بھارت میں ہندو لڑکی مسلمان لڑکے کی شادی پولیس اجازت کے بغیر نہیں ہو سکے گی

شیئر کریں:

بھارت میں بین المزاہب یعنی ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کی شادی پر پابندی کا قانون
نافذ کر دیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں یہ قانون ایک ہفتہ پہلے ہی ریاست اترپردیش میں لاگو کیا گیا ہے۔
قانون کے تحت شادی کے ذریعے زبردستی ہندو لڑکی کا مزہب تبدیل نہیں کرایا جا سکتا۔

اترپردیش کے دارلحکومت لکھنو میں شادی کی تقریب جاری تھی کہ عین موقع پر پولیس پہنچ گئی۔
پولیس لڑکی اور لڑکے کے اہل خانہ کو اپنے ساتھ تھانے لے گئی دونوں خاندانوں کو پیپر دے دیے۔

زبردستی تبدیلی مزہب آرڈیننس 2020 کے تحت شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کو ڈسٹرکٹ
مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔
خصوصا ہندو لڑکی کو مجسٹریٹ کو اپنی رضامندی سے آگاہ کرنا ہو گا اور اگر وہ اپنا مزہب تبدیل
کرے گی تو اس کا بھی دو ماہ پہلے پولیس کو بتانا ہو گا۔

انتہا پسند ہندوں نے ہندو لڑکی اور مسلمان لڑکے کی شادی کی “لو جہاد” بھارت میں “لوجہاد” کی صورت “اسلاموفوبیا” کی نئی لہرکا نام دے رکھا ہے۔
لو جہاد کے خلاف ریاستی سرپرستی میں مہم چلائی گئی اور پھر اس کے خلاف آرڈیننس پاس کیا گیا۔

حالانکہ عدالت بھی فیصلہ دے چکی ہے کہ بھارت میں “لوجہاد” کے خلاف جاری انتہا پسندوں کی مہم پر عدالت کا بڑا فیصلہجب بالغ لڑکی اپنی مرضی سے شادی کر رہی ہے تو
اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
آرڈیننس کے مطابق ہندو لڑکی کا مزہب تبدیل کرنے کے لیے کی گئی شادی پر لڑکے کو پانچ سال سزا اور جرمانہ ہو گا۔
اس مقدمہ میں مسلمان لڑکے کو ضمانت کا حق بھی نہیں دیا گیا۔


شیئر کریں: