اسلام آباد کا پمز اسپتال بند،180 ملازمین میں کورونا کی علامات

شیئر کریں:

اسلام آباد سے ایم اے چوہان
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز کے ڈاکٹر سمیت 180 سے زائد ملازمین میں کورونا
کی علامات ظاہر ہونے پر بیرونی مریضوں کے لیے تمام وارڈز بند کر دیئے گئے ہیں۔

عوام کا کہنا ہے کہ انہیں مفت علاج کی سہولت سے محروم رکھنے کا یہ اچھا طریقہ نکال لیا گیا ہے۔
کیا پرائیویٹ اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور ملازمین کو کورونا نہیں ہوتا؟
دوسری طرف انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کورونا پھیلنے کے باعث یہ وارڈز بند کیے گئے ہیں کورونا کی دوسری
لہر خطرناک نتائج کا سبب بننے لگی ہے۔
شہر کے سب سے بڑے اسپتال پر مریضوں کے مسیحا خود تیزی سے کورونا کا شکار ہونے لگے۔

اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے اسپتال میں ہزاروں کی تعداد میں مریض آتے ہیں اور انہیں علاج کی سہولیات
فراہم کرنا پمز کی زمہ داری ہے لیکن وبا زیادہ نا پھیلے۔
اسی لیے صرف ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کے علاج کو ترجیح دی گئی ہے۔
کورونا کے محاظ پر فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈٓکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کا کہنا ہے کہ علاج ان کی زمہ داری ہے اور احتیاط عوام کا فرض اگر عوام خود احتیاط کریں تو اسپتال سے جان چھوٹ جائے گی اور خطرناک وبا سے بچاو ممکن ہے۔


شیئر کریں: