کراچی میں بڑی کارروائی ناکام، افغانستان سے آنے والے طالبان کے 3 دہشت گرد گرفتار

شیئر کریں:

کراچی میں رینجرز نے انٹیلی جنس بنیاد پر گلشن معمار میں مشترکہ کارروائی کر کے کالعدم تحریک
طالبان کے تین دہشت گرد گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

گرفتار دہشت گردوں میں یاسین عرف قاری،اکرام اللہ عرف فیصل اور محمد خالدعرف عمر شامل ہیں۔
دو دہشت گرد حال ہی میں افغانستان سے آئے تھے اور کراچی میں دہشت گردی کی کارروائی کرنا
چاہتے تھے۔

ملزمان کا تعلق ٹی ٹی پی کمانڈر قاری سعد بلال عرف ہمایوں گروپ سے ہے۔
رینجرز کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے متعدد کاروائیوں میں ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا ہے۔

گرفتار دہشت گرد یاسین عرف ابو حنظلہ عرف قاری کا تعلق ٹی ٹی پی کمانڈر سعد بلال عرف
ہمایوں گروپ سے ہے۔

ملزم انتہائی عسکری تربیت یافتہ ہے دو سال سے ٹی ٹی پی کمانڈر قاری سعد اور کمانڈر موسیٰ
سے رابطے میں تھا۔

گرفتار ملزم کراچی میں تخریبی کاروائیوں میں سرگرم تھا ملزم نے کراچی میں اہم تنصیبات جس میں
قائد اعظم انٹر نیشنل ایئرپورٹ امریکی قونصلیٹ اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی ریکی
بھی کر رکھی تھی۔
ملزم نے ان مقامات کی ویڈیو بنا کر قاری سعد بلال اور موسیٰ کو بذریعہ ٹیلی گرام بھیجی۔

دہشت گرد اکرام اللہ عرف فیصل کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے۔
ملزم نے سوات میں گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول شکر درہ،گورنمنٹ بوائز اسکول شکر درہگرلز
پرائمری اسکول شکر درہ ، پولیس اسٹیشن شکر درہ کو بارود لگا کر تباہ کرنے کی کاروائیوں میں ملوث ہے۔

دہشت گرد خالد عرف منصور عرف عمر کا تعلق ٹی ٹی پی سے ہے اور یاسین عرف حنظلہ عرف قاری کا
انتہائی قریبی ساتھی ہے۔

یاسین عرف ابو حنظلہ کے ہمراہ دہشتگردی کے تمام کاروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
ملزم ٹریننگ یافتہ ہے اور دہشت گردی کی کاروائیوں کے بعد افغانستان میں رپوش رہا ہے۔

ملزم کچھ عرصہ قبل افغانستان سے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ کراچی میں دہشت گردی کی بڑی
کارروائی کیلئے آیا تھا۔
ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا مزید قانونی کاروائی کیلئے پولیس کے
حوالے کردیا گیا۔


شیئر کریں: