بھارت میں “لوجہاد” کے خلاف جاری انتہا پسندوں کی مہم پر عدالت کا بڑا فیصلہ

شیئر کریں:

بھارت میں انتہاپسند بی جے پی مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔
انتہا پسندوں نے مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی اس شادی کو “لو جہاد” کا نام دے کر
مہم چلا رکھی ہے۔
انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ مسلمان ہماری لڑکیوں کے ساتھ شادی کر کے اپنی نسل بڑھا رہے ہیں۔

نئی دہلی ہائی کورٹ کے بینچ نے اسی نوعیت کے ایک کیس میں فیصلہ دیا ہے بالغ لڑکی جس کے ساتھ
اور جہاں چاہے شادی کر کے رہ سکتی ہے۔

ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تھی کہ جس میں کہا گیا تھا 20 سالہ بیٹی 12 ستمبر سے غائب ہے۔
مسلمان لڑکے بابو نے اغوا کر لیا ہے عدالت کے حکم پر لڑکے لڑکی کو تلاش کیا گیا اور
ویڈیو لنک پر سماعت ہوئی۔

لڑکی نے جج سے کہا اس نے مرضی سے بابو سے شادی کی ہے جس پر عدالت نے فیصلہ دیا لڑکی
کو حق حاصل ہے جہاں چاہے وہ رہے۔
اس کے ساتھ ہی کیس نمٹا دیا گیا لیکن اس فیصلہ پر انتہاپسندوں کے چہرے لٹک گئے۔


شیئر کریں: