اپنے آپ کو اعلی سرکاری عہدوں، پلاٹوں، پرمٹوں، ترقیوں، رشوتوں اور بیرونی سیر وسفر اور سرکاری توسط سے ملنے والی دیگر سہولتوں کا تنہا مالک سمجھتا تھا اس سے یہ بات کیونکر برداشت ہوتی کے “جٹ اور وڈیرے”(شہری و دیہی غریب) بھی اس بہتی کنگا میں ہاتھ دھوئيں۔”

ڈاکٹر فیروز احمد نے اپنے اس مضمون میں دلائل سے ثابت کیا کہ بھٹو نے شہری اور دیہی غریبوں اور زمینداروں کو ملازمتوں اور مراعات میں شریک کیا۔ یہ شراکت داری شہری درمیانے طبقے کے لیے بھٹو کے خلاف غضبناکی کا سبب بن گئی ۔ ان کے خیال میں سندھ اور پنجاب کے شہری علاقوں میں قومی اتحاد کی تحریک کا زور تھا اور اس کے پیچھے سندھ میں مہاجر درمیانہ طبقہ تھا اور پنجاب میں بھی اس کی حمایت میں سب سے بڑا عنصر درمیانے طبقے کا تھا۔

ڈاکٹر فیروز احمد کا خیال یہ ہے کہ ایوب خان کی آمریت سے تنگ آکر عوام میں جو بغاوت پھیلی تھی اس کا اثر شہروں تک محدود رہا تھا۔ لیکن نظام کو الٹ دینے کی تحریک کو دیہی عوام تک پہنچانے کا کام پاکستان پیپلزپارٹی نے سرانجام دیا تھا۔

” اس انقلاب کو برپا کرنے میں بھٹو کے محرکات کیا تھے، یہ بعد کی بات ہے، فی الحال یہ مان لیں کہ جو کام ہمارے ملک کی سند یافتہ ترقی پسند، انقلابی، مارکسی لیننی اور “پرولتاری پارٹیاں” پچیس سال بلکہ اس سے زیادہ عرصے میں نہ کرسکیں ، اسے بھٹو نے دو تین سال میں کر دکھایا تھا۔ کوئی مشینی مادیت پرست اگر یہ کہے کہ ‘یہ تو ہونا ہی تھا، اگر بھٹو نہ کرتا تو کوئی اور کرتا’ مجھے اس کی بے بسی پر رحم ہی آئے گا”

“حقیقی ترقی پسند رہ ہے جو بہانے بنانے کی بجائے اپنی کمزوریوں اور معروضی حقائق کو تسلیم کرتا ہو۔ اور معروضی حقیقت یہ ہے کہ بھٹو نے اپنے عوامی نعروں اور عوامی طرز سیاست سے نہ صرف کچلے ہوئے عوام کو بیدار کیا اور رجعت پسند سیاست دانوں کو شکست دی بلکہ “نظریاتی ‘ ترقی پسندوں کی کمزوری اور عوام سے دوری کا پردہ بھی چاک کردیا”

ڈاکٹر فیروز احمد نے کہا کہ درمیانہ طبقہ، بمعہ اپنی ترقی پسند رجمنٹ کے اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ عوام بھٹو سے کیوں محبت کرتے ہیں۔”

ڈاکٹر فیروز احمد کہتا ہے کہ پیپلزپارٹی اگر بازی جیت گئی تو اس کا سبب اس کی لیڈرشپ کا جاگیردار یا وڈیرہ ہونا نہیں بلکہ اس کی سیاسی بصیرت اور تدبر تھا اور اس نے اقتدار بھی جاگيرداری کی بیساکھیوں کے سہارے نہیں بلکہ جاگیردارانہ نظام میں انتشار پیدا کرکے حاصل کیا تھا۔ اس نے عوام سے براہ راست خطاب کی بنیاد ڈالی۔ عوام کو ان کی نجات کے نعرے دیے۔ اور ان کو ترقی پسندانہ خطوط پر متحرک کیا۔ یہ بت شکنی تھی ناکہ جاگیرداروں کی پوجا۔ پاکستان کے جاگیرداروں، خوانین، سرداروں نے بھٹو کے جرم کو معاف نہیں کیا تھا- وہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ وہ کسانوں اور دیہی غریبوں کے مقابلے میں تو بہت طاقتور تھے لیکن فوج اور سول افسر شاہی کے آگے بے بس تھے۔ نوکر شاہی کی اعانت کے بغیر اپنی سماجی طاقت کو بھی استعمال کرنے کے قابل نہیں تھے۔ یہی نوکر شاہی ان کی زمینوں اور ان کے اکاؤنٹس پر قبضہ کرلیتی تو یہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ پیپلزپارٹی نے سندھ و جنوبی و مغربی پنجاب کی دیہی اشرافیہ کو ایک ایسی پارٹی فراہم کی جس کی بنیاد شہری و دیہی غریبوں میں تھی اور وہ ان کو اقتدار کی سیڑھی تک جانے کا موقعہ فراہم کرسکتی تھی۔ پیپلزپارٹی نے جاگیرداروں کو کافی فائدہ تو پہنچایا لیکن جاگیرداری نظام کو مستحکم نہیں کیا۔ یہ بات شہری درمیانے طبقے اور اس کے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کو سمجھ نہیں آتی۔ یہ ہی بات اس طبقے کی ترقی پسند رجمنٹ کے پلے نہیں پڑتی جسے فیوڈل سماج کے بارے میں پتا ہی نہیں ہے۔

ڈاکٹر فیروز احمد نے شہری بیوروکریٹک طبقے کی پاکستان پیپلزپارٹی سے دشمنی اور نفرت کا سائنسی تجزیہ کرتے ہوئے لکھا:

“پیپلزپارٹی کے دور میں جاگیرداروں اور متوسط طبقے کے زمینداروں کو خوش رکھنے کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ ان کے اور عام کسانوں اور کھیت مزدروں و دیہی غریبوں کے درمیان پیداواری رشتوں کو اور جابرانہ بنایا جائے اور کسان کا اور استحصال ہو۔ بلکہ مثبت زرعی پالیسی جس کے تحت قرضوں، سرکاری اعانت، کھاد کی رعایتی قیمت اور زرعی فصلوں کی قیمتوں میں استحکام اور زراعت کی نسبتی تجارت کو تھوڑا سا بہتر بنایا گیا۔ جاگیردار سیاست دانوں کو سرکاری حثیت سے یا افربا پروری کے زریعے مراعات دی گئیں اس بات کا شہری بیوروکریٹک طبقے کو صدمہ ہے۔۔۔۔۔ بھٹو نے درحقیقت فیوڈل طبقے کو استحصال کے روایتی انداز سے ہٹاکر جدید نوآبادیاتی طریقے سے مالا مال ہونے کا ڈھنگ سکھایا۔”

“شہری درمیانے طبقے کو تو شاید “دما دم مست قلندر” بھی مضحکہ خیز معلوم ہو۔ لیکن عوامی ثقافت، عوامی موسیقی اور عوامی فنکاروں کی ہمت افزائی کرکے عوامی علامتوں کو استعمال کرکے اور عوام سے ان کے اپنے محاورے میں مخاطب ہوکر پی پی پی نے اس دھرتی کی ثقافتی قدروں اور لوک ورثے کو اجاگر کیا”

“بعض ترقی پسندوں کا خیال ہے کہ داتا گنج بخش اور قلندر کی درگاہوں پر سونے کی انٹیں لگا کر پیر پرستی کی حوصلہ افزائی کی گئی لیکن اگر جاگیردارانہ سیاق و سباق میں دیکھا جائے تو یہ زندہ پیروں اور مولویوں کے غلبے کو ختم کرنے کے لیے وصال پاجانے والے پیروں کا ٹیکٹکل (تدبیری) استعمال ہے”

” بھٹو کی پیپلزپارٹی نے جتنا عوام کو دیا عوام اس سے بھی کہیں زیادہ کے مستحق ہیں۔ لیکن وہ لوگ جن کو ہمیشہ لوٹا گیا تھا اور دیا کچھ بھی نہیں گیا تھا، پہلی (دوسری اور تیسری حکومت میں) کچھ ملنے پر کیفیتی تبدیلی محسوس کریں گے۔۔۔۔ پی پی پی کے دور میں عوام کا احساس تشکر اس احساس نجات سے نتھی ہوگیا جو پیپلز پارٹی نے اپنے نعروں اور طرز سیاست سے پیدا کیا۔”

پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کو مارکسی پیمانوں پر ناپنے والوں کو یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پی پی پی اور اس کی قیادت نے ایسا دعوی نہ پہلے کبھی کیا اور نہ آج کرتی ہے لیکن وہ یہ ضرور کہتے آئے ہیں مکمل قومی آزادی اور سماجی انقلاب کے بغیر آزادی، ترقی اور سماجی انصاف ممکن نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اس ملک میں سماجی انقلاب نہیں لائی اور نہ وہ لاسکتی تھی اور نہ لاسکتی ہے۔ لیکن اس نے عوام کو اس کی ضرورت محسوس کرائی اور آج بھی یہی پارٹی ہے جس کا کارکن اور ووٹر سماجی انقلاب کا نعرہ برداشت کرتا اور اسے آگے بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مغربی پاکستان کے کونے کونے اور گلی کوچوں میں اگر سامراج سے نفرت اور سوشلزم کے نفاذ کا نعرہ کسی نے پہنچایا تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ عوام کو حقیقی طور پر طافت کا سرچشمہ نہیں بنا پایا لیکن عوام کو یہ احساس تو دلایا کہ وہ طاقت کا سرچشمہ بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر فیروز احمد نے پاکستان فورم میں لکھے مضامین میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوگئی تو صاف صاف لکھا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اندر فوجی جنرل سے مزاحمت اور لڑائی کا مادہ اگر کسی میں ہے اور عوام جن کے پیچھے چلیں گے تو وہ بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو ہیں اور وہی ترقی پسند چہرہ ہیں اور عوام ان کو چاہتے ہیں۔

آج بھی جن وجوہات کی بنیاد پر عوام میں پیپلزپارٹی کو جن حلقوں نے محبت دی وہ بھٹو کی بیٹی کے بعد بھٹو کے نواسے اور نواسی کے پیچھے چلنے پر آمادہ ہیں۔ وہ ان سے ملک کی رجعت پسندانہ اقدار کے دشمن کی حثیت سے پیار کرتے ہیں ناکہ کی موروثیت اور جاگیردارانہ خوئے غلامی کے سبب۔ وہ ان کو حکمرانوں طبقوں کے خلاف اپنی مزاحمت کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسی لیے ملک کے رجعت پرست ان سے اتنی ہی زیادہ نفرت کرتے ہیں۔ اگر بھٹوز عام فیوڈل سیاست دان ہوتے تو اتنا واویلا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔

ڈاکٹر فیروز احمد کے لکھے یہ جملے آج کے درمیانے طبقے کے شہری دانشوروں پر فٹ بیٹھتے ہیں:

” بھٹوز اور ان کی پیپلز پارٹی سے عوام کی محبت کو عوام اور عوام دشمن قوتیں دونوں خوب سمجھتی ہیں۔ اگر کوئی نہیں سمجھتا تو وہ درمیانے طبقے کا ایک حصّہ ہے جو عوام دوستی کا دم بھرنے کے باوجود عوام کے جذبات کا احترام نہیں سمجھتا۔ دراصل وہ اپنے طبقاتی مفادات اور عوام سے دوری کی وجہ سے “عوام فوبیا” میں مبتلا ہے جسے وہ بھٹو فوبیا کی آڑ میں چھپاتا ہے۔ اسے ایک ایسے نظریہ کی ضرورت ہے جو مذہب یا انقلاب کے نام پر” پڑھے لکھے” لوگوں کی حکمرانی کا جواز پیدا کرے۔”

” دائیں بازو کی طرف سے جماعت اسلامی نے صالحین کا نظریہ دے کر ( تحریک انصاف نے انصاف اور ایماندار، دیانت دار، احتساب کے نعروں کو پھیلاکر) شہری خصوصا مہاجر درمیانے طبقے کے مفادات کا جواز پیدا کردیا ہے اور ان کے لیے سیاسی راہ متعین کردی ہے۔ لیکن وہی مفادات اور وہی عصیبت رکھنے والے بع عناصر حادثاتی طور پر “ترقی پسند” ہوگئے ہیں۔ وہ بھی موجودہ کشمکش میں درمیانے طبقے کے عوام دشمن رجحانات کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہیں اور عملا جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کیے ہوئے ہیں۔ لیکن اپنی انفرادیت برقرار رکھنے کے لیے انھیں بائيں بازو (آج کل لبرل) کے لیبل کی ضرورت ہے۔ (یہ لبرل صالحین) اور بائيں بازو کے صالحین عوام سے دوری اور اور صالحین گردی (اشراف پسندی) کا اظہار ” خالص ترقی پسندی، حقیقی انقلابیت اور حقیقی بایاں بازو” کے نام پر کرتے ہیں اور پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت پر لعن طعن جاری رکھتے ہیں۔

“پاکستان کی موجودہ سیاست (ضیاءالحق کے پہلے سال) میں تمام بائیں بازو کی پارٹیوں کی بے بسی ، اندرونی خلفشار اور بحران درمیانے طبقے کے موجودہ بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ جتنی تیزی کے ساتھ عوام کی اپنے ملک اور اس کی سیاست سے بيگانگی کو ختم کرنے کاعمل آگے بڑھ رہا ہے، اتنی ہی تیزی سے شہری سرمایہ دار اور درمیانے طبقے کی بے زاری اور دوری کا عمل بھی تیز ہورہا ہے۔ بھٹو فوبیا ‘درحقیقت امیر اوردرمیانے طبقے کا “عوام فوبیا” ہے اور بھٹو سے عشق حقیقت میں فاشسٹ اور بونا پارٹسٹ قوتوں کے خلاف عوام کی مزاحمت کا اظہار ہے۔”

آج جب 44 سال گزر چکے تب بھی کل کے بائیں بازو اور آج کے لبرل سابق بایاں بازو کے گروہوں کی بے بسی ، اندرونی خلفشار اور بحران درمیانے کے موجودہ بحران کی عکاسی کرتا ہے(اس میں درمیانے طبقے کے پی پی پی مخالف قوم پرست بھی شامل ہیں)۔ بلاول بھٹو ہوں یا آصفہ زرداری ہوں ان کے بارے میں ان کے نفرت انگیز بیانیے عوام فوبیا کا عکس ہیں اور مسئلہ بلاول بھٹو یا آصفہ زرداری کا نہیں ہے بلکہ ان کو تکلیف اس بات کی ہے کہ مظلوم عوام کی ایک بہت بڑی تعداد بھٹوز اور پیپلزپارٹی کو ہی کیوں مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں؟ ان کو کبھی بلاول اور کبھی آصفہ میں بھٹو اور بے نظیر کیوں نظر آتے ہیں؟ اور درمیانے طبقے کا شہری دانشوروں کی انقلابی لفاظی اور نمائشی شوخ مزاحمت مزاحمت کیوں نہیں لگتی۔

“اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ یہاں کوئی بورژوا پارٹی بھی ووٹوں کے زریعے حقیقی اقتدار پر قبضہ نہیں کرسکتی۔ ریاستی طاقت کا اصل سرچشمہ فوج اور سول نوکر شاہی ہیں۔ ان کی منشا کے خلاف ملکی کی مقبول ترین سیاسی جماعت بھی کچھ نہیں کرسکتی۔ بھٹو فوبیا میں مبتلا لوگ کیوں اس حقیقت کو سمجھنا نہیں چاہتے ۔ سیاست کرنے کے لیے ریاست کو سمجھنا لازمی ہے۔ ورنہ اپنی تمام نیک خواہشات کے باوجود رجعت پسندوں اور بونا پارٹسٹوں کے ہاتھ کا باز بنیں رہیں گے”

(پاکستان فورم، جلد ا، شمارہ 4،فروری 1978۔۔۔۔۔۔ مجموعہ مضامین ڈاکٹر فیروز احمد مطبوعہ کراچی اسٹڈی سینٹر جامعہ کراچی)


شیئر کریں: